افغانستان میں زلزلہ، مہلوکین کی تعداد1100 ہوگئی

افغان اوربین الاقوامی ایجنسیاں نقصان کاتخمینہ کرتے ہوئے رسد فراہم کررہی ہے لیکن یہ ایک بڑا اورابھرتاہوابحران ہے جو ملک کی پہلے سے سنگین صورتحال میں ایک اضافہ ہے۔

کابل: افغانستان میں طالبان کی زیرقیادت حکومت نے اطلاع دی ہے کہ صوبہ پکتیکامیں جاریہ ہفتہ کے اوائل میں 6.1شدت کے تباہ کن زلزلہ کے مہلوکین کی تعداد11سوہوگئی ہے جبکہ زخمیوں کی تعدادبھی بڑھ کر16 سو ہوگئی ہے۔

ڈیزاسٹرمینجمنٹ کی وزارت نے اپنے ایک بیان میں کہاکہ زائد ازایک ہزارزخمیوں کی حالت نازک ہے ان کی تعدادمیں دن بہ دن اضافہ ہوتاجارہاہے۔ بعض افراد ہنوز ملبہ کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔

مقامی عہدیداروں اورپکتیکا کے عوام کاکہنا ہے کہ زلزلہ میں زائد ازایک ہزارمکانات تباہ ہوئے ہیں اوراسے گزشتہ20 سال کے دوران سب سے تباہ کن زلزلہ تصور کیاجارہا ہے۔ اس زلزلہ کامبداخوست شہرسے44کیلومیٹر کے فاصلہ پر تھا اورہندوستان وپاکستان میں بھی اس کے جھٹکے محسوس کئے گئے۔

متاثرہ علاقوں کے عوام نے کہاہے کہ ان کے پاس کھانے اوررہنے کیلئے کچھ نہیں ہے۔ ایک مقامی شخص نے طلوع نیوز کوبتایاکہ ہمارے پاس نہ توخیمے ہیں اورنہ غذا ہے، لوگ کھلے آسمان کے نیچے رہ رہے ہیں۔ ہمیں ہرچیزکی ضرورت ہے۔

انہوں نے انسانی امدادایجنسیوں اورطالبان حکومت سے فوری امدادفراہم کرنے کی بھی اپیل کی ہے۔ بی بی سی ایک اطلاع میں کہاگیاہے کہ افغان اوربین الاقوامی ایجنسیاں نقصان کاتخمینہ کرتے ہوئے رسد فراہم کررہی ہے لیکن یہ ایک بڑا اورابھرتاہوابحران ہے جو ملک کی پہلے سے سنگین صورتحال میں ایک اضافہ ہے۔

اقوام متحدہ جومتاثرین کی مدد بھی کررہاہے، یہاں ہیضہ کی وباء پھوٹ پڑنے کاانتباہ بھی دے رہاہے۔ حکومت نے اعلان کیاہے کہ وہ مہلوکین کے افراد خاندان کوایک لاکھ افغانی اورزخمیوں کو50ہزارافغانی اداکرے گی۔

 واضح رہے کہ افغانستان ایک ایساخطہ ہے جہاں ہمیشہ زلزلوں کااندیشہ رہتاہے۔ گزشتہ دس سال کے دوران یہاں زلزلوں میں زائد از7ہزارافراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی امورنے یہ بات بتائی۔ اس ملک میں ہرسال زلزلوں سے لگ بھگ 560اموات ہوتی ہیں۔

تبصرہ کریں

Back to top button