اسلامو فوبیا مغربی ممالک میں تیزی سے پھیل رہا ہے

یزی سے بڑھتی ہوئی اسلام دشمنی صرف مسلمانوں کا ہی نہیں پوری انسانیت کا مسئلہ ہے کیونکہ اور کسی بھی طرح 2019 میں نیوزی لینڈ جیسے اور 2021 میں کینیڈا جیسے اسلاموفوبیا حملوں کے سامنے بند نہیں باندھا جا سکے گا۔

انقرہ: ترکی کے صدر رجب طیب اردغان نے کہا ہے کہ "اسلامو فوبیا خاص طور پر مغربی ممالک میں منہ زور وباء کی طرح پھیل رہا اورگلیوں محلّوں کے عام انسانوں سے لے کر سیاست دانوں تک، مزدوروں سے لے کر سرکاری ملازمین تک معاشرہ کے ہر طبقے کو زہریلا کر رہا ہے۔ترکی وزارت سیاحت و ثقافت اور صدارتی محکمہ مواصلات کے تعاون کے ساتھ ریڈیو اور ٹیلی ویڑن ہائی کمیٹی، محکمہ مذہبی امور، ارجئیس یونیورسٹی اور انقرہ یونیورسٹی کی طرف سے منعقدہ دوسرا بین الاقوامی میڈیا اور اسلامو فوبیا فورم انقرہ چیمبر آف کامرس کنوینشن سینٹر میں شروع ہو گیا ہے۔

فورم کے لئے بھیجے گئے پیغام میں صدر اردغان نے کہا ہے کہ "غیر ذمہ دار نشریاتی اداروں کی بھی حوصلہ افزائی سے پیدا ہونے والا نفرت کا ماحول مسلمانوں سمیت مختلف زبان، رنگ اور نسل کے کروڑوں انسانوں کو متاثر کر رہا ہے۔ یوکرین بحران کے حوالے شروع ہونے والے شرمناک مباحث، اسلام دشمنی اور ثقافتی امتیازیت کے قد و کاٹھ کے عکاس ہیں۔

 ہم، مظلوموں اور لاچاروں کے درمیان امتیازیت کو ہرگز قبول نہیں کر سکتے۔ تیزی سے بڑھتی ہوئی اسلام دشمنی صرف مسلمانوں کا ہی نہیں پوری انسانیت کا مسئلہ ہے کیونکہ اور کسی بھی طرح 2019 میں نیوزی لینڈ جیسے اور 2021 میں کینیڈا جیسے اسلاموفوبیا حملوں کے سامنے بند نہیں باندھا جا سکے گا۔

صدر اردغان نے کہا ہے کہ اس معاملے میں سب سے بڑی ذمہ داری مغربی سیاست دانوں، ذرائع ابلاغ اور سرکاری اداروں کے ساتھ ساتھ عالمِ اسلام اور اس کے اداروں پر عائد ہوتی ہے۔

ذریعہ
منصف ویب ڈیسک

تبصرہ کریں

Back to top button