اسرائیل کے ساتھ امن مذاکرات کیلئے تیار:محمود عباس

محمود عباس نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل پر دباؤ ڈالاجائے تاکہ وہ فلسطینیوں کے خلاف اپنی کاروائیوں کو روکتے ہوئے آباد کاری سرگرمیاں اور فلسطینی اراضی کے انضمام کو روک دے۔

رملہ: فلسطین کے صدر محمودعباس نے دورہ کنندہ امریکی عہدیدار کو بتایا کہ بین الاقوامی قرار دادوں کے لحاظ سے اسرائیل کے ساتھ امن کاروائی کے لیے تیار ہیں۔ سرکاری فلسطینی خبر رساں ایجنسی ڈبلیو اے ایف اے رپورٹ میں بتایا گیا کہ محمودعباس نے رملہ میں مغربی کنارہ میں امریکی ڈپٹی اسسٹنٹ سکریٹری آف اسٹیٹ ہیڈی امر سے ملاقات کے دوران یہ بات بتائی اور انہوں نے فلسطینی امور کے بارے میں بھی انہیں مطلع کیا۔

 عباس نے انہیں بتایا کہ مشرق وسطی میں بین الاقوامی چوکھٹے کے تحت امن کے لیے بین الاقوامی کانفرنس منعقد کرنا ضروری ہے تاکہ اسرائیلی قبضہ ختم ہو اور1967 سرحدوں کی بنیاد پر فلسطینی مملکت قائم ہوسکے۔ ژنہوا نیوز ایجنسی رپورٹ میں آج ڈبلیو ایف اے کے حوالے سے یہ بات بتائی۔

عباس نے انہیں بتایا کہ  موجودہ صورتحال ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل پر دباؤ ڈالاجائے تاکہ وہ فلسطینیوں کے خلاف اپنی کاروائیوں کو روکتے ہوئے آباد کاری سرگرمیاں اور فلسطینی اراضی کے انضمام کو روک دے۔ ڈبلیو اے ایف اے رپورٹ میں بتایاگیا کہ عباس نے امر کو بتایا کہ گذشتہ ہفتہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں انہوں نے آن لائن تقریر کی تھی جس میں فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضوں کا خاتمہ کرنے کے لیے اقدامات بھی شامل ہے۔

2اکتوبر کو عباس نے بتایا کہ اگر اسرائیل 2 مملکتی حل کے حصول کو قبول نہ کرے تو فلسطین دوسرا راستہ اختیار کریں گے جن میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی1947 قرار داد پر عمل آوری جمہوری ریاست کے قیام کاانتخاب بھی شامل ہے۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button