اسرائیل کی کھدوائیوں سے مسجد اقصیٰ کو خطرہ

قرب و جوار کے علاقوں میں پتھر کو توڑنے اور دھماکوں کی آوازیں آتی ہیں۔ گردو غبار پھیلا رہتا ہے۔ یہ صورتحال ہمارے لئے تشویش کا باعث ہے کیوں کہ یہ اسلام کا تیسرا مقدس مقام ہے۔

رملہ: مسجد اقصیٰ کو اسرائیل کی جانب سے کی  جارہی کھدوائیوں کی وجہ سے خطرہ پیدا ہوتا جارہا ہے۔ یہ بات عہدیدارو ں نے بتائی او رکہا کہ یروشلم میں مسجد اقصیٰ کے قریب اسرائیل کی جانب سے کھدوائیوں اور تعمیری کی وجہ خطرہ پیدا ہوتا جارہا ہے۔ عہدیداروں نے ادعا کیا کہ عمارت کے ڈھانچہ کو کھدوائی کے کام کی وجہ نقصانات ہوسکتے ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ اِس مقدس مقام پر اسرائیل نے جو کھدوائیوں کا کام شروع کیا ہے، وہ ہمارے لئے باعث تشویش ہے۔ شہر کے اسلامک اوقاف اور الاقصیٰ مسجد سے متعلق اُمور کے ڈائرکٹر جنرل اعظم الخطیب نے انتباہ دیا ہے کہ اگر کھدوائی کا کام جاری رہے تو مسجد منہدم ہونے کے امکانات ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ یہاں پر کھدوائی کا کام جاری ہے اور اِس میں اگر شدت پیدا کردی جائے تو یہ مسجد کے لئے خطرہ ثابت ہوسکتا ہے اور مسجد کے منہدم ہونے کے امکانات کو مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ اسرائیل کی جانب سے علاقہ میں کھدوائی کا کام جاری ہے جس کا اثر مسجد کی عمارت پر پڑسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بعض مقامات پر مسجد کے پتھر نکل رہے ہیں۔ قرب و جوار کے علاقوں میں پتھر کو توڑنے اور دھماکوں کی آوازیں آتی ہیں۔ گردو غبار پھیلا رہتا ہے۔ یہ صورتحال ہمارے لئے تشویش کا باعث ہے کیوں کہ یہ اسلام کا تیسرا مقدس مقام ہے۔

انہوں نے کہا کہ اِس سلسلہ میں اسرائیلی پولیس کو واقف کروایا گیا اور کہا گیا کہ اِس مقصد کے لئے ہمارے محکمہ کے اسپیشل انجینئرس اور ٹیکنیشن سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ الخطیب نے کہا کہ اِس طرح کی سرگرمیاں ماضی میں بھی ہوتی رہیں، لیکن اِس مرتبہ کھدوائی کا کام کئی زیادہ ہورہا ہے جس کی وجہ سے ہم کو تشویش ہے۔

 اسلامک اوقاف کو اسرائیل کی اِس طرح کی کارروائیوں پر گہری تشویش ہے کیوں کہ پتھروں کو توڑنے اور کھدوائی کا کام کرنے سے مسجد کی عمارت کے استحکام کو خطرہ پیدا ہوتا ہے۔

تبصرہ کریں

Back to top button