آئی پی ایل تک کین ولیمسن کو فٹ ہونے کی اُمید

ولیمسن نے کہاکہ میں اب بہتر ہوں اور شائد نیدرلینڈکے خلاف سیریز تک میں مکمل طور پر صحت یاب ہو جاؤں گا۔ حیدرآباد فرنچائزی بھی میری حمایت کرتی ہے اور مجھے یقین ہے کہ میں آئی پی ایل کا پورا سیزن کھیلوں گا۔

ویلنگٹن: نیوزی لینڈ اور سن رائزرس حیدرآباد کے کپتان کین ولیمسن کو امید ہے کہ وہ آئی پی ایل 2022 سے پہلے پوری طرح فٹ ہوجائیں گے۔ حال ہی میں ان کی کہنی کی سرجری ہوئی ہے ۔ ولیمسن نے آئی پی ایل سے قبل مارچ اپریل میں ہالینڈ کے خلاف ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے سیریز کے لیے بھی مکمل فٹ ہونے کی امید ظاہر کی ہے۔

 31 سالہ ولیمسن نے جمعہ کے روز کو ایک بیان میں کہا، ’’میری کہنی کی چوٹ بہت پرانی ہے اور نیوزی لینڈ کرکٹ اور سن رائزرز کی ٹیم مینجمنٹ اس سے پوری طرح سے واقف ہے۔ میں اب اس سے مکمل طور پر صحت یاب ہونے کی کوشش کر رہا ہوں۔ میں اب بہتر ہوں اور شائد نیدرلینڈکے خلاف سیریز تک میں مکمل طور پر صحت یاب ہو جاؤں گا۔ حیدرآباد فرنچائزی بھی میری حمایت کرتی ہے اور مجھے یقین ہے کہ میں آئی پی ایل کا پورا سیزن کھیلوں گا۔

نیوزی لینڈ کے کپتان نے بتایا کہ وہ جنوبی افریقہ کے خلاف 17 فروری سے شروع ہونے والی ہوم ٹیسٹ سیریز میں واپسی کرنا چاہتے ہیں لیکن اب ایسا ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ سرجری کے بعد صحت یاب ہو رہے ہیں لیکن بہت آہستہ آہستہ جس کی وجہ سے وہ کچھ مایوس بھی ہیں۔ ولیمسن نے کہا کہ انہوں نے ان کھلاڑیوں سے بات کی ہے جن کی کہنی کی چوٹیں اور ماضی میں سرجری ہوئی ہے۔ اس میں سچن ٹندولکر، اسٹیون اسمتھ اور ان کے سن رائزرز حیدرآباد کے ساتھی منیش پانڈے شامل ہیں۔

واضح رہے کہ ولیمسن نے 2021 کے آئی پی ایل کے دوسرے مرحلے میں بھی کہنی کی چوٹ کے ساتھ کھیلا تھا۔ اس سے قبل اسی انجری کی وجہ سے وہ آئی پی ایل کے پہلے مرحلے کے چند میچز سے باہر ہو گئے تھے اور چوتھے میچ سے واپسی کی تھی ۔ اس کے بعد انہوں نے ڈیوڈ وارنر کی جگہ کپتان کا عہدہ سنبھالا، حالانکہ اس کے بعد ان کی ٹیم چھ میں سے پانچ میچ ہار گئی تھی اور سن رائزرز سیزن کے اختتام تک پوائنٹس ٹیبل پر آخری پوزیشن پر تھی۔ اس کے باوجود سن رائزرس حیدرآباد نے ولیمسن کو 14 کروڑ روپے دے کر ٹیم میں برقرار رکھا۔

آئی پی ایل کے بعد وہ یو اے ای میں ہونے والے آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ 2021 میں بھی کہنی کی چوٹ سے پریشان تھے۔ یہی نہیں، اس کی وجہ سے انہیں ہندوستان کے خلاف دوسرے ٹیسٹ سے بھی باہر ہونا پڑا۔ پھر وہ بنگلہ دیش کے خلاف گھریلوٹیسٹ سیریز بھی نہیں کھیل سکے تھے۔

ذریعہ
یواین آئی

تبصرہ کریں

Back to top button