اندور کی پان کی دکان سے شہرت کی بلندیوں تک

مہندرا سنگھ دھونی، ویراٹ کوہلی، فاف ڈو پلیسی یہ ہیں عالمی کرکٹ کے وہ بلے باز جن کے نام سنتے ہی بولرز کانپ اٹھتے ہیں۔ بولنگ کرنے سے ڈرتے ہیں۔

نئی دہلی: مہندرا سنگھ دھونی، ویراٹ کوہلی، فاف ڈو پلیسی یہ ہیں عالمی کرکٹ کے وہ بلے باز جن کے نام سنتے ہی بولرز کانپ اٹھتے ہیں۔ بولنگ کرنے سے ڈرتے ہیں۔

لیکن ایک نامعلوم تیز گیند باز نے ایک ہی سیزن میں تینوں کو آؤٹ کرکے آئی پی ایل میں سنسنی پیدا کر دی ہے۔ یہ بولر کوئی اور نہیں بلکہ اویش خان ہیں۔

وہی اویش خان جنہیں لکھنو سوپر جوائنٹس نے اس سال میگا نیلامی میں 10 کروڑ روپے میں خریدا تھا۔ فرش سے عرش تک کا یہ سفر اندور کے رہنے والے اویش کیلئے بالکل آسان نہیں تھا۔

جمعرات کی رات دہلی کے خلاف کھیلے گئے میچ میں اویش کوئی بڑا کارنامہ نہ دکھاسکے لیکن سن رائزرس حیدرآباد کے خلاف آخری میچ میں اپنی ٹیم کی جیت پر انہیں میان آف دی میچ کا ایوارڈ دیا گیا۔

انہوں نے ڈیتھ اوورز میں شاندار بولنگ کرکے اپنی ٹیم کو دوسری جیت دلائی۔ ایوارڈ کو اپنی ماں کے نام وقف کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ میری والدہ اسپتال میں داخل ہیں۔ مجھے ان کی طرف سے بہت تعاون ملا۔ میچ کے بعد میں نے اپنا فون اٹھایا اور ویڈیو کال پر اس سے رابطہ کیا اور میچ کے بارے میں آگاہ کیا۔

دو سال قبل چھاتی کے کینسر میں مبتلا اویش خان کی والدہ نے دہلی کے خلاف میچ سے قبل کہا تھاکہ ’وہ اب بھی اسپتال میں ہیں لیکن پہلے ہی ٹھیک ہیں، انہیں یورین انفیکشن ہے اور 2 سال قبل انہیں بریسٹ کینسر ہوا جس نے انہیں متاثر کیا۔ لیکن اب سب کچھ بہتر ہے۔

میں گزشتہ میچ میں میچ جیتنے والی کارکردگی سے اچھا محسوس کر رہا ہوں، لیکن ہر دن ایک نیا دن ہوتا ہے اور میں اسی رفتار سے بولنگ کرنے کی کوشش کروں گا اور اپنی ٹیم کو میچ جیتنے میں مدد کروں گا۔ اندور کے ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والے اویش خان کا بچپن تنازعات میں گزرا۔ والد عاشق خان ابتدائی دنوں میں پان کی دکان چلاکر خاندان کا پیٹ پالتے تھے۔

دراصل ان کے والد کی نوکری چلی گئی تھی جس کے بعد انہوں نے سڑک کے کنارے پان کی دکان لگانی شروع کردی تھی لیکن سڑک کو چوڑا کرنے میں انتظامیہ نے پان کی دکان کو بھی ہٹادیا۔ 2014 میں انڈر۔19 میں ڈیبیو کرنے والے نوجوان اسٹار نے کرکٹ میچوں سے حاصل ہونے والی کمائی سے گھر والوں کو سپورٹ کرنا شروع کیا۔

اویش پچھلے سیزن تک دہلی کیپٹلس کا حصہ تھے۔ وہ 2021 کے سیزن میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والوں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر تھے۔ اویش اپنے درست یارکرز اور عمدہ بولنگ کیلئے جانے جاتے ہیں۔ اویش بوتل یا جوتا پکڑکر گھنٹوں مشق کرتے ہیں۔ دہلی کیپٹلس کیلئے انہوں نے گزشتہ سیزن میں 16 میچوں میں 24 وکٹیں حاصل کیں۔

ایوش کے ایک ساتھی نے کہا تھاکہ وہ نوجوان تیز گیند باز سے درست یارکر گیند کرنے کا فن سیکھنا چاہتے ہیں۔ پورے خاندان نے نہیں سوچا تھاکہ 10 سال میں ٹینس بال سے شروع ہونے والا کرکٹ کا سفر یہاں تک پہنچے گا۔ سخت محنت کی بنیاد پر اویش نے 5 فروری 2018 کو وجے ہزارے ٹرافی میں مدھیہ پردیش کیلئے اپنا لسٹ۔ اے ڈیبیو کیا۔

2017 میں آئی پی ایل میں انہیں ویراٹ کی قیادت میں پہلی بار رائل چیلنجرز بنگلور کی ٹیم میں موقع ملا۔ یہیں سے اویش خان نے اپنی کامیابیوں کا سفر طئے کرتے ہوئے ٹیم انڈیا میں بھی جگہ بنائی۔ اویش اپنی بہترین فٹنس اور شاندار کارکردگی کی وجہ سے جاریہ برس آسٹریلیا میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کیلئے ٹیم انڈیا میں جگہ بنانے کے مضبوط دعویداروں میں بھی شامل ہوچکے ہیں۔ اویش نے کہاکہ وہ ٹیم انڈیا میں جلد واپسی کیلئے پرعزم ہیں۔

تبصرہ کریں

Back to top button