آسٹریلیا‘ بڑی ٹیم نہیں : سمرتی مندھانہ

آسٹریلیا کو کامن ویلتھ گیمس کے اوپنر میں ہندوستان سے مقابلہ کا انتظار ہے لیکن بیاٹرسمرتی مندھانہ اس مسئلہ پر اپنی نیندحرام کرنے کے موڈ میں نہیں دکھائی دیتیں اور اپنے حریفوں کو اچھا احساس دلاناچاہتی ہیں۔

بنگلورو: آسٹریلیا کو کامن ویلتھ گیمس کے اوپنر میں ہندوستان سے مقابلہ کا انتظار ہے لیکن بیاٹرسمرتی مندھانہ اس مسئلہ پر اپنی نیندحرام کرنے کے موڈ میں نہیں دکھائی دیتیں اور اپنے حریفوں کو اچھا احساس دلاناچاہتی ہیں۔

ہمہ قسم کے کھیلوں کے ایونٹ میں ویمنس کرکٹ کے ڈیبیو سے قبل مندھانہ نے ٹی 20 ورلڈ کپ چیمپئنس کو ایک بڑی ٹیم قراردینے سے انکارکردیا۔ ہرمن پریت کور کی زیرقیادت ٹیم 29جولائی کو آسٹریلیا کے خلاف اپنی مہم شروع کرے گی اور مندھانہ نے کہا کہ یہ حریف ٹیم کے خلاف ان کے اپنے منصوبے ہیں۔

ہم کئی ٹورنامنٹس میں ان(آسٹریلیا) کے ساتھ اوپنرس میں سامنا کیا ہے اور ٹی 20 ٹورنامنٹ میں کوئی بھی ٹیم کسی کو شکست دے سکتی ہے اور میں آسٹریلیا کو ایک بڑی ٹیم قرارنہیں دیتی۔ مندھانہ نے یہ بات کہی۔ اس نے کہا کہ ہمارے ذہن میں یہ بات ہے کہ آسٹریلیا‘ پاکستان‘ اور باربیڈوس کے میاچس اہم ہیں‘ہم ان کا سامنا کرتے ہوئے کامیابی حاصل کریں گے۔

مندھانہ نے یہ بات کہی۔ ریکارڈ کے اعتبار سے ہندوستان کو ورلڈ کپ کے اپنے آخری میاچ میں آسٹریلیا سے شکست ہوئی۔ اگرچیکہ ہندوستان برمنگھم سی ڈبلیوجی میں اس وقت داخل ہوا جب اسے سری لنکا میں ٹی 20اور اوڈی آئی سیریز میں حال ہی میں کامیابی ملی اور مندھانہ نے کہا کہ ہماری تیاریاں حقیقتاً بڑی اچھی ہیں اور امید ہے کہ ہمیں اس کی بدولت میڈل تک رسائی حاصل ہوگی۔

آئی اے این ایس کے بموجب سمرتی مندھانہ نے کہا ہے کہ ان کی ٹیم کامن ویلتھ گیمس میں پوڈیم تک پہنچنے کی نہیں بلکہ گولڈ جیتنے کا مقصد رکھتی ہے جس کا 29جولائی سے آغاز ہورہا ہے۔ کرکٹ 24برسوں بعد سی ڈبلیو جی میں پہلی بار واپسی کررہا ہے اور خواتین کیلئے پہلے ٹورنامنٹ کھیلنے کا موقع مل رہا ہے۔8 ٹیمیں 16 میاچس کھیلیں گی اور فاتح کو خطاب ملے گا۔

7اگست تک تمام میڈلس کو قطعیت دیدی جائے گی۔ہندوستان گروپ ’اے‘ میں آسٹریلیا‘باربڈوس اور پاکستان کے ساتھ ہے جبکہ گروپ ’بی‘ میں میزبان انگلینڈ اور نیوزی لینڈ‘ساؤتھ آفریقہ اور سری لنکا شامل ہیں۔ ہندوستان اپنا افتتاحی میاچ میگلاننگ کی آسٹریلیا کے خلاف کھیلے گا جو 29جولائی کو مقرر ہے جبکہ روایتی حریف پاکستان سے اس کا سامنا 31جولائی کو ہوگا۔

اس نے بتایاکہ جویلین تھرور نیرج چوپڑا کو ٹوکیو اولمپکس میں ملنے والے گولڈ میڈل اعزاز سے ان کو بھی تحریک ملی ہے اور مندھانہ اور ٹیم کے ساتھی پہلے ہمہ رخی اسپورٹس ایونٹ میں مقابلہ کرتے ہوئے گولڈ میڈل جیتنے کے متمنی ہیں۔

تبصرہ کریں

Back to top button