ادھو ٹھاکرے 30 جون کو ایوان میں اکثریت ثابت کریں: گورنر کوشیاری

سابق چیف منسٹر دیویندر فڈنویس کی قیادت میں گورنربھگت سنگھ کوشیاری سے ملاقات کی اور ایم وی اے کو اپنی اکثریت ثابت کرنے کے لیے دباؤ ڈالا تھا،اس سے پہلے فڈنویس نے کل دہلی کا دورہ کیا اور گورنر کو فوری ہدایات دینے پر زور دیا۔

ممبئی: مہاراشٹر کے گورنر بھگت سنگھ کوشیاری نے آج صبح شیوسینا-نیشنلسٹ کانگریس پارٹی-کانگریس کی حکمراں (مہا وکاس اگھاڑی) حکومت سے کہا ہے کہ وہ جمعرات 30 جون اسمبلی کے ایوان میں فلور ٹیسٹ دیں اور اپنی اکثریت ثابت کریں۔

واضح رہے کہ مننگل کورات دیر گئے راج بھون کی طرف سے مہاراشٹر کے لیجسلیچر سکریٹری کو ایک خط جاری کیا گیا ہے،کل اپوزیشن بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایک وفد نے سابق چیف منسٹر دیویندر فڈنویس کی قیادت میں گورنربھگت سنگھ کوشیاری سے ملاقات کی اور ایم وی اے کو اپنی اکثریت ثابت کرنے کے لیے دباؤ ڈالا تھا،اس سے پہلے فڈنویس نے کل دہلی کا دورہ کیا اور گورنر کو فوری ہدایات دینے پر زور دیا۔

گورنر نے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کے خلاف اعتماد کے ووٹ کے واحد نکاتی ایجنڈے کے ساتھ کل مہاراشٹر اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کیا ہے۔ گورنر نے کہاکہ "اس طرح میں نے وزیر اعلیٰ کو ایک پیغام جاری کیا ہے، جس میں ان سے جمعرات کوایوان کے فلور پر اپنی اکثریت ثابت کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔”

کارروائی کل صبح 11 بجے شروع ہوگی اورشام 5 بجے ختم ہوگی، کارروائی کی ویڈیو گرافی کی جائے گی اور لائیو ٹیلی کاسٹ کیا جائے گا اور مقننہ کے اندر اور باہر مناسب سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔

دریں اثنا، ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ شیو سینا اس معاملے کی فوری سماعت کے لیے سپریم کورٹ میں جانے کا امکان ہے، اس قیاس کے درمیان کہ ٹھاکرے دن کے آخر میں ہونے والی کابینہ کی میٹنگ میں کچھ سخت اقدامات کر سکتے ہیں۔

مہاراشٹر کے چیف منسٹر ادھو ٹھاکرے، اپنے وزیر ایکناتھ شندے اور کئی دیگر ایم ایل ایز کی بغاوت کا سامنا کر رہے ہیں، کل صبح 11 بجے ریاستی اسمبلی میں فلور ٹیسٹ کا سامنا کرنے والے ہیں۔ گورنر بھگت سنگھ کوشیاری نے مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی کے سکریٹری راجندر بھگت کو خط لکھ کر اس سلسلے میں کل خصوصی اجلاس طلب کیا ہے۔

گورنر نے مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی کے سکریٹری کو خط بھیجا ہے جس میں کل خصوصی اجلاس طلب کیا گیا ہے۔ ایک دن پہلے، بی جے پی لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس نے گورنر سے ملاقات کی تھی اور فلور ٹیسٹ کرانے پر زور دیا تھا۔

ایکناتھ شندے نے تقریباً چالیس (پچپن میں سے) شیوسینا کے ایم ایل ایز کی حمایت کا دعویٰ کیا ہے، اس طرح اس نے مہا وکاس اگھاڑی حکومت کو – جس میں شیوسینا، شرد پوار کی نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) اور کانگریس شامل ہیں، کو تباہی کے دہانے پر دھکیل دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اور باغی ممبران اسمبلی ان کے ساتھ بی جے پی کے زیر اقتدار آسام میں گوہاٹی میں کیمپ لگا کر کل ممبئی واپس آئیں گے۔

تبصرہ کریں

Back to top button