اسرائیلی فوج کے ساتھ جھڑپ، 130 فلسطینی زخمی

فلسطینی عینی شاہدین نے بتایا کہ نابلس شہر کے جنوب مشرق میں واقع دیہات بیتا اور بیت دجان کے قریب مظاہرین اور اسرائیلی فوج کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔ فلسطین ریڈ کریسنٹ سوسائٹی نے ژنہوا کو بتایا کہ اس واقعہ میں کم از کم 128 فلسطینی مظاہرین زخمی ہوئے۔

رملہ: شمالی مغربی کنارہ میں اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ جھڑپ کے دوران 130 سے ​​زائد فلسطینی مظاہرین زخمی ہو گئے۔ یہ معلومات وہاں کے ڈاکٹروں اور عینی شاہدین نے دی۔ فلسطینی عینی شاہدین نے بتایا کہ نابلس شہر کے جنوب مشرق میں واقع دیہات بیتا اور بیت دجان کے قریب مظاہرین اور اسرائیلی فوج کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔

فلسطین ریڈ کریسنٹ سوسائٹی نے ژنہوا کو بتایا کہ اس واقعہ میں کم از کم 128 فلسطینی مظاہرین زخمی ہوئے۔ ان میں سے 36 اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے چلائی گئی ربر کی گولیوں سے زخمی ہوئے جبکہ دیگر آنسو گیس کا نشانہ بنے۔

قلقیلیہ میں پاپولر ریزسٹنس کے فلسطینی رابطہ کار مراد اشتیوی نے ژنہوا کو بتایا کہ کفر قدوم گاؤں میں اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ جھڑپوں کے دوران ربڑ کی گولیوں سے مزید دو مظاہرین زخمی ہوئے۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ درجنوں مظاہرین نے دیہات کے مضافات میں تعینات اسرائیلی فوجیوں پر پتھراؤ کیا اور ٹائر جلائے۔

اسرائیلی حکام نے ابھی تک اس واقعے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔جمعہ کی علی الصبح جنوبی مغربی کنارے کے شہر ہیبرون میں ایک اسرائیلی بستی کے قریب ایک اسرائیلی باشندے نے اس پر گولی چلائی جس سے ڈاکٹروں اور عینی شاہدین کے مطابق تین بچوں سمیت چار فلسطینی زخمی ہو گئے۔

یہ شہر ہر جمعہ کو اسرائیل کی آبادکاری کی پالیسی اور شہر کے مرکز کے بڑے حصوں کو فلسطینیوں کے لیے بند کرنے کے خلاف احتجاج کے لیے ہفتہ وار جھڑپیں دیکھتا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ 1967 کی مشرق وسطیٰ کی جنگ میں اسرائیل نے مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم پر قبضہ کر لیا تھا جس پر فلسطین کا دعویٰ ہے اور تب سے وہ اس علاقے پر قابض ہیں۔

ذریعہ
یواین آئی

تبصرہ کریں

Back to top button