اب ایک عالم جنگ کی زدمیں ہے

محمد عمران

آج پوری دنیامیں ایک عجیب سی اتھل پتھل مچی ہے۔ تیسری عالمی جنگ کے خطرات سروںپرمنڈلارہے ہیں۔اپنی جانب داری کی روایتی پکارپھر سے سنی جانے لگی ہے اور خودغرضی و مفادپرستی کے غیرمنصفانہ دلائل کے ساتھ ایک بار پھر پوری دنیامیں بحث ومباحثہ کا سلسلہ بھی جاری ہوگیاہے۔ دنیا میںبسنے والے تمام امن پسند لوگ روس اوریوکرین کی جنگ کے خاتمے کے انتظار میںہیں،لیکن افسوس کی بات ہے کہ اس کادائرہ تقریباََ ایک مہینہ گزرجانے کے بعد بھی روز بروز وسیع سے وسیع ترہی ہوتاجارہاہے۔ حالات یہاں تک بھی پہنچے ہیں کہ ایک طرف روس نے یوکرین پر ہائپرسونک میزائل سے حملہ کرنے اور یوکرین کے مغربی علاقے میںواقع اسلحہ ڈپو کوتباہ کرنے کادعویٰ کیاہے تو دوسری جانب امریکہ نے اپنے چینی ہم منصب کو خبردار کیاہے کہ اگر چین نے روس یوکرین جنگ میں روس کاساتھ دیا تو اس کے بھیانک نتائج سامنے آئیںگے۔
بلاشبہ معاملہ بہت ہی سنگین ہے۔جنگی حملہ میں یوکرین میںزیرتعلیم ہندوستان کے طالب علموں کا مستقبل اور ان کی زندگی بھی خطرے میں آ گئی ہے۔ مارچ کی پہلی تاریخ کوگولی باری میںمیڈیکل کے آخری سال کے طالب علم نوین شیکھراپا کی جان چلی گئی تھی اور اب ان کے جسد خاکی کو اور وہ بھی کافی تاخیرسے وطن واپسی کا موقع ملاہے۔یہ بات ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہی بلاتفریق سبھی اہل وطن کے لیے بھی رنج وغم کا باعث ہے۔
اس جنگ نے کئی ایسی صورتوں کوبھی واضح کیا ہے جس کے متعلق پہلے بھی امن کے پرستاروںمیں فکرمندی دیکھی جاتی رہی ہے۔حسب سابق یوروپی رہنماو¿ں کے قول وعمل کاتضاد ایک بارپھر عوام کے سامنے آیاہے۔بلاشبہ ان کی انسان دوستی کابھرم ایک بارپھرجگ ظاہر ہواہے۔یوکرین پر حملے کی صورت نے جو انسان دوستی کے نام پر یوروپی ممالک کو یکجاکرنے کی کوشش کی ہے اور یوکرین کے مہاجرین جن کی تعداد لاکھوںمیں پہنچ گئی ہے ،ان کے استقبال کے لیے جو جوش وخروش دکھایا ہے، اس کاشائبہ تک بھی افغان جنگ کے مہاجرین،عراق جنگ کے مہاجرین اورمشرق وسطیٰ کے مہاجرین کے لیے نہیں دیکھاگیاتھا۔آج یوکرین پرحملہ یوروپی ممالک کومتحد کررہاہے اوریہی اتحاد کافی حدتک تیسری عالمی جنگ کی صورت میں سامنے آرہاہے، لیکن یاد کیجئے لیبیا اور شام کی جب تباہی ہوئی تھی تو اس وقت اتحاد کواہمیت دینے والے یوروپ کے تمام ممالک کی آنکھیں بندتھیں اوران کی زبانیں بھی انصاف کی بات کرنے سے عاری تھیں۔اگر اس وقت کچھ اقدام بھی ہوتے تھے تو انسانیت کے خلاف ہی ہوتے تھے۔ بھلا کوئی بتاسکتاہے کہ یہ تفریق کیوں ہوتی ہے؟ اگرافغان، عراق،لیبیا ،شام اور فلسطین کے معاملے میںبھی انسان دوستی کی اہمیت کودنیا میں واضح کرنے کی کوشش کرنے والے ممالک آگے بڑھے ہوتے توشایدآج کے ان کے ایسے اقدام بھی کافی حدتک انسان دوستی کے زمرے میںآسکتے تھے۔
عجیب معمہ ہے کہ جب یوروپ کے علاوہ دیگرکوئی بھی براعظم جنگ کی زد میںہوتاہے تو یوروپ کے لیے یہ جنگی مسئلہ کچھ خاص نہیں رہتا لیکن جیسے ہی یوروپ کا کوئی خطہ جنگ کی زد میں آتاہے توعالمی جنگ کے خطرات کی چہ می گوئیاں شروع ہوجاتی ہیں اور اسی انداز کی ماحول سازی کرکے ایک عالم کو جنگ کے نام پرخوفزدہ بھی کیاجانے لگتاہے۔یاد کیجئے ،فلسطین کا سنگین مسئلہ توتین چوتھائی صدی پراناہوگیا ہے اورمظالم وصعوبتوں کاسلسلہ وہاں اب بھی جاری ہے، لیکن انسان دوستی کادم بھرنے والے یوروپ کو کبھی بھی اس کے حل کی کوششوں کی ضرورت تو دور کی بات ہے، اس پرتبصرہ کرنے کی بھی کوئی سنجیدہ ضرورت محسوس نہیں ہوئی ہے۔بلاشبہ یہ بڑے افسوس کامقام ہے۔
ویسے دیکھاجائے توہرجنگ کامستقل حل مذاکرے کی میز سے ہی نکلتاہے۔جتنے ممالک جنگی شکارہیں،ہوئے ہیں یاہورہے ہیںبلاشبہ ان کے لیے بھی مذاکرے کی میزپر بیٹھنے کی راہ ہموار کی جانی چاہیے۔ اورفی الوقت جو صورتحال ہے، اس میں روس یوکرین بھی اس بات کو سنجیدگی سے سمجھ لیں تو بہترہے۔ورنہ عالمی سطح پرتباہی کی صورت پیداہوجانے سے کوئی بھی نہیں روک سکتاہے۔انجام کی صورت میںعالمی معیشت کا اس کی زد میںآجانابھی ایک یقینی امرہے۔اس صورت میںبلاشبہ عام لوگ ہی مہنگائی کے شکار ہوںگے ۔اب توتیل کی قیمتوںکے بے تحاشہ بڑھنے کاخدشہ بھی ظاہر کیاجارہاہے۔کب قیمتیںآسمان چھوجائیں کچھ خبرنہیں۔خوف کایہ عالم ہوگیا ہے کہ ممکنہ مہنگائی کی مار سے بچنے کی ممکنہ وقتی کوششوں میںہندوستان کے عوام بھی پٹرول پمپ پراپنی گاڑیوں کی ٹنکیاں فل کراتے دیکھے جارہے ہیں۔
مہنگائی کے پس منظرمیں دیکھیںتوکھانے پینے کی اشیا ءاوراناج پربھی اس کی زبردست مار پڑنے کااندیشہ ہے۔روس اوریوکرین دونوںہی ایسے ملک ہیںجو گیہوںکی عالمی منڈی میں29فیصدی کی حصہ داری رکھتے ہیں۔مکئی اورسورج مکھی کے تیل کی سپلائی میں بھی دونوں کا اہم مقام ہے۔ ایساماناجاتاہے کہ روس اور یوکرین سے بڑی حدتک جنوبی افریقہ،سوڈان،الجزائر،نائجیریا ،لیبیااورتنزانیہ وغیرہ ممالک اناج کی اپنی ضرورتوںکی تکمیل کرتے ہیں۔جنگ کی صورت میںان کی سپلائی پراثرپڑے گا اورپھراپنی ضرورتوں کے لیے منحصر رہنے والے تمام ممالک بھی اس سے متاثرہوںگے۔
یوکرین کی حالت خستہ ہورہی ہے، وہاںکے عوام اورخاص طورپربچوںکی ہجرت کا سلسلہ اب بھی جاری ہے،ان کامستقبل تاریک ہورہاہے اوران کی املاک بھی تباہ ہورہی ہیں ،اس کااثر دوسرے ممالک پربھی پڑرہاہے اور وہ اپنے سفارت خانے دوسرے پڑوسی ممالک میںمنتقل بھی کررہے ہیں۔بلاشبہ یہ ساری باتیں کچھ بہتری کی جانب اشارہ نہیں کررہی ہیں۔ماہرین اس بات کی طرف بھی اشارہ کررہے ہیںکہ خلفشار کی یہ تمام صورتیں عالمی جنگ کاہی پیش خیمہ ہیں۔ایک طرف یوروپی ممالک نے روس پراقتصادی پابندیاں عائد کردی ہیں جس کا براہ راست روس پر بہت زیادہ اثر نہیں پڑنے والاہے،دوسری جانب چین نے یہ کہہ کر یوروپی ممالک کی مشکلوںمیںاضافہ کردیاہے کہ وہ روس کے ساتھ معمول کے مطابق ہی اپنی تجارتی سرگرمیاںجاری رکھے گا۔ حالانکہ اس درمیان عالمی عدالت نے بھی روس کو فوری طور پر جنگ بندکردینے کاحکم دیاہے لیکن روس پراس کااثر پڑتاہوا دکھائی نہیں دے رہاہے۔
اگر یوروپی ممالک کی بات کریں تو عالمی عدالت سے لے کر میڈیا تک سے بھی سب ان کے ہی ذرائع سے باتیں سامنے آرہی ہیں۔بھلے ہی یوکرین کے خلاف اپنی طاقت کامظاہرہ کرنے میں روس کامیابی کی منزلیں طے کرتاہوادکھائی دے رہاہے، لیکن خبروں کی سطح پر امریکہ اور اس کے اتحادی کا جواب دینے میںاس کے قدم پیچھے ہیں۔اگرجائزہ لیاجائے تواندازہ ہوگا کہ جنگ کی یا اس سے متعلق جوخبریں بھی مل پارہی ہیں، اس کے تمام ذرائع امریکہ اور یوروپی میڈیاسے ہی متعلق ہیں۔جنگ کی اصل وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ مغربی ممالک سے یوکرین کے رشتے ہموار ہونے کی وجہ سے ناٹوسے اس کے وابستہ ہوجانے کااندیشہ تھا،اسی لیے روس نے اس پر حملہ کیاتاکہ ناٹو کے اثر سے وہ خود کومحفوظ رکھ سکے۔روس یہ نہیںچاہتاتھاکہ یوکرین یاناٹوکاکوئی ممبرملک اس کے پڑوس میںآبادرہے۔ماننے والے مانتے ہیںکہ اگریہ بات صحیح ہوتی تو روس اپنے پڑوسی ملک پولینڈکوبھی نہیںبخش سکتاتھا،جبکہ اس کاپولینڈپر کوئی حملہ نہیں ہواہے۔
یہ ضروری معلوم ہوتاہے کہ روس یوکرین کے مختصر تعارف کی جانب بھی اپنی توجہ مبذول کی جائے۔اس بابت مختلف حوالوں سے یہ حقائق سامنے آئے ہیں کہ 2020تک روس کی آبادی 146,749,000تھی اور اس لحاظ سے وہ دنیا کا نواں سب سے بڑا ملک تھا۔اس کے برخلاف 41,383,182کی آبادی کے ساتھ یوکرین یکم جولائی 2021تک دنیاکا چھتیسواںملک تھا۔روس اقتصادی طور پر2021تک دنیا کاگیارہواں بڑاملک تھا جبکہ اقتصادی لحاظ سے یوکرین کا مقام ستاونواں تھا۔مساوی قوت خرید کے لحاظ سے روس کامقام چھٹاتھا جبکہ چالیسویں پائیدان پر یوکرین تھا۔اگردیکھاجائے تو روس اور یوکرین دونوںکے ہی جی ڈی پی کا زیادہ انحصار سروس،انڈسٹری اورزراعت پرہے۔روس میں خط افلاس سے نیچے رہنے والوںکا فیصد2018 تک 12.9 تھاجبکہ یوکرین میں2018تک خط افلاس سے نیچے رہنے والوں کا فیصد1.3تھا۔روس کاایکسپورٹ 2019 میں 551 ارب ڈالر تھا جبکہ یوکرین میں یہ 2021 تک 68.2 ارب ڈالرتھا۔2019میںروس کا امپورٹ 336 ارب ڈالر تھا جبکہ2020 میںیوکرین کا امپورٹ 54.1 ارب ڈالر درج ہواتھا۔یہ بھی واضح ہواہے کہ 2017میںروس پر سرکاری قرض جی ڈی پی کا 10.6 فیصد تھا اور 4مارچ 2022ءتک روس زیادہ زر مبادلہ رکھنے کے معاملے میں دنیاکے ممالک میںچوتھے نمبرپرتھا جبکہ 2018تک یوکرین پرسرکاری قرض جی ڈی پی کا60.93فیصددرج ہواتھااور ستمبر 2021ءتک زیادہ زرمبادلہ رکھنے میں اس کامقام 56 واں تھا۔
بہرحال یہ بات توکہی جاسکتی ہے کہ جنگ کے شروع اورخاتمے کاجوبھی منظرنامہ سامنے آئے، اس کے اثرات تو خطرناک ہی ثابت ہوں گے۔تیسری عالمی جنگ کی صورت کاآغازبھلے ہی نہ ہو،لیکن خوف وہراس کی شکل اورمہنگائی کے دیرپانتائج نے عالم کے تمام متوسط طبقے کو روزمرہ کی زندگی کی ایک مشکل ترین جنگ میںضروردھکیل دیاہے۔ایٹم بم کاحملہ بھلے ہی ایک دھمکی آمیزجملہ ثابت ہوجائے، لیکن جن کاوجود اپنے وجود کے ساتھ مستقبل کی تاریکی میںجل کرخاک ہوگیاہے ، ان کے لیے توایٹم بم کاحملہ ہوہی گیا۔ضرورت ہے کہ امن عالم کے لیے سازشوں اور انسان دوستی کے نام پر غیرانسانی سوچ اورایسی کسی بھی حرکات وسکنات سے خود کومحفوظ رکھاجائے۔ورنہ چین بھی چین سے نہیں بیٹھے گا پھریاتووہ روس کاساتھ دے گا اورتیسری عالمی جنگ کابگل بجادے گا۔ اپنے پڑوسی ملک روس کوجنگ میں کمزور ہوتاہوادیکھ خود کو موجودہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت کے روپ میںپیش کردے گا اور پھر دنیا کی مشکلات ایک نئے دور میںداخل ہوجائیں گی۔اس کی انتہا کیاہوگی، فی الوقت اس کا اندازہ لگاناممکن نہیں۔ ٭٭

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button