اشوک کے شیروں سے آریہ کے نرسنگھ بھگوان کی طرفبرہمنواد کے بڑھتے قدم

برہمنواد ومنواد جس کے لیے نرسنگھ بھگوان نے شودر راجہ ہرنیہ کشیپ کو قتل کیا اور جس کو نافذ کرنے سے نرسنگھ بھگوان خوش ہوتے ہیں اور جس کے مطابق زندگی گذارنے سے نرسنگھ بھگوان کا آشیرواد حاصل ہوتا ہے، سوال یہ ہے کہ نئی پارلیمنٹ پر نصب کردہ اشوک کے شیروں کو نرسنگھ بھگوان کا روپ دینے کی کوشش کیا اس لیے کی گئی اور برہمنوادی کرم کانڈ کے ذریعہ رسم نقاب کشائی کیا اس لیے انجام دی گئی کہ برہمنواد اب اپنا وہ قدم اٹھانا چاہتا ہے جس کے لیے وہ اپنے رخ زیبا کو ہندوتو کے نقاب میں چھپاکر ایک لمبی مدت سے شبانہ روز محنت کر رہا ہے ؟ یا یہ سب بتان وہم وگماں ہیں؟

احمد نور عینی

ملک کی زیر تعمیر پارلیمنٹ کی نئی عمارت پر اشوک استمبھ سے موسوم قومی نشان نصب کیا گیا، جس کی نقاب کشائی کچھ روز قبل وزیر اعظم کے ہاتھوں عمل میں آئی، اس قومی نشان میں بنے شیروں کی شکل اشوک استمبھ کے شیروں سے کچھ مختلف ہے، اشوک استمبھ کا اصل تراشیدہ پتھر سارناتھ میوزیم میں محفوظ ہے، اس میں جو شیر ہیں ان میں وقار اور متانت ہے، جب کہ حالیہ نصب کردہ شیر پر تشدد اور جارح نظر آر ہے ہیں، اشوک کے بنائے ہوئے شیر طاقت کی علامت ہیں اور ان کے چہرے کا وقار ومتانت اہنسا اور امن وشانتی کی علامت ہے،اشوک نے اپنے اس استمبھ کے ذریعہ یہ پیغام دیا ہے کہ طاقت وشوکت حاصل ہونے کے بعد بھی اہنسا کی راہ اپنانی چاہیے۔ راجہ اشوک ایک زمانے تک ہنسا کی راہ کو اپنائے ہوئے تھا، جنگ میں اس کی اور اس کے لشکر کی تلوار سے بے تحاشا لوگ مارے گئے، بعد میں اس نے یدھ (جنگ) چھوڑ کر بدھ کی پناہ لی اور اہنسا کی راہ اختیار کی اورگوتم بدھ کے اہنسا کا پرچار کیا، چار شیروں کا یہ استمبھ بھی بدھ مت کے اسی اہنسا کی علامت ہے۔ زیر تعمیر پارلیمنٹ کی عمارت پر نصب شیروں کی شکل کچھ ایسی بنائی گئی کہ اشوک استمبھ کا اصل پیغام ہی فوت ہوگیا،اور برہمنوادی کرم کانڈ کے ذریعہ رسم نقاب کشائی کی انجام دہی سے تو کریلا نیم چڑھا ہوگیا، سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب کچھ یوں ہی بلا قصد وبلامنصوبہ ہو گیا؟ ظاہر سی بات ہے کہ قومی نشان سے چھیڑ چھاڑ یوں ہی بلا مقصد اور بغیر منصوبہ بندی کے نہیں کی جاسکتی، اس کے پیچھے ایک بڑا مقصد اور ایک اہم منصوبہ ہے، مقصد ہے اشوک استمبھ کو برہمنوادی تہذیب میں گم کرنے کا اور منصوبہ ہے منوواد کو مستحکم کرنے کا۔ جس برہمنواد نے ہموار اشوک استمبھ کو شیو لنگ بنایا اور جس برہمنواد نے شیو کے مجسموں کو نہ جانے کتنے دیوی دیوتاؤں کا روپ دیاوہ برہمنواد اب شیروں والے اشوک استمبھ کو بتدریج ہڑپنے اور اسے اپنی تہذیب میں گم کرنےکے درپے ہے۔ حالیہ نصب کردہ قومی نشان کے شیروں کو غور سے دیکھیں تو ان میں نرسنگھ اوتار کی جھلک نظر آتی ہے، برہمن لٹریچر کے مطابق یہ وشنو کا چوتھا اوتار ہے جو ست یگ کے اخیر میں آیا تھا اور ہرنیہ کشیپ نامی راجہ کا قتل کیا تھا ، نرسنگھ اوتار والے شیر میں اور اشوک کے شیر میں ایک بات مشترک ہے کہ دونوں کا تعلق استمبھ یعنی ستون سے ہے، اشوک کے شیر کا ستون سے تعلق تو واضح ہے کہ اشوک نے انھیں ستون پر ہی کندہ کرایا تھا، نرسنگھ اوتار والے شیر کا ستون سے تعلق یوں ہے کہ اس کا ظہور ستون سے ہی ہوا تھا۔
برہمنواد کے تناظر میں نرسنگھ بھگوان کی کیا اہمیت ہے اور اشوک استمبھ کو نرسنگھ بھگوان کا روپ کیوں دیا جارہا ہے اسے سمجھنے کے لیے نرسنگھ بھگوان کے اوتار لینے کی کہانی کا ذکر کرنا ضروری ہوگا، یہ کہانی نرسنگھ پران میں کافی تفصیل سے آئی ہے، مختصراً یہ کہ ست یگ کے اخیر دور میں ہرنیہ کشیپ نامی ایک راجہ تھا، اس نے ہزاروں سال عبادت وریاضت میں گذارے اس کی اس عبادت سے خوش ہوکر برہما نے اسے ایسا وردان دیا کہ اسے ہرانا اور مارنا تقریباً ناممکن ہوگیا، یہ ناقابل تسخیر طاقت بن کر ابھرا ، اس سے انسان تو انسان دیوتا بھی ڈرنے لگے، یہ اناریہ قوم سے تھا یعنی اس قوم سے تھا جس کو آریہ نے اپنا غلام اور شودر بنایا تھا، نرسنگھ پران میں اس راجہ کا ذکر دَیتیہ(ادھیائے: 40، اشلوک 6، 30)، دانَو(ادھیائے: 40، اشلوک: 3۔ ادھیائے: 43، اشلوک 25)، اَسْر (ادھیائے: 42، اشلوک: 17۔ادھیائے: 44 ، اشلوک:21)، راکشس (ادھیائے: 43، اشلوک:24) جیسے ناموں سے ملتا ہے؛ بل کہ ایک جگہ تو اسے شودر بھی کہا گیا ہے(دیکھیے: ادھیائے: 42، اشلوک: 17) یہ وہ نام ہیں جو آریائی برہمن نے غیر آریائی بھارتی مولنواسی قوموں کو دیے ہیں، اور آریائی برہمن نے جن قوموں کو یہ نام دیے انھیں طبقاتی نظام میں سب سے نیچے رکھا اور ان کا کام صرف آریائی طبقات اور خاص کر برہمن کی خدمت کرنا طے کیا ۔ راجہ کشیپ کے تئیں آریائی برہمنوں کی پریشانی اور اس سے ان کی دشمنی کی اصل وجہ یہ تھی کہ وہ آریائی برہمن کے بنائے ہوئے طبقاتی نظام میں مداخلت کر رہا تھا، وہ نہ صرف یہ کہ حاکم بن بیٹھا تھا؛ بل کہ اس نے برہمن کو بھی اپنے زیر نگیں کرلیا تھا، اس کے بیٹے کے برہمن اتالیق نے جب اسے وشنو بھکتی سکھائی تو اس نے اس برہمن اتالیق کو بلاکر یوں ڈانٹ پلائی:
’’مورکھ برہمن ! یہاں سے چلا جا، چلا جا، اب کی بار میرے بیٹے کو اچھی تعلیم دینا‘‘۔ (نرسنگھ پران: ادھیائے: 41، اشلوک: 63، 64۔ ص: 148، ہندی ترجمہ، مطبوعہ : گیتا پریس گورکھپور)
ڈانٹ سننے کے بعد اس برہمن کی حالت ایسی پتلی ہوئی کہ ’’ بڑی مہربانی ہوئی‘‘ کہتا ہوا گھر چلا گیا، اور وشنو کا بھجن چھوڑ کر ہرنیہ کشیپ کی تسبیح پڑھنے لگا (حوالۂ سابق) ۔ ہرنیہ کشیپ کا دبدبہ برہمنوں پر کچھ ایسا قائم تھا کہ اسے غصے میں دیکھ کر وہ لوگ دست بستہ منت سماجت کرنے لگتے۔ نرسنگھ پران میں ہے:
’’برہمنوں نے ہاتھ جوڑ کر کہا: دیو! آپ کے محض جنگ کی خواہش کرنے سے ہی سارا سنسار تھر تھر کانپنے لگتا ہے‘‘۔ (ادھیائے:42، اشلوک:46،47)
آریائی برہمنوں نےطبقاتی نظام اس طرح تشکیل دیا تھا کہ سب سے اوپر برہمن کو رکھا اور سب سے نیچے شودر کو، ہرنیہ کشیپ نے اس کو پلٹ دیا، شودر اوپر آگیا اور برہمن نیچے ، برہمن لوگ شودر راجہ کو دیو کہتے (جیسا کہ ابھی اوپر نرسنگھ پران کے حوالے سے آیا)، اور شودر راجہ برہمن کو شودر کہتا، جیسا کہ نرسنگھ پران میں ہی ہے کہ ہرنیہ کشیپ برہمنوں سے کہتا ہے:
’’ او شودر برہمنو! ایسا لگتا ہے کہ تم لوگ مرنے کے لیے کچھ زیادہ ہی بے تاب ہو‘‘۔ (ادھیائے: 43، اشلوک: 26۔ ص: 155، ہندی ترجمہ، مطبوعہ : گیتا پریس گورکھپور)
جس برہمنوادی نظام میں یہ حکم ہے کہ شودر اگر دویجہ کا نام شوخی کے ساتھ لے تو اس کے منہ میں بارہ انگل گرم آہنی سیخ ڈال دی جائے(دیکھیے: منوسمرتی: ادھیائے: 8، اشلوک: 271)وہ کس طرح اس بات کو برداشت کرسکتا ہے کہ ایک شودر راجہ برہمنوں کو ڈاٹے اورانھیں نیچ اور شودر کہے۔ اس سے یہ بات واضح ہے کہ ہرنیہ کشیپ کے خلاف برہمنوں کی کاوش اور سازش کا بنیادی سبب یہ تھا کہ وہ نسلی برتری والے آریائی نظریے کو چیلنج کر رہا تھا اور سماج کو برہمنواد سے آزادی دلا رہا تھا،ایسے میں برہمنواد کے باز استحکام کے لیے راجہ ہرنیہ کشیپ کا قتل ضروری تھا، نرسنگھ پران کے مطابق اس کے قتل کا پس منظر یوں ہے کہ اس کا بیٹا ’پرہلاد ‘ برہمن اتالیق کی تعلیم کے سبب وشنو بھکتی میں مبتلا ہوگیا تھا، وشنو چوں کہ آریہ قوم کا دیوتا تھا اس لیے راجہ کو بیٹے کی یہ بھکتی ایک آنکھ نہ بھاتی ، اس نے اسے بہت سمجھایا، تنگ آکر اس کا قصہ تمام کرنے کی بھی کوشش کی، اسی ارادے سے اس نے ایک مرتبہ نیام سے تلوار نکالی اور اپنے بیٹے سے کہا کہ تو کہتا ہے کہ وشنو ہر جگہ ہے تو کیا وہ اس ستون میں بھی ہے؟یہ کہتے ہوئے اس نے تلوار ستون پر ماری، تلوار ستون سے ٹکراتے ہی اندر سے شیر دہاڑتے ہوئے نکلا، یہ شیر دراصل وشنو تھا جو نرسنگھ کے روپ میں اوتار لے کر ظاہر ہوا تھا، اس شیر کا نیچے کا آدھا جسم انسانوں جیسا تھا، اس نے راجہ ہرنیہ کشیپ کو اپنے پیر پر رکھ کر ناخن سے کھرچ کھرچ کر مار دیا۔ یوں آریائی نسلی برتری کو چیلنج کرنے والا نظامِ حکومت شکست سے دوچار ہوا اور برہمنواد جیت گیا۔ (اس کہانی کی تفصیل کے لیے دیکھیے : نرسنگھ پران: ادھیائے: 40 تا 45۔ ص: 138 تا 164، ہندی ترجمہ، مطبوعہ گیتا پریس گورکھپور)
ہرنیہ کشیپ کی مذکورہ بالا کہانی برہمن کی لکھی ہوئی مذہبی کتاب نرسنگھ پران سے لی گئی ہے، اس لیے بہت سی باتیں اس میں ایسی ہیں جو زیب داستاں کے لیے بڑھا ئی گئیں اور بہت سی باتیں خلاف عقل داخل کی گئیں جس سے یہ کہانی ایک دیومالائی کہانی بن گئی، اس کے دیو مالائی پہلو کو قلم انداز کرتے ہوئے جیوتی با پھلے(م1890) نے معقول انداز میں اسے ذکر کیا ہے، واضح رہے کہ جیوتی با پھلے دور جدید کی برہمنیت مخالف تحریک کے بانی ہیں، وہ اپنی کتاب غلام گیری میں ہرنیہ کشیپ کے قتل کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’(دویجوں کے سردار نرسنگھ نے) موقع دیکھ کر ایک رنگ ریز سے شیر کے بناوٹی روپ کی طرح اپنے سارے بدن کو رنگ کرایا، منہ میں بڑے بڑے نقلی دانت لگوائے، لمبے بالوں والی داڑھی مونچھیں لگوائیں، اور وہ اس طرح ایک خوفناک شیر معلوم ہونے لگا، یہ سارا بہروپ چھپانے کے لیے نرسنگھ نے زری سے بنی گئی اعلی قسم کی ایک ساڑھی پہن لی، کسی کنواری دوشیزہ کی طرح اپنے چہرے پر لمبا سا گھونگھٹ ڈال لیا، اور مندر میں جس طرف ترتیب سے ستونوں کی ایک قطار سی لگی ہوتی ہے اس طرف ان ستونوں میں سے کسی ایک کی اوٹ میں چھپ کر کھڑا ہوگیا، اسی دوران ہرنیہ کشیپ دن بھر کے کارہائے حکومت سے تھکا ہارا مندر میں جوں ہی آرام کی غرض سے مسہری پر لیٹا تبھی نرسنگھ نے بڑی چابکدستی سے ان ستونوں کی اوٹ سے نکل کر ہرنیہ کشیپ کا قتل کردیا‘‘۔ (غلام گیری: باب: 5)
کہانی خواہ دیومالائی ہو یا معقول، نرسنگھ خواہ آریہ کا بھگوان رہا ہو یا دویجوں کا راجہ، وہ ستون کے اندر سے نکلا ہو یا پیچھے سے آیا ہو اتنی بات تو طے ہے کہ نرسنگھ نامی آریائی مخلوق نے ہرنیہ کشیپ نامی شودر راجہ کو قتل کیا،خلاصہ یہ کہ برہمنوادی طبقاتی نظام کی بخیہ ادھیڑ کر برہمن کو اپنے زیر نگیں کرنے اور انھیں ڈانٹنے ڈپٹنے کی جسارت کرنے والے کوآریائی برہمن کے نرسنگھ بھگوان نے ابدی نیند سلاکر برہمنواد کو دوبارہ مستحکم کیا، یعنی طبقاتی نظام کو قائم کرنے، شودروں کی غلامی کو دوبارہ نافذ کرنے اور برہمنواد کو باضابطہ مستحکم کرنےکے سلسلے میں نرسنگھ بھگوان کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے، اس سے یہ بات سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ اشوک کے شیروں کو نرسنگھ بھگوان جیسا روپ دینے کی کوشش کرناکس بات کی علامت ہے اور آئندہ کس طرح کے نظام کے نفاذ کی تیاری ہے؟ نرسنگھ بھگوان نے چوں کہ ہرنیہ کشیپ کو قتل کرکے ورن آشرم (طبقاتی نظام) کو دوبارہ مستحکم کرنے کا عظیم کارنامہ انجام دیا اس لیے اس نرسنگھ بھگوان کو خوش کرنے کے لیے ورن آشرام کو نافذ کرنا اور اس کے مطابق زندگی گذارنا ضروری ہے، نرسنگھ پران میں یہی ہدایت دی گئی ہے، جس پر پوچھنے والے نے پوچھا کہ برائے مہربانی ورن آشرم کا وہ دھرم بتائیے جس پر عمل کرنے سے سناتن بھگوان نرسنگھ خوش ہوتے ہیں (دیکھیے: نرسنگھ پران: 57: 9)۔ اس کے جواب میں برہمن کے چھ کام بتائے گئے: پڑھنا، پڑھانا، یگیہ کرنا، یگیہ کرانا، دان لینا، دان دینا (ادھیائے: 57، اشلوک:21)۔ یہاں کسی کو یہ شبہ ہو سکتا ہے کہ برہمن جنم کی بنیاد پر نہیں بل کہ کرم یعنی عمل کی بنیاد پر ہوتا ہے، اس شبہ کے ازالہ کے لیے نرسنگھ پران میں پوری وضاحت کے ساتھ بتایا گیا کہ برہمن کون ہے:
’’جو برہمن خانوادے میں پیدا ہونے والی عورت کے رحم سے اور برہمن ہی کے مادۂ منویہ سے پیدا ہو وہ برہمن کہلائے گا‘‘۔ (نرسنگھ پران: ادھیائے: 57، اشلوک:28)
نرسنگھ بھگوان کو خوش کرنے والے ورن آشرم دھرم کی وضاحت کرتے ہوئے چھتری سے کہا گیا کہ وہ سریشٹ برہمن کو دان دے، دیوتاؤں اور برہمنوں کا بھکت بن کر رہے (نرسنگھ پران: ادھیائے: 58، اشلوک: 2، 3)۔ ویش سے کہا گیا کہ وہ پوری عقیدت کے ساتھ مال و دولت کے ذریعہ برہمن کا احترام بجا لائے اور اسے دان دیتا رہے (نرسنگھ پران: ادھیائے: 58، اشلوک: 7، 8)۔ اور شودر سے جو کہا گیا اس کو نرسنگھ پران کے ہندی ترجمہ سے بعینہ نقل کردینا ہی مناسب رہے گا:
’’شودروں کو چاہیے کہ وہ تندہی سے ان تینوں ورنوں کی خدمت کرے، خاص کر برہمنوں کی غلام کی طرح خدمت کرے، کسی سے مانگ کر نہیں اپنی ہی کمائی کا دان دے، کسب معاش کے لیے کھیتی باڑی کرے، ۔۔۔ پرانے کپڑے پہنے، برہمنوں کا جھوٹا برتن مانجھے، ۔۔۔۔ برہمنوں کے منہ سے پران کتھا سماعت کرے۔ بھگوان نرسنگھ کی پوجا کرے، اسی طرح برہمنوں کو عقیدت کے ساتھ نمسکار کرے‘‘۔
( نرسنگھ پران: ادھیائے:58، اشلوک: 10۔ 13، ص:255)۔
یہ ہے وہ طبقاتی نظام اور برہمنواد ومنواد جس کے لیے نرسنگھ بھگوان نے شودر راجہ ہرنیہ کشیپ کو قتل کیا اور جس کو نافذ کرنے سے نرسنگھ بھگوان خوش ہوتے ہیں اور جس کے مطابق زندگی گذارنے سے نرسنگھ بھگوان کا آشیرواد حاصل ہوتا ہے، سوال یہ ہے کہ نئی پارلیمنٹ پر نصب کردہ اشوک کے شیروں کو نرسنگھ بھگوان کا روپ دینے کی کوشش کیا اس لیے کی گئی اور برہمنوادی کرم کانڈ کے ذریعہ رسم نقاب کشائی کیا اس لیے انجام دی گئی کہ برہمنواد اب اپنا وہ قدم اٹھانا چاہتا ہے جس کے لیے وہ اپنے رخ زیبا کو ہندوتو کے نقاب میں چھپاکر ایک لمبی مدت سے شبانہ روز محنت کر رہا ہے ؟ یا یہ سب بتان وہم وگماں ہیں؟

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button