’انڈسٹریل پارکس کیلئے گرڈ پالیسی پر عمل آوری ہنوز ایک خواب‘

احکام کے مطابق حکومت نے ان انڈسٹریل پارکس کو بزنس، معاشی سرگرمیوں، آئی ٹی، رہائشی مقاصد وغیرہ پر ہمہ استعمال کی اجازت دینے سے اتفاق کیا تھا۔ اور آلودگی پھیلانے دال صنعتوں کی منتقلی کی حامی بھی بھری تھی۔

حیدرآباد: چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی زیر قیادت ریاست کی ٹی آر ایس حکومت نے شہر حیدرآباد کے آوٹر رنگ روڈ (او آر آر) کے انڈر11انڈسٹریل پارکس کے تحت آئی ٹی اور آئی ٹی ای ایس کمپنیوں کے قیام اور ان کی سہولت کیلئے آج سے 7 سال قبل گرڈ پالیسی کا اعلان کیا تھا مگر حکومت کے اعلان اور جی او کی اجرائی کے7 برسوں کے بعد بھی اس سمت میں کوئی پہل نہیں ہوئی۔ احکام، صرف کاغذ کی زینت بنتے رہے ہیں۔

 احکام کے مطابق حکومت نے ان انڈسٹریل پارکس کو بزنس، معاشی سرگرمیوں، آئی ٹی، رہائشی مقاصد وغیرہ پر ہمہ استعمال کی اجازت دینے سے اتفاق کیا تھا۔ اور آلودگی پھیلانے دال صنعتوں کی منتقلی کی حامی بھی بھری تھی۔ پہلے مرحلہ میں اہل، پوچارم اور ناچارم کو منتخب کیا گیا تھا جہاں 5 انڈسٹریل پارکس کے قیام کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ مگر اس پالیسی کو وعدہ کے مطابق روبعمل نہیں لایا گیا۔ وزیر بلدی نظم ونسق شہری ترقیات کے ٹی آر نے اس وقت گرڈ پایسی کا اعلان کرتے ہوئے یہ وعدہ کیا تھا کہ جی ایچ ایم سی کے چاروں سمت آئی ٹی اور آئی ٹی ای ایس کمپنیوں میں توسیع کی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ آئی ٹی اور آئی  ٹی ای ایس کمپنیاں، ہزارہا افراد کیلئے راست یا بالراست طور پر روزگار کے مواقع تخلیق کریں گی۔ جی ایچ ایم سی کے صرف مغربی سمت میں آئی ٹ ی اور آئی ٹی ای ایس کمپنیاں قائم ہیں سیکٹر کوغیر مرکوز کرنے کیلئے گرڈ پالیسی کو متعارف کرایا گیا ہے۔ اور گرڈ پالیسی لانے کا مقصد تمام علاقوں میں مواقع کو فراہم کرانا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ شہر چاروں سمت ترقی منفرد اور یکسا ہونی چاہے۔

شہر کے ایک سمت چند سیکٹرس کی ترقی سے اس کا اثر انفرااسٹرکچر اور عوام کی زندگیوں پر پڑرہا ہے۔ اس عمل سے بچنے کیلئے حکومت، شہر کے چاروں سمت ترقی کو یقینی بنانے کے اقدامات کررہی ہے۔ اس حصہ کے طور پر آئی ٹی اور آئی ٹی ای ایس کمپنیوں کیلئے علیحدہ گرڈپالیسی کو متعارف کرایا گیا ہے جس کا مقصد شہر کے چاروں سمت ترقیاتی سرگرمیوں کو فروغ دینا تھا مگر اب تک جاری کردہ جی او پر عمل آوری نہیں ہوپائی ہے۔

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button