افغانستان میں لڑکیوں کے اسکولس کی کشادگی کے فوری بعد بند کرنے کاحکم: طالبان

وزارت کے ترجمان نے منگل کو ویڈیو جاری کرتے ہوئے تمام طالبات کا اسکول واپسی کے لیے خیر مقدم کیا۔ چہارشنبہ کو تاہم وزارت کی نوٹس میں بتایاگیا تھا کہ لڑکیوں کے اسکولس اسلامی قانون اور افغان ثقافت کے مطابق تیار کردہ منصوبہ تک بند رہیں گے۔

کابل: طالبان نے طالبات کی سکنڈری اسکولس کی دوبارہ کشادگی کے بعد فوری ان کی مسدودی کا حکم دیتے ہوئے بتایا کہ وہ اسکولس کی کشادگی کے لیے اس کا اسلامی قانون کے مطابق تیار کردہ منصوبہ وضع کئے جانے تک بدستور بند رہیں گے۔ آر ایف ای / آر ایل رپورٹ میں یہ بات بتائی۔ طالبان کی وزارت تعلیم نے گذشتہ ہفتہ بتایا تھا کہ لڑکیوں کے بشمول تمام طلباء کے اسکول سارے ملک میں 23 مارچ سے کھلیں گے جبکہ ہائی اسکول طالبات کے لیے کئی ماہ طویل تحدیدات عائد کی گئی تھیں۔

وزارت کے ترجمان نے منگل کو ویڈیو جاری کرتے ہوئے تمام طالبات کا اسکول واپسی کے لیے خیر مقدم کیا۔ چہارشنبہ کو تاہم وزارت کی نوٹس میں بتایاگیا تھا کہ لڑکیوں کے اسکولس اسلامی قانون اور افغان ثقافت کے مطابق تیار کردہ منصوبہ تک بند رہیں گے۔ سرکاری نیوز ایجنسی بختار نیوز نے یہ بات بتائی۔ طالبان کے ترجمان انعام اللہ سمن گانی نے بتایا کہ ہم تمام ہائی اسکول طالبات اور ایسے اسکولس جہاں چھٹویں جماعت سے بالاتر کلاسس میں لڑکیاں تعلیم حاصل کرتی ہیں وہ آئندہ حکمنامہ تک بند رہیں گے۔

 بیان سے طالبان کے انحراف سے قبل حقوق انسانی نگران ادارہ نے لڑکیوں کو اسکول واپس جانے کے بارے میں طالبان کے ارادہ کے بیان میں شک و شبہ کااظہار کیاتھا۔طالبان نے 23مارچ  2022 کو افغانستان میں لڑکیوں کے تمام سکنڈری اسکولس کی کشادگی کی اجازت کاوعدہ کیاتھا۔ طالبان کی سرگرمیوں سے ان کے بیانات اکثر جداگانہ ہوتے ہیں۔ ایچ آر ڈبلیو ہیتھر بار نے یہ بات بتائی۔ انہوں نے بتایا کہ کسی کو بھی یقین نہیں کرناچاہئے کہ طالبان نے سکنڈری تعلیم سے لڑکیوں کو روکا ہے تاوقتیکہ اس معاملہ میں حقیقی ثبوت حاصل نہ ہوجائے۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button