اسلامی معاشرت اور ہمارا حال زار

 محمد عمر۔ کاماریڈی

مدیر التذکیر فاؤنڈیشن کاماریڈی

اسلام کی پرشکوہ عمارت جن اصول اور بنیادوں پر قائم ہے انہی میں سے ایک اہم ’’معاشرت ‘‘ بھی ہے، شریعتِ مطہرہ نے اس پر بہت زیادہ زور دیا ہے؛ کیوں کہ یہ حقوق العباد کی قبیل سے ہے، اور معاشرت دراصل اجتماعی زندگی میں رشتے داروں کے درمیان اعتدال اور توازن کو برقرار رکھنے ، اور ہر ایک طبیعت اور مزاج کی رعایت کرنے، اور ہر ایک سے نباہ کرلینےکا نام ہے۔

شریعتِ مطہرہ نے ہمیں زندگی کے ہر موڑ پر اپنی پاکیزہ اور روشن تعلیمات سے جینے کا سلیقہ سکھایا؛ لیکن آج ہماری جو صورت حال ہے وہ انتہائی ناگفتہ بہ ہے، کہ آج کل ہر کوئی مارے رنج وغم ہائے ہائے کررہا ہے، اور ہر شخص  پریشان حال اور رنجیدہ خاطر نظر آرہا ہے، ہر سو ٹینشن ہی ٹینشن ہے، نہ گھر میں سکون ہے نہ باہر قرار، نہ بیوی بچے خوش ہیں اور نہ ماں باپ راضی ، ان سب کی بنیادی وجہ معاشرتی حقوق سے ناواقفیت اور اسلامی تعلیمات سے دوری ہے-

یہ بھی پڑھیں

یہی وجہ ہے کہ ہر روز طلاق اور خلع کے مسائل پیش آرہے ہیں، لڑائی جھگڑوں کے کیسسز بھی اپنا رکارڈ قائم کررہے ہیں، ایک طرف شوہر، بیوی کے حقوق سے انجان ہے تو وہیں بیوی شوہر کی ذمہ داریوں سے بالکل نابلد ہے، ماں باپ اولاد کی تربیت کے فرائض سے بےخبر ہے تو اسی کے ساتھ ساتھ اولاد بھی ماں باپ کے آدابِ تعظیمی اور حقوقِ لازمی سے ناواقف ہے؛ اور اسی وجہ سے آج نہ بڑوں کا کوئی ادب ہے نہ چھوٹوں پر شفقت؛ حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ اپنے حقوق سے آگے بڑھ کر دوسروں کے حقوق کی رعایت کی جائے اور ہر ایک سے ادب و احترام سے پیش آئیں ؛ کیوں کہ

خموش اے دل بھری محفل میں چلانا نہیں  اچھا

ادب  پہلا  قرینہ  ہے محبت  کے  قرینوں  میں

معاشرت کی اہمیت کتاب وسنت کی روشنی میں

 زندگی میں پیار ومحبت ، اور گھروں میں چین و سکون کی فضا قائم ہونا یہ اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے اور اس کے حصول کے لئے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں معاشرتی حقوق سے واقفیت اور ان کی رعایت از بس ضروری ہے؛ اسی وجہ سے کتاب و سنت میں جا بجا معاشرتی حقوق کا درس دیا گیا ہے؛ چناں چہ باری تعالیٰ کا ارشاد ہے

 یٰۤاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ  بُیُوْتِکُمْ حَتّٰی تَسْتَاْنِسُوْا (النور:۲۷)

 اے ایمان والو ! اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں اس وقت تک داخل نہ ہو، جب تک اجازت نہ لے لو۔

 اور اسی طرح ایک آیت میں فرمایا:

 یٰۤاَیُّہَا الَّذِیْنَ  اٰمَنُوْۤا  اِذَا  قِیْلَ  لَکُمْ تَفَسَّحُوْا فِی  الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰہُ  لَکُمْ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا (المجادلہ: ۱۱)

اے ایمان والو ! جب تم سے کہا جائے کہ مجلس میں گنجائش پیدا کرو تو گنجائش پیدا کیا کرو ، اللہ بھی تمہارے لئے کشادگی پیدا فرمادیں گے اور جب کہا جائے کہ اُٹھ کھڑے ہو تو اُٹھ کر کھڑے ہوجایا کرو ، ان آیات میں ایک دوسرے کی رعایت کرنے اور ہر ایک کے ساتھ خیرخواہی کا معاملہ کرنے کا درس دیا گیا ہے، اور اسی طرح بےشمار احادیثِ نبویہ میں بھی مختلف پیرائیوں سے معاشرتی حقوق کی تعلیم دی گئی ہے؛ چناں چہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک ساتھ کھانے کے وقت دو چھوارے ایک ساتھ نہ لینا چاہیے؛ تا آںکہ اپنے رفیقوں سے اجازت نہ لے لے (بخاری:۲۴۸۹)

 ایک اور حدیث میں ہے کہ مہمان کے لئے حلال نہیں کہ میزبان کے پاس اس قدر قیام کرے کہ وہ تنگ ہوجائے، ( الادب المفرد:۷۳۳)

اور اسی طرح جو لوگ مریض کی عیادت اور تیمارداری کے لیے جائے تو ان کے لیے ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مریض کے پاس زیادہ دیر نہ بیٹھے؛ تاکہ اس پر گرانی اور بوجھ نہ ہو، (مشکوٰۃ شریف)

 ذرا غور کریں کہ ان احادیث میں ایک نہایت خفیف امر کہ دوسروں کو ناگواری ہوگی، دوسروں کے دل پر تنگی ہوگی ممانعت کردی۔

ایک مرتبہ حضرت جابرؓ درِ دولت پر حاضر ہوئے اور دروازہ کھٹکھٹایا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلمؐ نے پوچھا: کون ہے؟ انہوں نے عرض کیا: میں ہوں، آپؐ نے ناگواری سے فرمایا :’’ میں ہوں میں ہوں‘‘ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ بات بالکل صاف کہے کہ جس کو دوسرا سمجھ سکے،  ایسی گول مول بات کہنا جسے سمجھنے والا تکلیف میں پڑ جائے، اور الجھن کا شکار ہو جائے، یہ بالکل مناسب نہیں۔

اور خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلمؐ نے عملی طور پر بھی اس کا نمونہ پیش کیا؛ جیسا کہ آپ کے بارے میں منقول ہے کہ

’’ لا یوقظ النائم و یسمع الیقظان ‘‘

جب آپؐ گھر میں تشریف لاتے تو اتنا آہستہ سلام کرتے کہ جو جاگ رہے ہوتے وہ سن لیتے اور جو سورہے ہیں ان کی نیند میں خلل نہ ہوتا۔ ( مسلم : ۲۰۵۵)

اور صحابہ کرام ؓ بھی اس کا خاص اہتمام کیا کرتے تھے؛ چناں چہ حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے تو جو شخص جس جگہ پہنچ جاتا وہاں ہی بیٹھ جاتا (سنن کبریٰ للبیھقی:۵۸۹۰)

 یعنی لوگوں کو چیر پھاڑ کر آگے نہیں بڑھتے، کہ ان کو تکلیف نہ ہوجائے ؛ لیکن آج ہمارا جو حال ہے وہ ناقابل بیان ہے، ایسا لگتا ہے کہ ہمیں معاشرت سے کوئی سروکار ہی نہیں؛ جیسا کہ حضرت تھانویؒ فرماتے ہیں:’’ اس زمانے میں یہ غلطی عام ہے کہ جو دین دار لوگ ہیں وہ عقائد اور نماز روزہ اور وضع قطع لباس کا تو ضرور اہتمام کرتے ہیں؛ مگر اخلاق و معاشرت اکثر لوگوں کی نہایت گندی ہے۔

آخر معاشرت کی درستگی بھی تو دین کا شعبہ ہے؛ مگر اکثر مشائخ کے یہاں اس کی توجہ نہیں، اس کو معمولی بات سمجھتے ہیں۔ اللہ کا گناہ اتنا برا نہیں (جتنا برا اخلاق و معاشرت کا گناہ ہوتا ہے) ایسے فعل سے بہت بچنا چاہیے، جس سے دوسروں کو ضرر ہو، لوگ نوافل اور وظائف کا اہتمام تو کرتے ہیں؛ مگر اس کا اہتمام نہیں کرتے کہ دوسروں کو ضرر نہ پہنچے، اور گرانی نہ ہو، اس کو ہلکی بات سمجھتے ہیں؛ حالانکہ بہت بڑی بات ہے‘‘۔ (احسن العزیز)

 اور یہ بات اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ اسلام نے زندگی کے ہر موڑ پر ہماری رہنمائی کی ہے اور ہر ایک کے علاحدہ علاحدہ حقوق بتائے ہیں؛ چنانچہ

شوہروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ؐ کے اس فرمان کو اپنے ذہن و دماغ کے دریچے میں اچھی طرح اتاریں:’’سب سے بہترین وہ لوگ ہیں جو اپنی عورتوں کے ساتھ اچھا برتاوٴ کرتے ہیں ، اور میں تم میں اپنی خواتین کے ساتھ بہترین برتاوٴ کرنے والا ہوں‘‘ (ترمذی :کتاب المناقب : ۳۸۹۵ )

اور بیویوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ ادب واحترام سے پیش آئیں اس کا بڑا مقام ہے؛ جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلمؐ نے فرمایا: اگر میں کسی کو یہ حکم کرتا کہ وہ کسی (غیراللہ) کو سجدہ کرے تو میں یقیناً عورت کوحکم کرتا کہ وہ اپنے خاوندکو سجدہ کرے۔ اس حدیث سے بھی شوہر کی عظمت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

اولاد پر لازم و ضروری ہے کہ وہ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کو ذہن نشین کرلیں : کہ ایک شخص نے پوچھا، اے اللہ کے رسول! والدین کا اولاد کے ذمہ کیا حق ہے؟ آپؐ نے فرمایا : وہ تیری جنت یا دوزخ ہیں، (یعنی ان کی خدمت کروگے تو جنت میں جاؤ گے، ان نافرمانی کروگے  تو دوزخ میں جاؤگے) (مظاہرِ حق: ۴/۴۸۶)

والدین پر فرض ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلمؐ کے اس ارشاد سے بالکل صرف نظر نہ کرے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلمؐ  نے فرمایا:’’ما نحل والد ولده نحلا أفضل من أدبٍ حسن‘‘  ایک باپ کا اپنے بیٹے پر ادب سکھانے سے بڑھ کر اور کوئی احسان نہیں ہے۔ (جامع ترمذی:۱۹۵۲)

ہماری حالت زار

لیکن ہماری جو صورت حال ہے وہ محتاجِ بیان نہیں؛ چنانچہ دین سے دور لوگوں کا تو کہنا ہی کیا ! دین دار لوگ بھی اسی میں گرفتار ہیں، آج کل تو بس ہر گھر حقوق تلفی کی آگ میں جھلس رہا ہے، ہر بہن بیٹی کی یہی فریاد ہے، ہر شخص کی زبان بس ایک دوسرے کا شکوہ کر رہی ہے، ماؤں کے آنسو ادائیگیٔ حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں؛ نوبت بایں جا رسید کہ بہن بیٹیوں کی خوشگوار زندگیاں اجڑنے کی عبرت ناک داستانیں اخبارات کی سرخیاں بن چکی ہے۔

رشتوں کے ٹوٹنے، نکاح اور خلع کے مسائل، اور آپسی خانہ جنگیاں ہر خاص و عام کی زبان زد ہے، ستم بالائے ستم یہ کہ کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی، اور کسی کو ذرا یہ احساس تک نہیں ہوتا کہ ہماری وجہ سے کسی کو تکلیف تو نہیں ہورہی ہے، کسی کے دل پر کیا گذرے گی، ذرا سوچیں کہ کتنے رشتے ہماری وجہ سے ٹوٹ رہے ہیں، کتنے گھروں کی خوشیاں ناتمام رہی، کتنی نسلیں تباہ ہوگئی، کتنوں کی آہ کے ہم مستحق ہورہے ہیں، بہت سوچنے کا مقام ہے، فکر کرنے کی ضرورت ہے، یوں ہی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنے سے کچھ فائدہ نہیں ہوگا، اپنے اندر تبدیلی لانا پڑے گا؛ کیوں کہ جب تک تبدیلی نہیں ہوگی تو خوشحال زندگی کی تمنا کرنا سعیٔ لاحاصل ہے، خلاصہ یہ کہ

گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی

ثُریّا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا

علل و وجوہات

ہماری اس صورت حال کی کئی ایک وجوہات ہوسکتی ہیں؛ مثلاً معاشرتی حقوق سے ناواقفیت، دین سے دوری، علما کرام سے بے تعلقی، گھروں میں تعلیمی ماحول کا فقدان، دین سیکھنے کی عدمِ دلچسپی، موبائل فون کا حد درجہ استعمال، اہلِ خانہ کے لئے وقت فارغ نہ کرنا، عورتوں کی صرف کمیوں پر نظر کرنا اور گرفت کرنا، ایک دوسرے پر شک کرنا اور تجسس میں لگنا۔وغیرہ

یہ آشیاں کسی شاخِ چمن پہ بار نہ ہو

 زندگی کتنی احتیاط سے گذارنا چاہیے اور اپنے ضرر سے لوگوں کو محفوظ رکھنا کتنا ضروری ہے اس کے لئے باریک بینی اور دوراندیشی کا ایک سبق آموز واقعہ ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں جس کو مفتی تقی عثمانی صاحب مدظلہ نے اپنے ایک مضمون میں تحریر فرمایا:

’’حضرت مفتی شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ جب صاحبِ فراش ہو گئے ، پورا رمضان بیماریوں کے عالم میں گزرا، رمضان کے آخر عشرے میں ایک روز فرمانے لگے، میرا حال بھی عجیب ہے کہ لوگ رمضان میں مرنے کی تمنا کرتے ہیں،اور اس مقدس مہینے کی برکتوں کے پیش نظر خواہش مجھے بھی یہ ہوئی کہ موت تو آنی ہی ہے اسی مقدس مہینے میں آجائے؛ لیکن میں کیا کروں اس کے لئے دعا میری زبان پر نہیں آسکی۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ جب بھی میں یہ دعا کرنا چاہتا ذہن میں خیال آتا کہ اگر رمضان کے مہینے میں میری موت کا واقعہ پیش آیا تو میرے عزیزوں اور دوستوں کو بہت تکلیف ہوگی، صدمے کے علاوہ روزے کے عالم میں تجہیز و تکفین اور تدفین کے انتظام میں معمول سے کہیں زیادہ مشقت بڑھ جائے گی، اور اس بات پر دل آمادہ نہیں ہوتا کہ اپنی خواہش کے خاطر اپنے چاہنے والوں کو تکلیف میں نہ ڈالا جائے‘‘ یہ کہہ کر انہوں نے شعر پڑھا

تمام عمر اسی احتیاط میں گزری 

یہ آشیاں کسی شاخِ چمن پہ بار نہ ہو

(ذکر و فکر:۲۳)

لائحہ عمل اور علاج:

  اپنے معاشرے میں تبدیلی لانے اور زندگیوں میں بدلاؤ کے لئے چند تدابیر کا  اختیار کرنا نہایت ضروری ہے، جو سطورِ ذیل میں درج کی جاتی ہے: 

(۱) اولاً نکاح کورسس قائم کرے: جس میں نکاح کے مقاصد، اور بعدِ نکاح زندگی کیسے گذارے اس سے آگاہ کیا جائے، شوہر کے کیا حقوق ہیں، ساس سسُر کے ساتھ کیسا سلوک کیا جائے، بچوں کی تربیت کی ترتیب کیا ہو، اور گھر کا نظام اور نظم و ضبط کیسے چلایا جائے، اس کی تعلیم دی جائے. 

(۲) گھروں میں تعلیم کا نظام بنائیں، اس لئے کہ جب تک گھر کی تعلیم نہ ہو تو نسلوں کے ایمان کی کوئی گیارنٹی نہیں دی سکتی، اور اخلاق کی درستگی مشکل ہوں گی، اس لئے گھریلو تعلیم کا اہتمام کریں۔

(۳) علماء کرام سے تعلق اور رابطہ رکھیں، اس لیے کہ علماء کرام سے رابطے کے بغیر مسائل سے صحیح واقفیت، اور دینی تعلیم سے آگاہی مشکل ہے، اس لئے علماء کرام سے تعلق رکھیں۔

(۴) مکاتبِ نسواں کا اہتمام کیا جائے، اور اس میں پابندی سے شرکت کی جائے۔

(۵) اور محلہ واری سطح پر ہفتہ واری یا ماہانہ اجتماع کیا جائے، جس میں کسی عالمِ دین یا عالمہ کا بیان ہو، اور اس میں معاشرتی مسائل کو کھول کھول کر بیان کیا جائے۔

(۶) اپنے گھر کا کسی کو بڑا اور ذمہ دار بنائیں، جن کے مشورہ اور ہدایات پر گھر کا نظام چلے، اور آپسی تمام مسائل اور زنجشوں کا حل انہی سے لے۔

(۷) موبائل فون کے حد درجہ استعمال سے احتراز ہو، گھر میں موبائل صرف بقدرِ ضرورت ہی استعمال کرے اور گھر والوں کو وقت دیں، صرف نفسانی خواہشات کی تکمیل اور نفقہ فراہمی کافی نہیں ہوتی؛ بلکہ ان کے ساتھ بیٹھ کر ان جذبات واحساسات کو سمجھیں ‌۔

خلاصۂ تحریر:

زندگی اللہ کی عظیم نعمت ہے، اور زندگیوں میں سرور و شادمانی، خوشی اور آسودگی تب ہی میسر آسکتی؛ جب کہ مکمل اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہو، اور دینی تعلیم کو زندگیوں میں رواج دیا جائے، آپس میں ایک دوسرے کے حقوق کی رعایت کی جائے، اپنے مزاج سے آگے بڑھ کر دوسروں کے مزاج اور طبیعت کا خیال رکھا جائے، اور کوشش کریں کہ ہماری وجہ سے کسی کو ادنی سی بھی اذیت اور تکلیف نہ ہو۔

اگر کسی کو سکھ نہیں دے سکتے تو دکھ بھی نہ دے اور صحابہ کرامؓ کی زندگیوں کا مطالعہ کیا جائے، اور خصوصی دعاؤں کا اہتمام کریں کہ پروردگارِ عالم گھروں میں خوشی و مسرت اور سکون و اطمینان کا ماحول پیدا فرمائے، نفرت اور دوریاں اور خانگی جھگڑوں کو جڑوں سے ختم فرمائیں اور اپنی رضا نصیب فرمائیں۔ آمین بجاہ سید المرسلینؐ ۔

٭٭٭

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button