انگلش کرکٹر عادل رشید کی ہفتہ کو حج کیلئے روانگی

انگلش کرکٹر عادل رشید حج کیلئے مکہ مکرمہ جارہے ہیں۔ اس دورے کی وجہ سے وہ ہندوستان کے خلاف محدود اوورز کی سیریز میں انگلینڈ کی ٹیم کا حصہ نہیں ہوں گے۔

لندن: انگلش کرکٹر عادل رشید حج کیلئے مکہ مکرمہ جارہے ہیں۔ اس دورے کی وجہ سے وہ ہندوستان کے خلاف محدود اوورز کی سیریز میں انگلینڈ کی ٹیم کا حصہ نہیں ہوں گے۔

وہ ہندوستان کے خلاف ٹی ٹوئنٹی اور ونڈے سیریز نہیں کھیلیں گے۔ راشد نے حج کیلئے ای سی بی سے چھٹی مانگی تھی جس کیلئے انہیں اجازت مل گئی ہے۔

رشید ہفتہ کو حج کیلئے روانہ ہوں گے اور 15 جولائی تک وطن واپس آئیں گے۔ ایسی صورت حال میں انہیں ٹیم انڈیا کے خلاف سیریز سے باہر ہونا پڑے گا۔ ای ایس پی این کرک انفو سے بات کرتے ہوئے راشد نے کہاکہ وہ ہمیشہ ایسا کرنا چاہتے تھے لیکن وقت نہیں مل رہا تھا۔

اس سال اس نے محسوس کیاکہ یہ کچھ کرنے کا صحیح وقت ہے۔ راشد نے کہاکہ میں نے ای سی بی اور یارکشائر سے بات کی۔ اس نے میری بات کو سمجھا اور میرا ساتھ دیا۔ انہوں نے کہا کہ میں جب چاہوں جاسکتا ہوں اور واپس آسکتا ہوں۔ میں اور میری بیوی کچھ ہفتوں کیلئے باہر جائیں گے۔

یہ ہمارے لیے بہت بڑا لمحہ ہے۔ ہر مذہب میں مختلف چیزیں ہوتی ہیں، یہ اسلام میں سب سے بڑی چیز ہے۔ یہ ہندوستان کے خلاف سیریز ہے، یہ میرے ذہن میں نہیں آیا، میں نے صرف سوچاکہ مجھے جاناہے۔ وہ جنوبی افریقہ کے خلاف آئندہ سیریز میں انگلش ٹیم میں واپس آسکتے ہیں۔

19 جولائی سے انگلینڈ اپنے گھر پر جنوبی افریقہ کے خلاف 3 ونڈے اور 3 ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز کھیلے گا۔ راشد کی عدم موجودگی سابق ہندوستانی کپتان ویراٹ کوہلی کیلئے اچھی خبر ہے۔

وائٹ فارمیٹ میں کوہلی کا راشد کے خلاف ریکارڈ اچھا نہیں ہے۔ راشد نے ونڈے کرکٹ میں 8 اننگز میں 3 بار کوہلی کو آؤٹ کیا جبکہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں وہ اتنی ہی اننگز میں 2 بار واپس بھیج چکے ہیں۔ ہندوستانی ٹیم ان دنوں انگلینڈ میں ہے۔ اسے وہاں ایک ٹسٹ، 3 ٹی ٹوئنٹی اور 3 ونڈے کھیلنے ہیں۔

ہندوستانی دورے کا آغاز یکم جولائی سے شروع ہونے والے ٹسٹ میچ سے ہوگا۔ اس ری شیڈول میچ کے بعد محدود اوور کی سیریز کا آغاز 7 جولائی کو کھیلے جانے والے پہلے ٹی ٹوئنٹی سے ہوگا۔ اس کے بعد اگلے دو میچ 9 اور 10 جولائی کو ہوں گے۔ ٹی ٹوئنٹی سیریز کے بعد پہلا ونڈے 12 جولائی کو کھیلا جائے گا۔ ونڈے سیریز کے دیگر دو میاچس 14 اور 17 جولائی کو کھیلے جائیں گے۔

تبصرہ کریں

Back to top button