ادے پور میں مذہبی جنونیوں کے ہاتھوں درزی کا قتل، دونوں حملہ آور گرفتار

اس واقعہ کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ سے ملک میں ماحول کربہتر کرنے کے لئے اپیل جاری کرنے کی درخواست کی۔

ادے پور: راجستھان کے ادے پور میں منگل کو دوافراد نے ایک درزی کواس کی دوکان میں کپڑے کا ناپ دینے کے بہانے داخل ہوکر تیزدھارہتھیاروں سے قتل کردیا۔

ابتدائی طور پر یہ مذہبی جنون کا معاملہ لگتا ہے کیونکہ حملہ آوروں نے واقعے کی ایک بھیانک ویڈیو جاری کی ہے جس میں وہ اس فعل کو ‘گستاخ رسول’ کا بدلہ قرار دیتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

ان حملہ آوروں کو راجستھان پولیس نے واقعہ کے چند گھنٹوں کے اندر راجسمند سے گرفتار کر لیا۔

اس واقعہ کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ سے ملک میں ماحول کربہتر کرنے کے لئے اپیل جاری کرنے کی درخواست کی۔

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے مقررہ وقت میں عدالتی کارروائی کرتے ہوئے حملہ آوروں کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ راجستھان میں گہلوت حکومت ناکام ہے اور جہادی عناصر پر کوئی لگام نہیں ہے۔

پولیس کے مطابق ادے پور کے دھان منڈی بھوت محل علاقے میں درزی کی دکان چلانے والے کنہیا لال کو قتل کر دیا گیا۔ اس وقت دکان میں سات افراد موجود تھے۔ اس حملے میں کنہیا لال کے ایک ساتھی ایشور سنگھ کو شدید چوٹیں آئیں، جنہیں ایم بی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی اور مشتعل افراد نے بازار بند کر کے نعرے بازی کی۔ بعض مقامات پر بھیڑ نے سڑکوں پر ٹائر وغیرہ جلا کر احتجاج کیا۔ اس واقعے کے بعد انتظامیہ نے احتیاط کے طور پر ادے پور میں انٹرنیٹ سروس بند کر دی تھی۔ شہر کے کم از کم سات تھانوں کے علاقوں میں امتناعی احکام نافذ کردیئے گئے ہیں۔

بتایا جا رہا ہے کہ کنہیا لال نے بی جے پی کی سابق ترجمان نوپور شرما کی حمایت میں کوئی ٹویٹ کیا تھا۔ اسی کا بدلہ لینے کے لیے اس کا قتل کردیا گیا ہے۔ کنہیا لال کو پہلے بھی دھمکیاں مل رہی تھیں اور اس نے کچھ نوجوانوں کے خلاف پولیس میں شکایت کی تھی۔

تبصرہ کریں

Back to top button