اب ٹاملناڈو میں حجاب تنازعہ

ایک خاتون عہدیدار نے اس سے پولنگ اسٹیشن سے باہر چلے جانے اور چیخ و پکار کرنے کی ہدایت دی۔ جب اس نے باہر جانے سے انکار کردیا تو عہدیداروں نے کہا کہ اگر وہ باہر نہ گیا تو وہ لوگ باہر نکل جائیں گے۔ آخرکار اس شخص کو پولنگ اسٹیشن کے باہر جانا پڑا اور باحجاب خاتون نے ووٹ ڈالا اور وہاں سے روانہ ہوگئی۔ اس بحث و تکرار کا ایک ویڈیو کلپ بھی سوشل میڈیا پر سامنے آیا ہے۔

مدورائی ایک باحجاب خاتون کی مخالفت کرنے پر آج یہاں ایک پولنگ اسٹیشن میں ایک بی جے پی ایجنٹ اور دیگر کے درمیان لفظی جنگ چھڑگئی۔ بعد ازاں زعفرانی پارٹی کے ایجنٹ کو بوتھ سے باہر بھیج دیا گیا۔

حکمراں ڈی ایم کے نے مسلم خاتون کی مخالفت کرنے پر بی جے پی ایجنٹ کی سخت مذمت کی اور اس کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ پارٹی کی رکن پارلیمنٹ اور شعبہ خواتین کی سکریٹری کنی مولی نے اپنے ایک ٹوئٹ میں اس شخص کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا اور الزام عائد کیا کہ وہ ٹاملناڈو میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو درہم برہم کرنے کی کوشش کررہا تھا۔

قبل ازیں جب یہ باحجاب خاتون شہری بلدی انتخابات میں ووٹ دینے کے لیے مضافاتی علاقہ نیلور میں واقع پولنگ بوتھ پر پہنچی تو بی جے پی کے ایجنٹ نے جس کے ہاتھ میں انتخابی فہرستیں تھیں، اس پر اعتراض کیا اور کہا کہ وہ اسے پہچاننے سے قاصر ہے۔

اس نے انتخابی فہرست اور شناختی دستاویز پر موجود تصاویر پر بھی اعتراض کیا۔ بحث و تکرار کے بعد عہدیداروں نے کہا کہ ووٹر شناختی کارڈ کی بنیاد پر اس کی شناخت کرلی گئی ہے اور اس کا چہرہ چھپا ہوا نہیں ہے۔ ایک عہدیدار نے بی جے پی ایجنٹ کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ قواعد کے مطابق اس کی پوری جانچ کرلی گئی ہے اور ایجنٹ کو یہ کام کرنے کی ضرورت نہیں۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button