الیکشن لڑایا

احمد جمال پاشاہ

گھبرائیے نہیں! میں آپ سے ووٹ نہ مانگوں گا۔ مگر اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ مجھے ووٹ مانگنے نہیں آتے۔ پھر ووٹ مانگنے سے وہ شرمائے جو خود الیکشن میں کھڑا ہوا ہو۔ یہاں تو جب بھی الیکشن میں کھڑا کیا تو دوسرے کو اور جب بھی ضمانت ضبط ہوئی تو غیر کی۔ آپ یہ تو جانتے ہی ہوں گے کہ الیکشن لڑنے اور لڑانے میں کیا فرق ہے۔ ایک کی حیثیت مرض کی ہے تودوسرے کی فن کی بتائیے آپ مریض اور فنکار میں کس کو ترجیح دیں گے۔
حسب معمول ادھر الیکشن آیا اور پھڑکی ہماری رگ الیکشن، سماج پر نظر ڈالی، کسی کو تاکا کسی کو اکسایا، کسی کو پھر آئندہ کھڑے ہونے کی دھمکی دی، کسی کو چمکارا، مگر کسی نے پیٹھ پر ہاتھ نہ رکھنے دیا۔ جب قدیمی بزرگ کترا گئے تودوستوں کی جانب رخ کیا۔ ان کو ممبری کی صورت میں اعزاز واکرام کوٹہ و پرمٹ اثر ورسوخ کی پری دکھائی اور ایک گانٹھ کے پورے شیخ کو رام کرلیا۔ چونکہ شیخ صاحب کی برادری خاصی طول وعرض میں پھیلی ہوئی تھی اورخود وہ برادری کے چودھری بھی تھے، لہٰذا ان کی جیت برحق تھی۔ ان حالات میں ہمارے لیے ان کے الیکشن کا انچارج ہونا کسی خاص زحمت کاباعث نہ تھا۔
ہم نے آناً فاناً شیخ صاحب کے کاغذات نامزدگی داخل کردیے۔ اعلان ہوگیا اوربہت ہی قیل وقال کے بعد وہ ”ترازو“ ہوگئے۔ یوں بطور نشان شیخ صاحب نے ہاتھی، گھوڑے، بیل اور خچر وغیرہ پسند کیے تھے مگر ہم نے ان کو مشورہ دیا کہ ”قبلہ! ان چکروں میں نہ پڑئیے، یقین جانیے الیکشن کے بعد یہ سب عجائب گھر پہنچا دیے جائیں گے، پھر اول تو ہاتھی ایک دم بادی ہوتا ہے، دوسرے اس کو دیکھ کر پبلک کتراجانے ہی میں اپنی خیریت سمجھتی ہے۔ گھوڑا بھاگ سکتا ہے۔ بیل مرکھنے بھی نکل سکتے ہیں۔ ناﺅ ڈوب سکتی ہے جھونپڑی میں آگ لگ سکتی ہے۔ چراغ بجھ سکتا ہے، سائیکل چور کو بھاگنے میں خود مدد دیتی ہے، لیکن ترازو پر آپ پورے اتریں گے بھلا مول تول میں کون آپ کو زیر کرسکتا ہے۔ اگر ذرا بھی خطرہ دیکھئے گا فوراً ڈنڈی ماردیجئے گا۔“ یہ بات دل سے نکلی تھی اس لیے دل میں بیٹھی اور ہمارے شیخ صاحب ترازو ہوگئے۔
یہ شیخ صاحب کا اثر ورسوخ تھا کہ دیکھتے ہی دیکھتے ہم نے علاقہ بھر کی دیواروں و سڑکوں کو ترازو سے ایسا لیپ پوت دیا کہ دور سے دیکھنے پر یہ شبہ ہوتا تھا کہ اس علاقہ کے درودیوار کے چیچک نکل آئی ہے۔ دوچار شورہ پشتوں نے سر اٹھانے کی کوشش کی، مگر کسی کا منہ تھیلی لگا کر سی دیا گیا کسی کو برادری سے خارج کرنے کی دھمکی دی گئی۔ غرض دیکھتے ہی دیکھتے علاقہ بھر میں شیخ صاحب کا ٹمپوہائی ہوگیا۔ اب الیکشن میں صرف ایک دن باقی رہ گیا تھا۔ لہٰذا ہم نے شیخ صاحب کا ہاتھ پکڑا اور آخری بار دروازے دروازے ووٹر پکّے کرنے نکل کھڑے ہوئے۔
سب سے پہلے دروازے پر دستک کے جواب میں اندر سے ایک صاحبزادے برآمد ہوئے اوربولے، ”اگر آپ کامیاب ہوگئے تو ہم کو ٹیکس تو نہ دینا پڑے گا؟“
ہم نے کہا، ”کس کی مجال ہے جو آپ کو آنکھ دکھائے۔“
عزیزی ووٹرنے کمال سعادت مندی کے ساتھ گڑگڑا کر کہا، ” حضور کو دھوکا ہوا ہوگا جو مجھ سے آپ جناب سے بات کررہے ہیں۔ ورنہ میں صدر میں جھاڑو لگاتا ہوں۔“
میں نے چمک کر کہا، ”اگر آپ مہتر ہیں تو آخر ہم کون سے خاندانی ہیں۔“
شیخ صاحب کو اس خاکساری پر ایک بار پسینہ تو آہی گیا۔ زور سے پیر پٹکا چہرے پر جلال کے آثار نمودار ہوئے مگر میں نے معاملہ کو سنبھالتے ہوئے کہا، ”حضور یہ الیکشن ہے۔“
اور شیخ صاحب نے مہتر پر سے قربان ہوتے ہوئے کہا، ”ہاں ماتا دین، ٹھیک ہی کہتے ہیں۔“
اس پر مطمئن ہوکر مہتر اندر چلا گیا اور تھوڑی دیر کے بعد ایک ووٹ کی پرچی اور ایک عدد مہترانی کے برآمد ہوا اور بولا، ”میرا ووٹ نہیں ہے۔“
میں نے حیران ہوکر پوچھا، ”مگر تم تو بالغ ہو۔ تمہارا تو ووٹ ہونا ہی چاہیے۔“
اس نے کہا، ”حضور چھوٹا آدمی ہوں ان کو کیسے یقین دلاﺅں۔ مگرگھر میں ان کا ووٹ ہے جو یہ دے نہیں سکتی ہیں۔“
”کیوں؟“
”اس لیے کہ ان کا سن تو یہی چودہ پندرہ کا ہے مگر اندراج ہوگیا ہے اسّی۔“
میں نے گھبرا کرکہا، ”شیخ صاحب! ان حالات میں تو یہ میک اپ کے بعد بھی ووٹ نہیں دے سکتی ہیں۔“
شیخ صاحب نے جواب تجربہ کار ہوچکے تھے مسکراتے ہوئے کہا، ”مگر ووٹ جب آگیا تو پڑنا چاہیے۔“
میں نے فوراً ان کایہ مطالبہ آڈر بک میں نوٹ کرلیا اور ہم لوگ آگے بڑھ گئے۔
دوسرے گھر سے ایک للائن برآمد ہوئیں، انہوں نے بتایا کہ وہ ہمیشہ اپنا ووٹ بالکل آخر میں دیتی ہیں کیوں کہ اس وقت پیسے اچھے مل جاتے ہیں، ان سے معاملہ کیا گیا اور آگے بڑھ گئے۔
آگے مکان سے ایک بابو جی نکلے انہوں نے کہا،
”میرے یہاں ایک ووٹ میرے پتا جی کا ہے، مگر ان کا انتقال ہوچکا ہے۔“
ہم نے کہا، ”کوئی بات نہیں مردہ تو مردہ ہم تو بھوتوں تک کے ووٹ دلواسکتے ہیں۔ بس ووٹر کی فہرست میں نام ہونا ضروری ہے۔“
اس کے بعد ان کے پتا جی کی پرچی سنبھال کر رکھ لی۔
ایک گھر کے اندرسے ایک نہایت ہی منشی جی قسم کے بزرگ ہاتھ میں اخبار لیے ہوئے برآمد ہوئے اور بولے، ”کیوں جی! یہ چین کدھر ہے۔۔۔؟“
شیخ صاحب نے داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا، ”یہ علاقہ اجمیرشریف کے آگے ہے۔“
”ناصاحب! جہاں تک میرا حافظہ کام کرتا ہے، یہ گجرات کے آگے ہے۔“
شیخ صاحب لاکھ امیدوار سہی مگر مٹی کی خوبو کہاں جاتی ان سے اس فاش جغرافیائی غلطی پر نہ رہا گیا اور تقریباً چیخ کر بولے، ”مگرگجرات تو آسام کے آگے ہے۔ مزار شریف سے صاف نظر آتاہے۔“
میں نے موقع کی نزاکت دیکھتے ہوئے کہا، ”آپ بھی صحیح فرماتے ہیں۔ مگر شیخ صاحب جس چین کا تذکرہ فرمارہے ہیں وہ چھوٹا چین ہے اور چین کے نام سے مشہور ہے۔“
منشی جی نے اطمینان کا سانس لیتے ہوئے کہا کہ ”ایسا کہئیے نا۔ آپ نے تو مجھے بھی گڑبڑا دیاتھا۔“
میں نے کہا، ”حضور پھروہ ووٹ والی بات ادھوری ہی رہ گئی۔“
”ہاں صاحب ووٹ تو میں آپ کو دے دوں گا۔ مگر اس شرط پر کہ آپ ممبر ہوتے ہی ایک بار تو اس کی خبر لے ہی لیجئے۔ ذرا اخبار ملا حظہ فرمائیے۔ کیسی نقشے بازی کر رہا ہے۔ یہ میری ہے یہ تیری ہے۔ بڑے اس نے ہاتھ پیر نکالے ہیں؟“
شیخ صاحب نے کہا کہ ”آپ جو چاہتے ہیں وہی ہوگا۔“
”اور روس وامریکہ۔“
شیخ صاحب نے جوش میں آکر کہا، ” بس آپ ووٹ دے دیجئے، ممبر ہوتے ہی میں ان سب کو منڈی میں نیلام پر چڑھا دوںگا۔“
منشی جی نے عینک کا ڈور اکان پر لپیٹتے ہوئے کہا، ”کیا مطلب۔۔۔ منڈی میں نیلام پر۔“
میں نے بات سنبھالتے ہوئے کہا، ”سمجھا سمجھا۔“ اب سمجھیے آپ کا ووٹ پکا اور ہم لوگ ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے نکلے تھے کہ انہوں نے پکارا، ”منے ذرا آکر اخبار تو سنا جاﺅ۔“
دوسرے گھر کے سامنے ایک میر صاحب شطرنج کی بساط بچھائے اکیلے بیٹھے پیدل سے دل بہلا رہے تھے۔ جب ہم لوگ ان سے عرض مدعا بیان کرچکے تو وہ بولے، ”اردو ہوگی؟“ شیخ صاحب نے کہا کہ ”ہوگی۔“
”لڑکے کو نوکری ملے گی؟“
”ملے گی۔“
”سڑک کی مرمت ہوگی؟“
”ہوگی۔“
”روشنی وپانی کا معقول انتظام ہوگا!“
”ضرور ہوگا!“
”کون کرے گا؟“
شیخ صاحب کو نیچے سے اوپر تک دیکھتے ہوئے گھوڑا اٹھاکر کہا، ”میں جانتا ہوں اور بہت اچھی طرح جانتا ہوں۔“
میر صاحب نے بے اختیار شیخ صاحب کا ہاتھ پکڑ کر بٹھاتے ہوئے کہا، ”آئیے ووٹ کی بات توبعدمیں ہوگی، پہلے ایک ایک چال ہوجائے۔“
ہمارے شیخ صاحب بھی ”ووٹ لاﺅ۔“ کے بعد اگر کچھ جانتے تھے تو شطرنج، اب جو الیکشن کی تھکن اتارنے کو جمے تو شام سے سویرا ہوگیا۔
شیخ صاحب کے کارکن کہیں، ”شیخ صاحب آج الیکشن ہے آئیے!“ اور شیخ صاحب جواب میں فرمائیں۔ یہ گیا فرزی آپ کے بادشاہ پر شے پڑ رہی ہے اورمیر صاحب نے کہا، یہ ہوئی مات۔
غرض اسی شہ او رمات میں شام ہوگئی۔ بنا بنایا کھیل بگڑ گیا۔ شیخ صاحب کی دوسری بازی نے ان کی پہلی بساط الٹ دی، خیر ضمانت تو ان کی ضبط ہوگئی۔ مگر بھاگے بھاگے ہم پھر رہے ہیں۔

تبصرہ کریں

Back to top button