اب قلعہ آگرہ کی مسجد کی سیڑھیوں کے نیچے مورتی دبی ہونے کا دعویٰ

وکیل نے کہا کہ سروے کرواکر مورتی نکالی جانی چاہئے۔ متھرا کی عدالت نے وکیل کو درخواست واپس کردی اور اس سے کہاکہ وہ فریق ثانی کو نوٹس دے۔ اسی دوران ایک اور درخواست میں 1991 کے مذہبی قانون کی بعض دفعات کے دستوری جواز کو آج چیلنج کیا گیا۔

متھرا: متھرا کی عدالت میں ہفتہ کے دن نیا مقدمہ دائر ہوا جس میں وکیل نے دعویٰ کیا ہے کہ قلعہ آگرہ میں دیوان خاص کے قریب واقع مسجد کی سیڑھیوں کے نیچے ٹھاکر کیشودیو کی مورتی دبی ہے۔

وکیل نے کہا کہ سروے کرواکر مورتی نکالی جانی چاہئے۔ متھرا کی عدالت نے وکیل کو درخواست واپس کردی اور اس سے کہاکہ وہ فریق ثانی کو نوٹس دے۔ اسی دوران ایک اور درخواست میں 1991 کے مذہبی قانون کی بعض دفعات کے دستوری جواز کو آج چیلنج کیا گیا۔ یہ درخواست متھرا کے ہندو گروپ دیوکی نندن ٹھاکر نے داخل کی ہے۔

 درخواست گزار نے کہا کہ ہندو سینکڑوں سالوں سے کرشن بھگوان کی جنم بھومی کی بحالی کے لئے پرامن احتجاج کررہے ہیں لیکن مرکز نے 1991کا قانون بناکر ایودھیا کی رام جنم بھومی کو تو اس سے باہر رکھا لیکن متھرا میں کرشن جنم بھومی کو یوں ہی چھوڑدیا حالانکہ رام اور کرشن دونوں بھگوان وشنو کے اوتار ہیں۔

تبصرہ کریں

Back to top button