اردو کو مسلمانوں سے جوڑنا چند احمق سنیاسیوں کا سازشی حربہ: کے ٹی آر

کے ٹی آر نے کہا کہ ایک طرف وزیر اعظم نریندر مودی، ملک میں اردو کے فروغ کیلئے فنڈس جاری کررہے ہیں تو دوسری طرف مودی کی ہی پارٹی (بی جے پی) کے قائدین، گمراہ کن پروپگنڈہ کرتے ہوئے اردو کو مسلمانوں کی زبان قرار دینے کی کوشش کررہے ہیں۔

حیدرآباد: حکمراں جماعت ٹی آر ایس کے کارگذار صدر و ریاستی وزیر بلدی نظم نسق و شہری ترقیات کے ٹی آر نے آج کہا کہ اردو مذہبی زبان نہیں ہے۔ چند سیاسی سنیاسی (احمق) ان کا اشارہ ریاستی وبی جے پی قائدین کی طرف تھا، اردو کے خلاف ہیں اوراُردو کو مسلمانوں کی زبان کے طور پر پیش کرنے کی احمقانہ کوش کررہے ہیں۔

 شہر کے نواحی دنڈیگل کے بہادرپلی علاقہ میں گورنمنٹ جونیر کالج کے افتتاح کے بعد اردو میں روانی سے خطاب کرتے ہوئے کے تارک راما راؤ نے کہا کہ اردو، مذہبی زبان نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ کے اور ہمارے دادا، دادی، نانا نانی نے اردو زبان سیکھی تھی ہمارے آباواجداد نے اردو میڈیم سے تعلیم حاصل کی تھی۔

 وہ اردو لکھنا، پڑھنا جانتے تھے، حقیقت یہ ہے کہ اردو، مذہبی زبان نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ چند قائدین، مذہب کو نشانہ بناتے ہوئے بدتمیزی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ مقامی عوام اور عوامی نمائندوں کی درخواست پر کے ٹی آر نے دنڈیگل میں اردو میڈیم جو نیر کالج کے قیام کیلئے چیف منسٹر کے سی آر سے منظوری حاصل کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ چند احمق، اردو کو مذہبی زبان کے طور پر پیش کررہے ہیں۔

 ایک زبان کو مذہب سے جوڑنے کی کوشش کرنے والے چند قائدین انتہائی گھٹیا قسم کے انسان ہیں، انہوں نے کہا کہ ایک طرف وزیر اعظم نریندر مودی، ملک میں اردو کے فروغ کیلئے فنڈس جاری کررہے ہیں تو دوسری طرف مودی کی ہی پارٹی (بی جے پی) کے قائدین، گمراہ کن پروپگنڈہ کرتے ہوئے اردو کو مسلمانوں کی زبان قرار دینے کی کوشش کررہے ہیں۔

 انہوں نے کہاکہ جو افراد اردو سیکھنی چاہتے ہیں انہیں اردو سیکھنا چاہئے۔ ٹی آر ایس حکومت، مذہب، زبان کی اساس پر سیاست نہیں کرے گی۔ حکومت، اردو میڈیم کے کالجوں کی منظوری دے گی۔ کے ٹی آر، نے کہا کہ حکومت، اردو، انگلش اور تلگو زبانوں کے ساتھ کوئی امتیازی رویہ نہیں اپنائے گی۔ انہوں کہا کہ ہر ایک کو تمام زبانیں سیکھنا چاہئے۔

تبصرہ کریں

Back to top button