آیا حیدرآباد، بی جے پی کیلئے نحوست ثابت ہوگا؟

ٹی آر ایس کی جانب سے بی جے پی کی اس کوشش کے خلاف قومی سطح پر سوشل میڈیا مہم شروع کردی گئی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا حیدرآباد بی جے پی کے ارادوں کو کامیاب کرے گا یا پھر بی جے پی کی حیدرآباد کے ساتھ بدقسمتی جاری رہے گی۔

حیدرآباد: شہر حیدرآباد میں تقریباً18 سال کے طویل عرصہ کے بعد بی جے پی کی قومی عاملہ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہونے والا ہے۔ 2جولائی کو منعقد شدنی اس اجلاس میں بی جے پی کے اہم ترین قائدین شرکت کریں گے۔ دوسری طرف ٹی آر ایس پر اُمید ہے کہ حیدرآباد میں بی پی جے قومی عاملہ کمیٹی اجلاس کے بعد تاریخ خود کو دہرائے گی۔

 یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ 2004 میں اٹل بہاری واجپائی کے دور میں حیدرآباد میں قومی عاملہ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا تھا۔ جس کے بعد بی جے پی کی زیر قیادت این ڈی اے کو عام انتخابات میں شکست سے دوچار ہونا پڑا تھا۔ ٹی آ رایس قائدین کا احساس ہے کہ 18 سال کے وقفہ کے بعد سال2022 میں تاریخ پھر دہرائی جائے گی اور حیدرآباد، بی جے پی کو مسلسل تیسری بار مرکز میں حکومت بنانے سے روک دے گا۔

2004 کے عام انتخابات سے قبل حیدرآباد میں بی جے پی قومی عاملہ کمیٹی کا اجلاس منعقد کیا گیا تھا۔ حیدرآباد اور سکندرآباد کو زعفرانی رنگ میں رنگ دیا گیاتھا۔ اُس وقت پارٹی کے صدر ایم وینکیا نائیڈو تھے، جو موجودہ طور پر نائب صدر کے عہدے پر فائز ہیں۔ ہوٹل وائس رائے میں 11اور 12جنوری کو قومی عاملہ کمیٹی اجلاس منعقد ہوا تھا۔

 اُس وقت بھی تلنگانہ کو فتح کرنے کا منصوبہ تھا اور اب18 سال بعد بھی صدر جئے پی نڈا اور وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں تلنگانہ میں کامیابی حاصل کرنے کے منصوبہ کے تحت ہی 2جولائی کو قومی عاملہ کمیٹی اجلاس منعقد کیا جارہا ہے۔ اگرچہ کہ شہر ایک ہی ہے مگر اجلاس کا مقام تبدیل کردیا گیا ہے۔

ٹی آر ایس کی جانب سے بی جے پی کی اس کوشش کے خلاف قومی سطح پر سوشل میڈیا مہم شروع کردی گئی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا حیدرآباد بی جے پی کے ارادوں کو کامیاب کرے گا یا پھر بی جے پی کی حیدرآباد کے ساتھ بدقسمتی جاری رہے گی۔

تبصرہ کریں

Back to top button