آرین خان کو پھنسانے کی کوشش کی گئی تھی: ایس آئی ٹی

آرین خان اور دیگر 19 افراد کو گرفتار کیا تھا، مناسب تحقیقات نہیں کیں اور اس کیس کی دوبارہ تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی خصوصی تحقیقاتی ٹیم یا ایس آئی ٹی کو ان کی کارروائیوں میں سنگین بے قاعدگیوں کا پتہ چلا ہے۔

نئی دہلی: نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی) کی ٹیم جس نے ممبئی میں بحری جہاز پر منشیات کیس میں آرین خان اور دیگر 19 افراد کو گرفتار کیا تھا، مناسب تحقیقات نہیں کیں اور اس کیس کی دوبارہ تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی خصوصی تحقیقاتی ٹیم یا ایس آئی ٹی کو ان کی کارروائیوں میں سنگین بے قاعدگیوں کا پتہ چلا ہے۔

 ان بے قاعدگیوں میں ملزمین کا لازمی طبّی معائنہ سے گریز‘ دھاوؤں کی ویڈیو ریکارڈنگ نہ کیا جانا شامل ہے اور نہ واٹس ایپ چیاٹس کی کوئی تائیدی شہادت موجود ہے۔ نارکوٹکس کنٹرول بیورو کے ڈائرکٹر جنرل ایس این پردھان نے بتایا کہ اس کیس میں شواہد کافی نہیں ہیں، جب کہ ملزم کے خلاف زیادہ سے زیادہ شواہد اکٹھا کرنے کا سنہرا اصول موجود ہے۔

 این سی بی نے اپنے ایک بیان میں یہ بھی کہا کہ اس نے کیس کی دوبارہ تحقیقات کے دوران شک و شبہ کے بجائے شواہد پر اعتبار کرنے کے اصول کا اطلاق کیا۔ خصوصی تحقیقاتی ٹیم کے عہدیداروں کو پتہ چلا کہ این سی بی کی ٹیم کئی سنگین بے قاعدگیوں کی مرتکب ہوئی ہے اور ان کی تمام تر کوشش آرین خان کو اس کیس میں پھنسانے کی تھی۔

 این سی بی نے جمعہ کے روز ممبئی کی ایک عدالت میں اس کیس کے 14 ملزمین کے خلاف تقریباً 6 ہزار صفحات پر مشتمل چارج شیٹ داخل کی۔ اس نے 6 ملزمین بشمول آرین خان کے خلاف شواہد ناکافی ہونے پر کوئی الزامات عائد نہیں کیے۔

اس چارج شیٹ کے ساتھ کئی منسلکات بھی ہیں، جن میں ایک موبائل نمبر کی واٹس ایپ چیاٹس، گواہوں کے بیانات، ملزمین کے بیانات اور دیگر تکنیکی تفصیلات شامل ہیں جن کا کارکرد حصہ 400 صفحات پر مشتمل ہے۔ توقع ہے کہ عدالت جلد اس کا نوٹ لے گی۔

 ایس آئی ٹی کو پتہ چلا کہ جن ملزمین کے خلاف الزامات عائد نہیں کیے گئے ہیں، انہوں نے کوئی غیرقانونی کام نہیں کیاتھا اور نہ ان کا کوئی ایسا ارادہ تھا۔ بہرحال اس کیس میں ہمارے پاس 14 ملزمین کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ چارج شیٹ میں جن ملزمین کو کلین چٹ دی گئی ہے یا جن کے نام شامل نہیں کیے گئے ہیں ان میں آرین خان، سمیر سہگل، مانو سنگھل، بھاسکر اروڑا، گوپال جی آنند اور آون ساہو شامل ہیں۔

تبصرہ کریں

Back to top button