امراوتی کو صدر مقام کے طور پر ترقی دینے ہائی کورٹ کا حکم

عدالت العالیہ نے حکومت سے کہا وہ تمام تر بنیادی سہولتوں کے ساتھ ڈیولپ شدہ پلاٹس کو اندرون3ماہ کسانوں کے حوالے کرے۔ عدالت نے حکومت کو امراوتی میں ترقیاتی کاموں کے سوا اراضی مختص نہ کرنے کی بھی ہدایت دی۔

امراوتی: چیف منسٹر وائی ایس جگن موہن ریڈی کی زیر قیادت وائی ایس آر کانگریس پارٹی کی حکومت کو جس نے ریاست میں تین صدر مقامات کو فروغ دینے کا منصوبہ بنایا تھا، زبردست جھٹکہ دیتے ہوئے آندھراپردیش ہائی کورٹ نے جمعرات کے روز حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ اندرون 6 ماہ امراوتی کیپٹل ماسٹرن پلان پر عمل آوری کو مکمل کرے۔

عدالت العالیہ نے حکومت سے کہا وہ تمام تر بنیادی سہولتوں کے ساتھ ڈیولپ شدہ پلاٹس کو اندرون3ماہ کسانوں کے حوالے کرے۔ عدالت نے حکومت کو امراوتی میں ترقیاتی کاموں کے سوا اراضی مختص نہ کرنے کی بھی ہدایت دی۔

عدالت نے واضح کردیا کہ ریاست کے صدر مقامات پر قانون سازی کا اسمبلی کو کوئی اختیار نہیں ہے۔ چیف جسٹس پرشانت، کمار مشرا پر مشتمل تین رکنی بنچ نے امراوتی کے75 کسانوں اور دیگر کی جانب سے دائر کردہ عرضیوں پرفیصلہ سنایا۔

ان عرضیوں میں ریاست کے تین صدر مقامات سے متعلق حکومت کے منصوبہ کو چیالنج کیا گیا تھا۔ درخواست گذاروں کے وکلا میں سے ایک وکیل نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ ہائی کورٹ بنچ نے حکومت کو امراوتی سے کسی بھی دفتر کو منتقل نہ کرنے کی ہدایت دی اور کہا کہ اس سلسلہ میں قبل ازیں جاری کردہ عبوری احکام کو سختی کے ساتھ بدستور نافذ العمل رہے گا۔

عدالت نے حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ قانونی اخراجات کی پابجائی کیلئے ہر درخواست گذار کو فی کس50 ہزار روپے بھی ادا کرے۔ حکومت آندھرا پردیش نے 22 نومبر2021 کو دو قوانین کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا۔

ریاست میں 3صدر مقامات کی تخلیق کیلئے ان قوانین کو وضع کیا گیا تھا۔ عدالت العالیہ کے فیصلہ کے ساتھ ہی امراوتی اور اس کے قرب وجوار کے کسانوں اور عوام نے جشن منایا۔

تبصرہ کریں

Back to top button