اترپردیش: ایک رام بھکت حکمراں کے لئے امتحان

وزیر اعظم مودی جب وارثت اور وکاس کی باتیں کرتے ہیں وہ عام لوگوں کو دو نظریات پیش کرتے نظر آتے ہیں، لیکن آر ایس ایس کے لئے یہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں۔ وہ ’رام بھکتی‘ یا رام کی مکمل پرستش کا واحد نظریہ ہے۔ حکمران کو رام کا ایک پرستار (وارث)ہونا ہوگا اور اپنی رعایا کے لئے خوش حالی (وکاس) لانا ہوگا جیسا کہ رام نے ایودھیا کے راجہ کے طور رپر اپنی رعایا کے لئے کیا تھا۔

ارون سنہا

جن تمام ریاستوں میں آئندہ ماہ انتخابات ہونے جارہے ہیں ان میں اترپردیش ایک ایسی ریاست ہے جہاں بی جے پی کی امیدیں بلند ہیں۔ پارٹی اس ریاست کو حکمرانی کے ’ہندو’ماڈل‘کے تجربہ کے لئے ایک لیباریٹری کے طور پر استعمال کرتی آرہی ہے۔ ایک ایسا ماڈل بقول نریندر مودی وراثت اور وکاس کا امتزاج ہے۔

اس ماڈل کو روبہ عمل لانے کے لئے پارٹی نے یوگی آدتیہ ناتھ کو سب سے موزوں شخصیت کے طور پر دیکھا، چنانچہ انہیں چیف منسٹر بنایا گیا۔ اور پارٹی کے تجزیہ کے مطابق انہوں نے غیر معمولی طور پر بہتر مظاہرہ کیا۔ اپنی تمام تقاریر میں انہوں نے فخریہ طور پر ایک طرف رام مندر (وراثت) اور دوسری جانب اکسپریس وے اور انٹر نیشنل ایرپورٹس(وکاس) کی برملا نشان دہی کی ہے۔

راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی بھی امیدیں بھی اترپردیش میں بہت اونچی ہیں۔ آر ایس ایس ، ہندوتوا آئیڈیالوجی کی کوچوان ہے اور بی جے پی ہی واحد گاڑی ہے۔ وراثت اور وکاس کے امتزاج کے ساتھ حکمرانی کے ’ہندو ماڈل‘ کا نظریہ آرایس ایس کا ہے ۔ جو لوگ آر ایس ایس قائدین کی تقاریر سنتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ سنگھ نے رام مندر کی جنگ جیتنے کے بعداب آئندہ 25 برسوں میں ’رام راجیہ‘ قائم کرنے کا نشانہ مقرر کیا ہے۔

’رام راجیہ‘ دراصل ’ہندو راشٹرا‘ کا متبدلہ نام ہے۔ حالیہ برسوں میں دیکھا گیا ہے کہ آر ایس ایس نے یہ پایا کہ’ ہندو راشٹر‘ نظریہ سے زیادہ بہتر ’رام راجیہ‘ کا نظریہ قابل فروخت ہے اور یہ تکثریت پسندوں کی تنقیدوں سے بھی محفوظ ہوگا۔

وزیر اعظم مودی جب وارثت اور وکاس کی باتیں کرتے ہیں وہ عام لوگوں کو دو نظریات پیش کرتے نظر آتے ہیں، لیکن آر ایس ایس کے لئے یہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں۔ وہ ’رام بھکتی‘ یا رام کی مکمل پرستش کا واحد نظریہ ہے۔ حکمران کو رام کا ایک پرستار (وارث)ہونا ہوگا اور اپنی رعایا کے لئے خوش حالی (وکاس) لانا ہوگا جیسا کہ رام نے ایودھیا کے راجہ کے طور رپر اپنی رعایا کے لئے کیا تھا۔ اس طرح حکمران ’رام راجیہ‘ قائم کرسکتا ہے۔ بی جے پی اترپردیش میں حکمرانی کے اسی ’ہندو ماڈل‘ کو قائم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

مودی اور یوگی یہ ثابت کرنے کوشاں ہیں کہ سماجی اشتمال میں سماج وادی پارٹی کے ’سماجی انصاف‘ کے نمونۂ حکمرانی سے کہیں زیادہ بہتر ترقی کانمونہ’ہندو ماڈل‘ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہندو ماڈل‘ تمام ذاتوں اور برادریوں کے لئے بہتری لے آیاہے ، اس کے برخلاف سماج وادی پارٹی کی حکومت نے صرف چند ذاتوں کو فائدہ پہنچایا ہے۔ان کا دعویٰ ہے کہ ان کی حکمرانی میں سماجی مساوات اور سماجی ہم آہنگی کو حقیقی طور پر قائم کیا گیا۔

اپنے دعویٰ کی تائید میں وہ نشان دہی کرتے ہیں کہ ان کی پارٹی کو حالیہ برسوں میں غیر یادو پسماندہ طبقات اور دلتوں کی زبردست حمایت حاصل رہی ہے۔ اگر آپ مودی اور یوگی کا یقین کریں تو اترپردیش ایک ’رام راجیہ‘ میں تبدیل ہونے کی راہ میں بہت آگے بڑھ چکی ہے جس میں ایک’ رام بھکت ‘ حکمران نے رام کی طرح ہی بغیر امتیاز کے حکمرانی کی ہے اور تمام طبقات کے عوام کو ان کے عدل اور شفافیت پر ویسا ہی یقین ہے جیسا کہ رام کے دور میں رام کی رعایا کا تھا۔

مگر حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہے ، جو اس امر سے واضح ہوجاتا ہے کہ انتخابات کے اعلان کے فوری بعد ہی بی جے پی کے کئی ارکان اسمبلی جن کا سیاسی کیریرغیر یادو پسماندہ طبقات کی تائید پر منحصر تھا، پارٹی سے استعفیٰ دے دیا۔ ان کے استعفوں سے یہ اشارہ ملتاہے کہ ان کے حلقۂ انتخاب ، بی جے پی کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں۔ زمینی سطح سے موصول ہونے والی رپورٹس اس قیاس کو تقویت پہنچاتی ہیں۔ نچلے طبقات کے لئے بہم پہنچائی جانے والی سہولتوں کے بارے میں حکومت کے پروپگنڈہ اوران طبقات کی جانب سے گزاری جانے والی زندگی کی حقیقتوں کے بیچ زبردست خلیج پائی جاتی ہے۔

زمینی رپورٹس کہتی ہیںکہ کئی مواضعات میں کمتر طبقات کو پکے مکانات تعمیر کرنے پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت مالی اعانت حاصل نہیں ہوئیں چونکہ وہ مقامی عہدیداروں کی طلب کردہ رشوت کی رقم ادا کرنے سے قاصر تھے۔ ان مواضعات میں جیہ پور بھی شامل ہے جوضلع وارانسی کے ان چار مواضعات میں شامل ہیں جنہیں وزیر اعظم نریندر مودی نے اس حلقہ کے بہ حیثیت رکن پارلیمنٹ اڈاپٹ کیاہے۔ ان مواضعات میںبھی غریب عوام کے پاس ٹائیلیٹس نہیں ہیں جن کو کھلے مقامات پر رفع حاجت سے پاک قرار دے دیاگیا ہے۔ دیگر مواضعات میں جہاں ٹائیلیٹس تعمیر کئے گئے وہ غیر کارکرد ہوچکے ہیں۔

یوگی نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے عوام کی زندگی کو محفوظ بنادیا ہے لیکن مواضعات میںکھیتوں میں کام کرنے یا مویشی چرانے کے لئے جانے والی غریب طبقات کی لڑکیاںجنسی تشدد، عصمت ریزی اور قتل کئے جانے جیسے خطرات کا ہنوز سامنا کررہی ہیں۔ نیشنل کرائم ریکارڈس بیورو کے مطابق ریاست میںسال 2020 ء میں خواتین کی عصمت ریزی کی نیت سے ان پر 9,864 حملے ہوئے ہیں۔ ریاست میں خواتین کے خلاف جرائم کی مجموعی تعداد2018 ء میں 59,445 ، 2019 ء میں 59,853 اور 2020 ء میں 49,385 ہے جو تمام ریاستوں میں سب سے زیادہ ہے۔

نچلے طبقات کے ساتھ ناانصافی کے ہر کیس میںناانصافی کا ارتکاب کرنے والا اونچے طبقہ سے تعلق رکھتا ہے۔ وزیر اعظم آواس یوجنا کے تحت مالیاتی امداد سے 20% تخفیف (کٹ) کا مطالبہ کرنے والا پردھان (سرپنچ ) ، مواضعات میں لڑکیوں سے چھیڑ چھاڑ اور ان کی عصمت ریزی کرنے والے مرداور جرم کے مرتکبین کا ساتھ دینے والے پولیس والے تمام کے تمام اعلیٰ ذات کے ہیں۔ اترپردیش کے غریب طبقات ہمیشہ سے خود کو ’چھوٹے لوگ‘ پاتے ہیں جنہیں’بڑے لوگوں‘ کی جانب سے ستایا اور استحصال کیا جاتا رہاہے ۔ یہ سوچ یوگی دور میں نہیں بدلی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی کے ساتھ نچلے طبقات کی ناراضگی پائی جاتی ہے۔

ان کی ناراضگی میں اضافہ کی ایک اور وجہ سماجی۔ معاشی طبقاتی مردم شماری کی بی جے پی کی جانب سے مخالفت بھی ہے۔ پسماندہ طبقات کی غریب ترین برادریاں اس نتیجہ پر پہنچی ہیں کہ جب تک ذات واری مردم شماری نہیں ہوتی عوامی شعبہ کی ملازمتوں اور کالج داخلوں کے فوائد کی مساویانہ تقسیم کبھی نہیں ہوپائے گی۔ یوگی حکومت نے دیگر پسماندہ طبقات کے لئے حاصل 27% تحفظات کی تین زمروں میںدرجہ بندی کرنے اپنی ہی سماجی انصاف کمیٹی کی سفارشات کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اس کمیٹی نے پسماندہ طبقات کے لئے 7% ، زیادہ پسماندہ طبقات کے لئے 11 فیصد اور انتہائی پسماندہ طبقات کے لئے 9% تحفظات فراہم کرنے کی سفارش کی تھی۔

نچلے طبقات میں پائی جانے والی بے اطمینانی نے بی جے پی کی اس خودفریبی کا بھرم توڑ دیا کہ وہ ’ہندوتوا‘ کے گوند سے تمام طبقات کو محفوظ طریقے سے جوڑے رکھ سکتی ہے۔ نچلے طبقات، سلامتی، وقاراور پیشرفت چاہتے ہیں ، وہ ہندو اتحاد کی خاطران تفکرات کو ترک کرنے آمادہ نہیں ۔ ان کے لئے ہندو اتحاد خیال باطل کے سواء کچھ نہیں جو سماجی اور معاشی تقسیم کو مزید استمرار عطا کرتاہے۔

آج ’ہندوتوا‘ بی جے پی کے بنائے ہوئے سماجی اتحاد کے کھنڈر پرمدفون پڑی ہوئی ہے۔پارٹی کے لئے بڑا سبق یہ ہے کہ ہندو گوند سے تمام طبقات کو باندھے رکھنے کی امیدیں رکھنے سے قبل اسے سماجی عدم مساوات، سماجی ناانصافی ، اقتصادی کدورت اور انتظامی امتیازکے بنیادی مسائل کو دور کرنا اور چھوٹے لوگوں کو ان کی زندگی میں درپیش رشوت کے ظلم کو ختم کرنا ہوگا۔ لیکن بی جے پی کی باگ ڈور بڑے لوگوں کے ہاتھوں میں ہے اس لئے اس جانب پارٹی کبھی راغب نہیں ہوگی۔ اور یہ کہ پارٹی یقیناًدائمی تذبذب کی کیفیت میں ہوگی۔ ہم دیکھیں گے کہ آنے والے برسوں میں بی جے پی کس طرح اس دشواری کو حل کرپائے گی۔

۰۰۰٭٭٭۰۰۰

تبصرہ کریں

Back to top button