اس یوم جمہوریہ‘ اٹھتے سوالات ہندوستان کب آزاد ہوا؟ کیا نیا دستور بنانا ہے؟

اقبال احمد انجینئر

تہتر ویں یوم جمہوریہ میں نیا ہندوستان کا ایک بار پھر دعویٰ ابھارا گیا۔ بھاجپا15؍اگست1947ء کی آزادی ہند کو شاید اہمیت نہ دیتی ہو گو کہ لال قلعہ سے ’’ دھواں دھار‘‘ تقریر وزیراعظم کرتے رہے ۔ طرح طرح کے لباس زیب تن کئے خود کو ہر ریاست کی تہذیب سے جوڑتے رہے لیکن نظریاتی ہندتو وچار دھارا نے کبھی بھی ترنگا کو قومی جھنڈا قبول نہیں کیا۔ ناگپور کی آج کی پارلیمنٹ پر تو ترنگا ایک عرصہ تک لہرایا نہیں گیا تھا۔ ہاں1950ء (اس سال) دوسری مرتبہ اسے چڑھایا گیا تھا مگر کیا یہ عمل اس کا احترام کا تقاضہ تھا یا پھر اکثریت حاصل کرنے کی مساعی میں سرعت لانے کا ذریعہ ۔ یعنی کچھ عرصہ برداشت کرلو ‘ بعد از اختیار زعفرانی پرچم تو لہرایا جاتا ہے اس لئے اب ترنگے کے ساتھ زعفرانی پرچم بھی دکھائی دیتا ہے۔ ترنگا جو آزادی ہند کی یاد تازہ کرتا ہے تو زعفرانی پرچم نظریہ ہندتو وادی کو مستحکم اور دائم بنانے کی شروعات ہے۔ یہ ہندتو وچار دھارا نے 1947ء سے 2014ء تک کے عہد کو کانگریس کا بقایا جانے سے تعبیر کرتا رہا ہے ۔ اب مکت ہونے کی باری ہے اور 2025ء تک اس کا قیام و دوام کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے ۔ ہندتو وادیوں نے آزادی ہند کا نیا سال2014ء کو نمانا ہے اور قریب ہزاروں سال بعد پھر سے بھارت کا تصور لئے اس کے جغرافیائی حدود کو منوانے پر تل گئے ہیں۔ اب یہ کانگریس یا گاندھی یاپھر سیکولر ہندوستان نہیں رہا۔ بلکہ ایک نیا ہندوستان وچار دھارا کے مطابق بن چکا ہے۔ اسے وجود بخشنے والی نظریاتی تحریک ظاہر ہے کہ ناگپور کو بہ حیثیت اپنا پایہ تخت مانتی ہے اور دوسرا پایہ تخت عارضی دہلی کو بنانے موہن بھاگوت جی قوم اور قومیت اور قومی راشٹریہ کی نئی تعریف سے مباحثے کرتے ہیں۔ جن میں مرکزی موضوع ہندتو وادی اور یہاں بسنے والے سارے ہندتووادی کا پیغام بار بار دہرایا جاتا ہے۔ اب ’’ نظریہ ہندوستان‘‘ جو آزادی کے بعد ’’ دستور ہند‘‘ کے معنی میں متعارف کروایا گیا تھا وہ 2014ء کے بعد ’’ نظریاتی ہندتو وادی‘‘ میں ڈھالا جارہا ہے ۔ یہ نظریاتی اور فکری تبدیلی میں1950ء کا دستور ہند بھی تو تبدیل ہوگا۔ بنیادی حقوق کی تعریف بدل چکی ہے۔ آزادی خیال اور آزادی انتخاب اور آزادی عمل پر سخت پہرے ہیں۔ عاملہ کے اختیارات اور ذمہ داریوں کو نئے معنی دے کر دستوری ضمانتوں کو مذاق بنادیا ہے۔ ریاست کے اختیارات کو آج اس نیا ہندوستان میں تابع مرکز بناکر سارے اختیارات اور فیصلوں کا حق صرف وزیراعظم کے دفتر منتقل کردیا گیا ہے ۔ اس نئے ہندوستان میں جمہوریت عوام سے سمٹ کر دہلی کے عارضی دفتر میں محدود ہوکررہ گئی ہے جہاں سے ناگپور کے فیصلے نافذ کئے جاتے ہیں۔ کیا یہ سبق قومی اور بین الاقوامی سطح پر نہیں دیا جارہا ہے کہ آج کے ہندوستان کو گوڈسے کا جدید ہندوستان کے نام سے معنون کیا جائے ۔ گاندھی کا ہندوستان ‘ اب قصہ پارینہ ہے۔ غدارِ وطن کہنے یا کہلانے کے لئے بس یہی کافی ہے کہ وزیراعظم کے دفتر کے فرمانوں کی مخالفت کی جائے۔ انفرادی آزادی اب پابند آمریت ہے۔ دستور ہند کیا کاغذ کا پلندہ ہے؟ تو پھر مقننہ‘ اور عدلیہ کے ستونوں کی کیا حیثیت باقی رہ گئی ہے اور عدالتوں سے امید انصاف یا امن کے لئے مداخلت کیا ادھورا خواب بن جائے گا؟ یہ نیا ہندوستان ہے جس میں ہر سطح اور درجہ میں آمریت کے جراثیم پھیل چکے ہیں۔ کیا یہاں اب ڈنڈے کا راج ہوگا؟ اور عوام اسے برداشت کرلے گی؟ اس کشمکش بقاء انسانی و سماج میں آج ہندوستان گھر گیا ہے اور اسے ہی نیا ہندوستان کہا جارہا ہے۔
نظریہ ہندوستان سے نظریہ ہندتو وادی کے اس سفر میں2022ء کو بڑی اہمیت حاصل رہے گی۔ یہ کانگریس مکت ہندوستان کی طرف بہت بڑا قدم ہے۔ اب یہ شائد گاندھی کا ہندوستان نہیں رہا ؟ بلکہ وچار دھارا کے تحت گوڈسے کا ہندوستان بن گیا ہے یا بنایاجارہا ہے۔ 2019ء میں اس مودی حکومت نے ایک ’’ جدید جنگی یادگار‘‘ کا افتتاح کیا تھا۔ اس وقت کون جانتا تھا کہ اس کا مقصد کیا ہے۔ جو میڈیا کا پروپگنڈہ رہا اس میں افواج کی اس یادگار کو قائم کرنے پر مودی حکومت کی تعریف و تحسین میں الفاظ لٹائے گئے۔ ایسے قومی عنوان پر بھلا کسے اعتراض ہوسکتا ہے ۔ تمام شہری بھی اس فیصلے اور عمل پر خوش تھے کہ ہماری افواج نے بہت بڑا کام کیا ہے۔ سرجیکل اسٹرائیک کی ہے۔ دشمن پر بہادری کا سکہ بٹھایا ہے اور افواج میں نئی تبدیلی لا کر ایک کمانڈ کے تحت کردیا گیا۔ جنرل بپن راوت کی سربراہی میں ایک نئی فوج کی تشکیل اور اس فوجی یادگار پر ملک کا مقام و مرتبہ بڑھانے پر مثبت تبصرے بھی آئے جو نہایت خوش آئند تھے۔ اس قیام و عمل پر خاموشی کو ہی سنجیدہ ذہنوں نے ترجیح دی۔ لیکن افواج میں تشویش اب بھی باقی ہے۔ بپن راوت کی ہلاکت ثبوت ہے۔
’امرجوان جیوتی‘ کے نام پر ایک یادگار 1972ء میں قائم ہوئی جو ہندوستان کی تاریخی کامیابی1971ء سے جڑی ہے جس کے نتیجہ میں دو قومی نظریہ کو شکست ہوئی اور ایک نیا ملک بنگلہ دیش وجود میں آیا۔ اندراگاندھی کو درگا دیوی کا نام دینے والی یہ نظریاتی وچار دھارا اور ہندوستانی افواج کی بڑی کامیابی سے معنون کرتے ہوئے‘ پاکستان کی 90 ہزار فوج کے ہتھیار ڈال کر مغلوب ہونے کے رسوم کو تاریخ ہند میں سنہرے الفاظ سے رقم بھی کیا گیا۔ ہندوستانی سرحدوں کو محفوظ رکھنے کا یہ اقدام سیاسی فیصلوں کی اس فہرست میں آتا ہے جس میں حکومت وقت سنجیدہ اور جرأت مندانہ فیصلے کرتے ہوئے عالمی نقشے پر اپنی مہر عظمت ثبت کرتی ہے۔ اندراگاندھی نے جو قدم اٹھایا تھا وہ اس ملک کو ترقی یافتہ افواج میں شامل کروالیا اور پنڈت نہرو کی چین سے شکست کے داغ کو دھودیا۔ یہ وہ ہندوستان تھا جو1947ء میں آزاد ہونے کے بعد مختصر عرصے میں اپنی طاقت کی دھاک بشمول چین اپنے تمام ہمسایہ ممالک پر بٹھادی تھی۔ کانگریس نے نئی تاریخ رقم کی تھی۔
امر جوان جیوتی کا ہمیشہ جلنے والا شعلہ (آگ) اس تاریخی کامیابی کی یادگار اور افواج کی جرات اور حوصلہ مندی کی وہ روشنی جو ہمیشہ قوم کے لئے رہنمائی کرتی رہتی ہے اور ملک سے محبت اور سلامتی کے لئے جان دینے کی پکار کو نوجوانوں میں تازہ کرتی رہتی ہے ۔ سرجیکل اسٹرائیل بھی ایک اہم حوصلہ مندی کا واقعہ ہے ۔ کبھی اس کے نتائج پر نہ تو قومی طور پر اتفاق ہے اور نہ ہی بین الاقوامی سطح پر اس کی تصدیق ہوئی ہے اور مودی حکومت خود بھی امریکہ کی خاموشی پر ناراض ہے۔ بہر حال جو کچھ بھی ہو ہندوستانی عوام اسے کامیاب اقدام سمجھتی ہے جس کے نتیجہ میں نظریاتی مودی حکومت کو ایک عرصہ بعد اکثریت پارلیمنٹ میں ملی ہے۔ اب اس نیا ہندوستان میں ایک اہم فیصلہ بغیر مشاورت کے کیا گیا ہے اور تعجب ہوتا ہے کہ سارا میڈیا اور حزب مخالف بھی اسے موضوع بنانے سے کیوں کترارہی ہے۔ میڈیا کی خاموشی تو سمجھ میں آتی ہے کیوں کہ وہ نظریاتی طور پر بک چکا ہے لیکن حزب مخالف ‘ خاص طور پر کانگریس کی صفوں میں خاموشی کو کیا نام دیں۔ حوصلہ کی کمی یا سیاسی جرأت کا فقدان ۔ کیا اس نیا ہندوستان میں سب راضی ہیں تو پھر کانگریس کا وجود اور سیکولر جماعتوں کی بقاء کی ضمانتیں اور دستور کا مستقبل کیا ہوگا؟ اس یوم جمہوریہ پر سب سے بڑا سوال یہ اٹھا ہے کہ ہندوستان اب آزاد ہوا اور دستور کی حقیقت کیا ہے؟
مودی حکومت نے سرجیکل اسٹرائیک کی کامیابی کو تاریخی حیثیت دینے کے لئے جدید جنگی یادگار جو قائم کی ہے اب امر جوان جیوتی کا ہمیشہ جلنے والا شعلہ(جیوتی) کو جو ایک علاحدہ اور کامیاب افواج کارروائی ہے اسے اس (نئے) جدید جنگی یادگار میں ضم کردیا ہے۔ اب یہ شعلہ مودی حکومت کی بنائی گئی یادگار پر ہمیشہ ہمیشہ جلتا رہے گا۔ جو سرجیکل اسٹرائیک یا افواج کی کامیابی کا ذکر کیا جاتا ہے ‘ اسے علاحدہ رکھ کر یہ دن منایاجاسکتا تھا لیکن اسے بنگلہ دیش بنانے کی کامیابی سے بھلا کیوں جوڑا یا مقدم کیسے کہا جاسکتا ہے؟ کیا اس ضم کرنے یا جیوتی کو منتقل کرنے سے اندراگاندھی کی کامیابی اور کانگریس کی جرأت مندی کو پس پشت ڈالنا نہیں ہے۔ کیا یہ ثابت کرنا نہیں ہے کہ مودی کی سرجیکل اسٹرائیک کا کارنامہ ‘ اندراگاندھی کا بنگلہ دیش بنانے اور پاکستان کی مکمل شکست دینے کے عملی اقدام سے بہت بڑا ہے۔ یعنی مودی جی نے جو جرأت کا مظاہرہ کیا ہے وہ کانگریس نے اپنے دور اقتدار میں کبھی نہ کیا۔ اس لئے مودی حکومت کو کامیاب کرنا ہی ملک کو بچانے کے مترادف ہے ۔ اترپردیش میں کامیابی کے لئے ان قومی یادگاروں کو اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے استعمال کرنے کا یہ طریقہ کار کیا پسندیدہ ہوسکتا ہے۔ ؟ کیا یہ ملک کی خدمت ہے؟ یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ پچھلے آٹھ سال سے اس ملک کے شہریوں کو ایسے ہی فیصلوں کا خمیازہ بھگتنا پڑرہا ہے۔ یوم جمہوریہ سے ایک دن قبل امر جوان جیوتی کو منتقل کرنے کا فیصلہ غیردانشمندانہ ہی نہیں بڑا تکلیف دہ بھی ہے ابھی وہ چوٹ بھی تازہ ہے جس میں1950ء سے Abide with Me مہاتماگاندھی کا پسندیدہ نغمہ جو افواج کی کامیاب واپسی (ہند کی افواج) کو بالکل ہی ختم کردیاگیا۔ قدیم روایتوں کو ترک کرنے یا مسترد کردینے کا اعلان تاکہ نیا ہندوستان کو وجود بخشا جائے۔ اس کا مطلب واضح ہے کہ ہندتووادی فکر میں1947ء کی آزادی کو قطعی آزادی نہیں سمجھا جاتا بلکہ یہ وہ غلامی کا دوسرا دور ہے جس میں گاندھی جی کا ہندوستان اور کانگریس کا راج رہا ہے۔ مودی کا دور جو2014ء سے شروع ہوا ہے وہی دراصل ہندوستانی کی سچی آزادی کا دور ابتداء ہے اور اسے ہی نیا ہندوستان کہا جائے گا۔ اس یوم جمہوریہ پر دوسرا اہم سوال اس نیا ہندوستان میں یوم جمہوریہ اور دستور ہند کا موقف کیا ہے؟
’ امر جوان جیوتی‘ جو پچاس سال سے روشنی دے رہی ہے (جل رہی ہے) اور جوان ہندوستانی سپاہیوں(افواج) کی ہمت او ربہادری کی نشانی ہے جنہوں نے اپنی ذمہ داریاں اور فرائض نبھائے ہیں جان دیدی۔ اسے اس حکومت کے الفاظ اور فیصلوں نے جڑ سے ختم کردیا۔ شمار ہی نہیں کیا بلکہ ماننے سے بھی انکار کردیا۔ اس غیردانشمندانہ اور تکلیف دہ فیصلہ کے جواز میں دلیل جو دی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ انڈیا گیٹ دراصل ہندوستان کی نوآبادیت یعنی انگریزوں کے قبضہ کی یاددلاتا ہے جیسے کہ ہم غلام رہے یعنی یہ انڈیا گیٹ ہماری غلامی کی وہ زندہ جاوید نشانی ہے جسے ’ مودی کا نیا ہندوستان‘ برداشت نہیں کرپائے گا۔ حالانکہ جو الفاظ انڈیا گیٹ پر نقش ہیں ان پر مندرجہ ذیل عبارت لکھی ہوئی ہے۔
’’ ان شہیدوں کے نام جو ہندوستانی افواج میں سے تھے اور ہلاک ہوئے اور جنہیں عزت و احترام سے نوازا ہے۔ فرانس اور حلیف روس نے‘ میسوپپوٹیمیا اور ایران نے‘ مشرقی افریقہ گلیپولی اور ہر جگہ قریب یا دور مشرق میں اور بصد احترام یادوں کے ساتھ جن کے نام یہاں ثبت (لکھے) گئے ہیں اور جو ہندوستان میں ہلاک ہوئے اور شمالی مغرب سرحدوں اور تیسری افغان جنگ میں‘ اس طرح انڈیا گیٹ دراصل ان ہندوستانی افواج کو خراج عقیدت پیش کرتا ہے/دیتا ہے۔ جن کی جانوں کی قربانی نے ساری دنیا میں اس ملک کا نام اونچا کیا اور رکھا اور ان ممالک میں بھی ان ہندوستانی افواج کو احترام سے دیکھا جاتا ہے جنہوں نے دنیا پر مسلط کی گئی جنگ اور ظلم کے خاتمہ کے لئے کام آئے۔ اس عقیدت کو یاد کرنے کے لئے جو دھن بجائی جاتی ہے اور جسے مہاتماگاندھی ملک کی عزت مانتے تھے اس دھن کو ہی مودی حکومت نے ختم کردیا۔ اب تک گجرات کے گاندھی کو برداشت کیا جاتا رہا لیکن گوڈسے ہندوستان میں ہر گاندھی کا ا نجام کیا ہوگا اسے بتادیا گیا ہے۔
انڈیا گیٹ کو نوآبادیاتی غلامی کی نشانی بتاکر مودی حکومت نے اسے ختم کردیا لیکن اس سے ان شہیدوں ‘ افواج کی قربانی اور جرأت کو بھی ناپسندیدہ اور مسترد کردیا جنہوں نے آج ہندوستانی قوم کی تعمیر کے لئے سب کچھ لٹادیا حالانکہ جدید جنگی یادگار کے افتتاح کے وقت حکومت وقت نے بھروسہ دلایا تھا کہ امر جیوتی‘ انڈیا گیٹ پر جلتی رہے گی۔ اسی طرح پسندیدہ دھن Abide With me بھی تجدیدی نام ’ نیا ہندوستان‘ کے لئے ختم کردی گئی۔ یہ فیصلہ حکومت کے مفادات کے تحت لیا گیا ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ ایک مستحکم اور محفوظ قوم اور اس کی طاقتور قیادت اپنے یقین‘ عقیدے اور عمل میں بھی مضبوط اور مستحکم ہوتی ہے‘ ایسی پراعتماد قوم ماضی سے سبق سیکھتی ہے تاکہ اچھا مستقبل بنائے۔ وہ پراعتماد اقتدار حکومت اپنے شہریوں کے سامنے تکلیف دہ ماضی بھی رکھتا ہے اور اس کے زوال اور عروج کی تاریخ بھی بتاتا ہے جس میں سخت محنت اور کاوش کا دخل ہوتا ہے۔ لیکن مودی حکومت میں یہ سب ناپسندیدہ ہے وہ قطعی پراعتماد اور طاقتور نہیں ہے۔ وہ ملک میں ہوتی ہوئی کامیابیوں پر گفتگو نہیں کرتی بلکہ اس ملک کی ان تاریخی واقعات کو دہراتی ہے جس میں وہ مظلوم ہی رہی۔ جلیان والا باغ کو دہراتی ہے۔ مودی حکومت کے اس طریقہ کار کو کئی مورخ پسند نہیں کرتے اور اس موقف کو مسترد کرتے ہیں۔ سکھ بھی اسے پسند نہیں کرتے۔ ہر کشمکش آزادی کی کوشش کو ایک واقعہ بتاکر مفادات نظریہ کا تحفظ ہی کیا مودی حکومت کی پالیسی اقتدار رہی ہے؟ آج اسے تاریخ کو مستحکم کرنا کہا جاتا ہے لیکن اس نظریاتی ہندتو وادی اقتدار کو عوام سے کوئی دلچسپی نہیں۔ نظریہ کی کامیابی مقدم ہے چاہے طریقہ کار نامناسب ہی کیوں نہ ہو۔
ان ہندتو وادیوں کے پاس 2014ء ہی ’سچی آزادی‘ کا سال ہے۔ وہ تاریخ کی کتابوں کو بدل رہے ہیں۔ عوامی اہمیت کے اداروں‘ نیم سرکاری ایجنسیوں میں اسی فکر کو جگہ دے رہے ہیں اور مخالفت کو قتل کررہے ہیں۔ اس لئے راہول گاندھی نے ہندو اور ہندتووادی کی جنگ چھیڑدی شاید پسماندہ طبقات بھی خود کو غیر محفوظ سمجھ رہے ہیں‘ بغاوت پرآمادہ ہیں۔ اس کا مقصد یہی ہے کہ اپنی تابعدار انسانوں کی فوج بنائی جائے جو اندھی تقلید کرتے ہوئے احکامات کی پیروی کرے۔ دھرم سنسدوں کی تقاریر اس کا عملی نمونہ ہے ۔ کیا حکومت کی پالیسی کا ایک ہی مقصد ہے کہ عوام کے آنکھ کان اور سمجھ پر حکومت کا پہرہ ہو؟ وہی سنیں جو حکومت سنانا چاہتی ہے ۔ وہی دیکھیں جو حکومت دکھانا چاہتی ہے اور وہی فکر رکھیں جو حکومت رکھتی ہے اور حکومت کے ہر اقدام کو تعریفی نظرسے دیکھیں اور اس کے ہر فعل و قول کو اپنے لئے بہتر جانیں ۔ حکومت چاہتی ہے کہ ہندوستانی عوام‘ ہندتو وادیوں کے ہاتھ میں روبوٹ بن جائیں اور اپنی تمام زندگی کو ان کی غلامی میں دے دیں۔ مودی اقتدار کے یہ سارے فیصلے جو نیا ہندوستان بنانا چاہتے ہیں اس میں کیا انسان کی کوئی جگہ نہیں ہے؟ بس ایک مشین کی ضرورت ہے جو نظریاتی بٹن پر حرکت کرے اور ملک کے مفادات میں کام کے بجائے ہندتو وادی نظریہ کو رائج کرنے اور عمل پیرا ہو کیوں کہ نظریاتی زندگی ہی قومی زندگی ہے اور یہی قومی زندگی قوم بناتی ہے اور قوم ہی ملک ہوتی ہے جو سماج میں تبدیل ہوکر ایک زندہ خدا ہوتا ہے۔ یہی اصل میں وہ ہندتو وچار دھارا ہے جس کا ہندو مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ ہندتو کی بنیاد ہے۔
حکومت وقت کی اس جہالت کے باوجود ہندوستانی عوام کی فطرت میں ماضی کی تاریخ کی بقاء ہے۔ فنا نہیں۔ وہ ماضی کی تاریخ سے سیکھنا چاہتی ہے اسے بھلانا نہیں چاہتی۔ وہ چاہتی ہے کہ ’’ جدید جنگی یادگار‘‘ جو 2019ء میں بنی وہاں بھی جیوتی ہمیشہ جلتی رہے اور ’ امر جوان جیوتی‘ انڈیا گیٹ پر بھی ہمیشہ جلتی رہے ۔ 50سال سے جلتا شعلہ کو یکدم بند کرنے کا حق حکومت کو کس نے دیا ہے؟ کیا بھاجپا انڈیا گیٹ پر61395مسلم ناموں کو پسند نہیں کرتی۔ اسے مٹادینا چاہتی ہے۔ پسماندہ ذات کے 14480 نام ہیں۔ دلتوں کے 10777 نام ہیں ‘ ہندو بڑی ذات کے 598 اور ہندتو وادی میں کوئی نہیں اور سکھ8050نام ہیں۔ آر ایس ایس اور ہندتو وادی اس لئے انڈیا گیٹ اور امر جوان جیوتی کو اس لئے مٹانا چیاہتی ہے کہ وہ 65فیصد مسلمانوں کے ناموں کو زندہ رکھنا نہیں چاہتی اور ہندتووادی کا ایک بھی نہیں مرا کا الزام مٹادینا چاہتی ہے اور اونچی ذات والوں کی بھی تعداد کی کمی برداشت نہیں ہورہی ہے کیا نیا ہندوستان کا مقصد یہی ہے ؟
۰۰۰٭٭٭۰۰۰

تبصرہ کریں

Back to top button