اسرائیلی فوج کی فائرنگ میں الجزیرہ کی صحافی شیرین ابو عاقلہ کی موت (ویڈیو وائرل)

شیریں مغربی کنارے کے شمالی علاقے میں واقع جنین شہر میں رونما ہونے والے واقعات بالخصوص اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کی حقیقت دکھانے آئی تھیں۔ وہ اپنا کام کر رہی تھی جب اس کے سر میں گولی لگی۔

رملہ: اسرائیلی فوج کے مغربی کنارے کے شہر جنین میں چہارشنبہ کو تلاشی آپریشن کے دوران گولی لگنے سے الجزیرہ کی ایک خاتون صحافی ہلاک اور ایک اور صحافی شدید زخمی ہوگئے۔ فلسطینی وزارت صحت کی جانب سے فراہم کردہ اطلاع کے مطابق الجزیرہ کی صحافی شیرین ابوعقلہ اسرائیلی فورسز کی گولی لگنے سے چل بسیں۔

 اسرائیلی فوج نے جنین شہر پر چھاپہ مارا اور الجزیرہ کی ایک صحافی اس کی کوریج کے لیے اس علاقے میں گئی ہوئی تھی لیکن اس دوران ایک گولی اسے لگ گئی۔ صحافی کو تشویشناک حالت میں اسپتال میں داخل کرایا گیا جہاں اسے مردہ قرار دے دیا گیا۔

شیریں کی موت کے وقت کے حالات زیادہ واضح نہیں ہیں لیکن ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ گولی ان کے سر میں لگی۔ صحافی ندا ابراہیم نے کہاکہ ’’اس وقت ہم شیرین کے بارے میں صرف ایک ہی چیز جانتے ہیں کہ انہیں فلسطینی وزارت صحت نے مردہ قرار دیا ہے۔

 شیریں مغربی کنارے کے شمالی علاقے میں واقع جنین شہر میں رونما ہونے والے واقعات بالخصوص اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کی حقیقت دکھانے آئی تھیں۔ وہ اپنا کام کر رہی تھی جب اس کے سر میں گولی لگی۔ ‘‘شیریں سال 2000 سے الجزیرہ کے لیے کام کر رہی تھیں۔ فلسطینی وزارت صحت کے مطابق ایک اور فلسطینی صحافی کو بھی گولی مار دی گئی تاہم اس کی حالت مستحکم ہے۔

دریں اثنا، سی این این نے اسرائیلی دفاعی فورسز کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ علاقے میں مشتبہ عسکریت پسندوں کو پکڑنے کے لیے کیے گئے آپریشن کے دوران دونوں فریقوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ اس بات کا بھی امکان ہے کہ مشتبہ فلسطینیوں کی گولی صحافیوں کو لگی ہو، معاملہ زیر تفتیش ہے۔

تبصرہ کریں

Back to top button