آسام سے 40 نعشیں آئیں گی اور پوسٹ مارٹم کے لئے سیدھے مردہ گھر بھیج دی جائیں گی: سنجے راوت

شیوسینا رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے پیر کے دن کہا کہ ان کی پارٹی ”اسٹریٹ فائٹ“ اور ”لیگل بیاٹل“ دونوں کے لئے تیار ہے۔ اتوار کے دن انہوں نے کہا تھا کہ آسام سے 40 نعشیں آئیں گی اور پوسٹ مارٹم کے لئے سیدھے مردہ گھر بھیج دی جائیں گی۔

ممبئی: شیوسینا رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے پیر کے دن کہا کہ ان کی پارٹی ”اسٹریٹ فائٹ“ اور ”لیگل بیاٹل“ دونوں کے لئے تیار ہے۔ اتوار کے دن انہوں نے کہا تھا کہ آسام سے 40 نعشیں آئیں گی اور پوسٹ مارٹم کے لئے سیدھے مردہ گھر بھیج دی جائیں گی۔

اس پر انہوں نے آج کہا کہ میں نے باغی ارکان اسمبلی کا ضمیر مردہ ہونے کی بات کہی تھی۔ میرے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ یہ لوگ اب زندہ نعش ہیں۔ میں نے کسی کے جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچائی۔

میں نے صرف اتنا کہا تھا کہ باغیوں کا ضمیر مرچکا ہے۔ شیوسینا کے ترجمان ِ اعلیٰ نے کہا کہ یہ قانونی لڑائی اور سڑکوں پر لڑنے والی لڑائی ہے۔ یہ ہوکر رہے گی اور پارٹی اس کے لئے تیار ہے۔ باغی رکن اسمبلی ایکناتھ شنڈے‘ ڈپٹی اسپیکر کی جاری کردہ نوٹس نااہلی کے خلاف اتوار کے دن سپریم کورٹ سے رجوع ہوئے۔

سنجے راوت نے کہا کہ باغی ارکان اسمبلی کو مہاراشٹرا واپس آنا ہوگا اور اصل ٹسٹ ریاستی اسمبلی میں ہوگا۔ آپ لوگوں کا غصہ نہیں روک سکتے۔ کوئی پولیس یا قانون اس پر قابو نہیں پاسکتا اسی لئے آپ لوگوں نے بی جے پی کی غلامی قبول کرلی ہے اور آپ کو پروٹیکشن مل گیا ہے۔

سنجے راوت شیوسینا کے کم ازکم 15 باغی ارکان اسمبلی کو سی آر پی ایف کمانڈوز کی وائی پلس سیکوریٹی کا حوالہ دے رہے تھے۔ شنڈے کیمپ پر تنقید کرتے ہوئے جس نے چیف منسٹر اُدھو ٹھاکرے سے کانگریس اور این سی پی کا ساتھ چھوڑدینے کا مطالبہ کیا ہے‘ سنجے راوت نے سوال کیا کہ باغی ارکان اسمبلی اُس بی جے پی کے ساتھ کیسے اتحاد کرسکتے ہیں جس نے کشمیر میں محبوبہ مفتی کی پاکستان نواز پی ڈی پی سے اتحاد کیا تھا۔

مرکز کی ایسی بی جے پی حکومت سے کیسے جڑا جاسکتا ہے جس کو یہ تک معلوم نہیں کہ 2019 میں پلوامہ میں 40 سیکوریٹی جوانوں کو ہلاک کرنے کے لئے دھماکو مادہ کہاں سے آیا تھا۔ انہوں نے باغی ارکان اسمبلی کو چیلنج کیا کہ وہ ایک مثال دیں کہ شیوسینا نے ہندوتوا کو کہاں ترک کیا۔ رکن راجیہ سبھا نے کہا کہ باغیوں کو مرکزی ایجنسیوں کو استعمال کرنے سے ووٹ ملنے والے نہیں۔

مہاراشٹرا کے وزیر اُدئے سامنت کے شنڈے کیمپ میں شامل ہونے پر سنجے راوت نے کہا کہ ایکناتھ شنڈے جیسا پارٹی میں 40 سال گزارنے والا سینئر قائد اگر پارٹی چھوڑکر جاسکتا ہے تو پھر کسی اور کے بارے میں کیاکہا جاسکتا ہے۔ شیوسینا کے بیشتر ارکان اسمبلی‘ ایکناتھ شنڈے کے ساتھ ہوگئے ہیں اور انہوں نے فی الحال آسام کے دارالحکومت گوہاٹی کی ایک لکژری ہوٹل میں پڑاؤ ڈال رکھا ہے۔

مہاراشٹرا میں چیف منسٹر اُدھو ٹھاکرے کی مہاوکاس اگھاڑی حکومت بحران میں گھرگئی ہے۔آئی اے این ایس کے بموجب اُدھو ٹھاکرے کے لڑکے آدتیہ ٹھاکرے نے کل بڑا انکشاف کیا تھا کہ ایکناتھ شنڈے کو 20مئی کو چیف منسٹری کی پیشکش کی گئی تھی لیکن اس وقت انہوں نے پس و پیش سے کام لیا تھا اور ٹھیک ایک ماہ بعد بغاوت کردی۔

تبصرہ کریں

Back to top button