اور اب بن بیاہی ماؤں اور آنر کلنگ میں اضافہ ہوگا!

اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ مرکزی حکومت نے تمام پہلوؤں کا جائزہ لئے بغیر عجلت میں یہ فیصلہ کرلیا ہے چونکہ وزیر اعظم نریندرمودی نے یہ وعدہ کررکھا تھا کہ وہ خواتین کی بہتری کے لئے شادی کی قانونی اقل ترین حد عمر میں اضافہ کو یقینی بنائیں گے۔

اطہر معین

مرکزی کابینہ نے نیتی آیوگ کی قائم کردہ جیہ جیٹلی کی زیر قیادت ٹاسک فورس کی سفارشات کی روشنی میں لڑکیوں کی شادی کے لئے اقل ترین قانونی عمر کو 18 برس سے بڑھاکر 21 برس کرنے کی تجویز کو منظوری دے دی ہے اور امید ہے کہ پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں اس بل کو منظوری کے لئے پیش کردیا جائے گا۔ یاد رہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے گزشتہ برس یوم آزادی کے موقع پر اپنی تقریر میں کہا تھا کہ خواتین کو نقص تغدیہ سے بچانے ان کی صحیح عمر میں شادی کی جانی چاہئے۔ نیتی آیوگ نے ماں بننے کی موزوں عمر، دوران حمل اموات ، زچاؤں میں تغذیہ کی کمی اور اس سے جڑے مسائل کا جائزہ لینے کے لئے ایک ٹاسک فورس گزشتہ برس جون میںتشکیل دی تھی۔

اس کمیٹی کے دیگر ارکان میں ڈاکٹر وی کے پال رکن (ہیلت) نیتی آیوگ، اعلیٰ تعلیم، اسکولی تعلیم، صحت، بہبود خواتین و اطفال، امور مقننہ کے سکریٹریز کے علاوہ ماہرین تعلیم نجمہ اختر، وسودھا کامت اور دپتی شاہ شامل تھے ۔ اس ٹاسک فورس نے اپنی رپورٹ گزشتہ برس دسمبر میں ہی پیش کردی تھی مگر اس کی رپورٹ کو ہنوز منظر عام پر نہیں لایا گیاجس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ٹاسک فورس نے اپنی رپورٹ بہت ہی عجلت میں تیار کی ہے اور صرف 6 ماہ میں اپنی رپورٹ تیار کرلی جو یقیناً ٹھوس دلائل سے عاری ہی ہوگی اور اس کی تیاری میں طبی پہلوؤں سے زیادہ کھوکھلے دلائل کا سہارا لیا گیا ہوگا ۔

رپورٹ کے اقتباسات کیا ہیں اور کن عوامل کے پیش نظر حد عمر کو بڑھانے کی سفارشات کی گئیں اس کے بارے میں زیادہ جانکاری نہیں دی گئی مگرابھی تک تو یہی جواز دیا جارہا ہے کہ جسمانی اعتبار سے ایک لڑکی 18 برس کی عمر میں ماں بننے کے لئے مکمل طور پر تیار نہیں ہوتی اور لڑکی اپنے شریک حیات کا انتخاب کرنے کے لئے عقلی اعتبار سے پختہ نہیں ہوتی اس لئے اس کو یہ موقع دیا جانا چاہئے کہ وہ سوچ سمجھ کر اپنے لئے بہتر شریک حیات کا انتخاب کرسکے۔ شادی کی حد عمر میں اضافہ سے دوران حمل زچاؤں کی شرح اموات میں بھی کمی آنے کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔

اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ مرکزی حکومت نے تمام پہلوؤں کا جائزہ لئے بغیر عجلت میں یہ فیصلہ کرلیا ہے چونکہ وزیر اعظم نریندرمودی نے یہ وعدہ کررکھا تھا کہ وہ خواتین کی بہتری کے لئے شادی کی قانونی اقل ترین حد عمر میں اضافہ کو یقینی بنائیں گے۔ نیتی آیوگ کی تشکیل کردہ ٹاسک فورس میں شامل ارکان کے انتخاب سے ہی اس بات کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ حد عمر میں اضافہ کے لئے کن پہلوؤں کو ملحوظ رکھا گیا ہوگا چونکہ اس ٹاسک فورس میں نہ ہی ماہرین حمل شامل ہیں اور نہ ہی ماہرین امراض نسواں شامل ہیں جبکہ صرف ایک رکن ڈاکٹر وی کے پال ہی پیشہ طب سے جڑے ہیں اور وہ بھی ماہر اطفال ہیں۔

اب آپ بخوبی اندازہ لگاسکتے ہیں کہ ایک لڑکی کے ماں بننے کے لئے موزوں عمر کا انتخاب کن بنیادوں پر کیا گیا ہے ۔ قدرت کے اصولوں سے پرے دنیا بھر میں یہ مانا گیا ہے کہ شادی کے لئے اقل ترین عمر 18 برس مقرر کی جانی چاہئے، یہ ایک الگ بحث ہے کہ اس کی وکالت کرنے والوں کے پاس بھی کوئی ٹھوس دلائل موجود نہیں ہیںچونکہ قدرت ایک لڑکی میں شہوت کے اجاگر کرنے کے ساتھ ہی اس کے جسم میں ایسی تبدیلیاں لے آتی ہیں جو اس کو ماں بننے کی بھی اہل بناتی ہیں۔

سائنس میں چونکہ شادی کا کوئی تصور نہیں ہوتا اس لئے ہمارے ماہرین طب شادی کی عمر کی بجائے ماں بننے کی موزوں اقل ترین عمر کی بات کرتے ہیںمگر ان کے پاس بھی ٹھوس دلیل نہیں ہوتی کہ ایک عورت کس عمر میں ماں بننے کی صلاحیت حاصل کرپاتی ہے ۔ تاہم ساری دنیا میں انہی ماہرین طب کے دلائل کی اساس پرشادی کے لئے اقل ترین عمر 18 برس مقرر کی گئی ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ کئی ترقی یافتہ ممالک میں ہنوز شادی کی قانونی حد عمر 16 برس ہے ۔

کچھ ممالک میں تو 14 برس میںبھی شادی کی اجازت دی گئی ہے ۔ برطانیہ میں اگر کوئی جوڑا اپنی مرضی سے شادی کرنا چاہتا ہے تو ان کا 21 برس ہونا ضروری ہے مگر والدین اور نگہبان کی اجازت سے16 برس کی ہی عمر میں شادی کی جاسکتی ہے ۔ یہی نہیں بلکہ اگر شادی کرنے والوں میں کوئی ایک بھی دولت مند ہو تو 16 برس کی عمر میں شادی کی جاسکتی ہے۔

شادی کی اقل ترین قانونی حد کا فیصلہ کرنے کے لئے کئی عوامل کو پیش نظر رکھنا ہوتا ہے اور اس کے لئے جامع مباحث اور سائنسی، سماجی، نفسیاتی اور معاشی پہلوؤں سے جائزہ لینا ہوتا ہے چونکہ اس کے اثرات دور رس مرتب ہوتے ہیں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی میں زبردست تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں مگر جس طرح مودی نے ابر آلود موسم میں ایر اسٹرائیک کرنے کی صلاح اس لئے دی تھی کہ اس کا ایک فائدہ یہ ہوگا کہ دھند کے باعث دشمن کے راڈار کو ہمارے طیاروں کا پتہ چلانے میں دشواری پیش آئے گی ۔

ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ شادی کی حد عمر میں اضافہ کرنے کے لئے ہمارے وزیر اعظم کے دماغ میں کیا بات سمائی ہوئی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ انہوں نے یہ سوچ رکھا ہوگا کہ حکومت کی ناقص اقتصادی پالیسیوں کی وجہ سے مہنگائی میں جو اضافہ ہوا ہے ، اس سے کم ازکم دو برس کے لئے والدین کو شادی بیاہ کے لئے درکار اخراجات کے لئے رقم جوڑلینے کی مہلت مل جائے۔ ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی ہمارا چاپلوس میڈیا، حکومت کے اس فیصلہ کی حمایت پر اتر آیا ہے اور اس کو نہایت ہی دانش مندانہ اور صحت و طب کے اعتبار سے نہایت ہی موزوں فیصلہ قرار دینے پر تلا ہوا ہے تو ہمارے بھکت یہ باور کروانے کی کوششوں میں ہے کہ اس فیصلہ سے مسلمانوں کی شریعت پر ضرب لگے گی اور اس طرح مسلمانوں کی آبادی میں اضافہ کی شرح میں کمی آئے گی۔

ایک عجیب منطق یہ پیش کی جارہی ہے کہ لڑکیوں کو اپنی پسند کے شریک حیات کا انتخاب کرنے کے لئے موقع دیا جانا چاہئے اور اس کے لئے 21 برس ایک موزوں عمر ہے اور اس سے قبل اس کے فیصلوں پر جذبات غالب رہتے ہیںاور وہ مناسب فیصلہ نہیں کرپاتیں ۔بالغ ہوجانے کے بعد اس کی زندگی کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لئے حد کا مقرر کرنا اس کی آزادی پر ضرب نہیں ہے۔ کیا ہمیں صحت کی دہائی دے کر کسی کو بھی اپنی زندگی فیصلوں کو ٹالنے پر مجبور کرنے کا حق حاصل ہے؟ سوال یہ ہے کہ اگر کوئی 18 برس کی عمر میں پختہ ذہن نہیں ہوسکتا ہے تو پھر کیا اس کو اپنے ملک کے نظام سیاست کو چلانے والوں کا انتخاب کرنے کا حق دیا جانا چاہئے ؟

چونکہ جب وہ اپنی زندگی کے بارے میں ٹھیک سے فیصلہ نہیں کرسکتا تو پھروہ ایک ملک کو پانچ سال کے لئے کسی کے ہاتھوں میں دے دینے کا ٹھیک سے فیصلہ کیسے کرلے گا؟ ایک جانب یہ باور کروایا جاتا ہے کہ لڑکے اور لڑکیاں 21 برس کی عمر تک پختہ ذہن نہیں ہوتے ہیںتو پھر انہیں12 برس کی عمر سے ہی تولید کے اسباق کیوں پڑھائے جاتے ہیں ؟ جب وہ اتنے ہی نا سمجھ ہیں تو پھر انہیں یہ کیوں بتایا جاتا ہے کہ بلوغیت کے ساتھ ہی انسانی جسم میں کیا تبدیلیاں آتی ہیں اور افزائش نسل کیسے ہوتی ہے؟کیا یہ سب کچھ جان کر لڑکے اور لڑکیاں غلط کاریوں میں مبتلا نہیں ہوجائیں گے؟

ہمارا یہ المیہ ہے کہ جو لوگ خود کو دانشور وں میں شامل کرنا چاہتے ہیں ان کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ وہ مذہب کے کتنے ہی پیارے اصول کیوں نہ ہوں ان میں نقص تلاش کرتے ہیں مگر جوں ہی انہیں سائنس کی دہائی دے دی جاتی ہے وہ ناقابل فہم بات کو بھی خاموشی سے نہ صرف تسلیم کرلیتے ہیں بلکہ اپنی دانست کے مطابق دلائل بھی ڈھونڈ لاتے ہیں تاکہ ان کی دانشوری کا بھرم رہ جائے اور جب کوئی ان کے پیش کردہ دلائل کو سائنسی اور منطقی اعتبار سے ہی رد کرنا شروع کرتا ہے تو اس پر جاہل ہونے کا لیبل لگاکر اپنی جان چھڑا نا چاہتے ہیں ۔

یہاں یہ پہلو بھی پیش نظر رکھا جائے کہ ہمارے بہت سے تعلیم یافتہ اوردولت مند خاندانوںکے بچے اور بچیوں کی شادیوں میں اس لئے بھی تاخیر ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کے شریک حیات کے انتخاب کے لئے جو معیارات مقرر کررکھے ہیںان کی وجہ سے تلاش میں وقت کا زیاں ہوتا ہے اور اس خفت کو مٹانے کے لئے وہ اس طرح کے کھوکھلے دلائل کا سہارا لیتے ہیں۔ ہمارے مشاہدہ میں یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ اعلیٰ ذات کے خاندانوں کے بچے تعلیم یافتہ ہونے اور دولت کی ریل پیل ہونے کے باوجود ان کے ہاں شادی کی اوسط عمر 26-28 برس سے زائد ہے جبکہ ان کے بچوں کے ساتھی جو سماجی و معاشی اعتبار سے کم ترسمجھے جاتے ہیں بہت جلد شادی کے بندھن میں بندھے جاتے ہیں۔

نریندر مودی اور بی جے پی یہ دعویٰ کرتے ہوئے نہیں تھکتے کہ ان کا اصل مقصد اس ملک کو ہندو راشٹرا میں تبدیل کرنا ہے اور سناتن دھرم کے اصولوں کو لاگو کرنا ہے چونکہ اس دھرم کے تمام اصول ، تمام انسانوں کے لئے سب سے بہتر ہیں مگر اس طرح کے فیصلے کرتے ہوئے وہ ہندو دھرم کی تعلیمات کو کیوں فراموش کرجاتے ہیں۔ کوئی مودی اور بی جے پی سے یہ کیوں نہیں پوچھتا کہ شادی کی حد عمر کے بارے میں ہندو دھرم کیا کہتا ہے اور اس کا ویدک جواز کیا ہے؟ دراصل یہ فیصلہ ہندو دھرم کو پیش نظر رکھتے ہوئے نہیں کیا گیا بلکہ عالمی طاقتوں کی ایماء پر کیا گیا چونکہ اس فیصلہ کے جو اثرات مرتب ہوں گے اس سے طب و صحت اور میزبانی سے جڑی بڑی بڑی کمپنیوں کو فائدہ حاصل ہوگا۔

اس پہلو پر زیادہ توجہ مرکوز کرنے کی بجائے ہم ملک میںرونما ہونے والے سماجی پہلوؤں پر روشنی ڈالیں گے۔ ایک قانونی پہلو یہ ہوگا کہ قانونی اعتبار سے تو شادی کی اقل ترین حد مقرر کردی جائے گی مگر کیا لڑکے اور لڑکیاں اپنی مرضی سے حد عمر کا لحاظ کئے بغیر میاں بیوی کی حیثیت سے گزارہ کرسکتے ہیں؟ کیا ان پربھی پابندی لگائی جائے گی کہ وہ 21 برس سے قبل ایسا فیصلہ نہیں کرسکتے اور بن بیاہے ہی ایک ساتھ نہیں رہ سکتے اور وہ ایسا کرتے ہیں تو کیا یہ جرم متصور ہوگا اور اس کی سزاء کیا مقرر کی جائے گی؟

چونکہ ماضی میں یہ دیکھا گیا کہ ہماری عدالتوں نے 18 برس سے کم عمر میں عاشقی کرتے ہوئے ازدواجی زندگی کا آغاز کرنے والوںکو اس کی اجازت دی ہے اور ان کی اس حرکت کو جرم نہیں مانا گیا ہے ۔ کچھ کیسس میں تو 18 برس سے کم عمر لڑکیوں کو لڑکیوں کی دیکھ بھال کے مراکز بھیج دیا گیا ہے ۔ حال ہی میں ایک کیس میں ماں کو ایسے ہی ایک سنٹر بھیج دیا گیا اور اس کے بچے کو سسرال کے حوالہ کردیا گیا ہے۔ مروجہ قوانین کی پاس داری میں اس بات کا بھی خیال نہیں رکھاگیا کہ ایک شیر خوار کو اس کی ماں کے ساتھ رہنے کے حق سے محروم کردیا گیا ہے۔

بھارت ، زبردست ترقی کے باوجود بھی ایک ایسا معاشرہ ہے جہاں شرم و حیاء اب بھی غالب ہے ۔یہاں اب بھی لڑکے اور لڑکیوں کے والدین کی رضامندی کے بغیر اپنی مرضی سے اپنے شریک حیات کا انتخاب کرنے کو معیوب سمجھا جاتا ہے ۔ ملک کے پولیس تھانوں اور عدالتوں میں آج بھی سینکڑوں مقدمات زیر دوران ہیں اور والدین اپنی اولاد کی اپنی مرضی سے شادی کرلینے کو قبول نہیں کرتے ۔ آج بھی بچوں کے بالغ ہوجانے کے بعد لڑکا ہو یا لڑکی اپنی مرضی سے اپنے شریک حیات کا انتخاب کرلیتے ہیں تو اس کو ہمارے والدین قبول نہیں کرتے اور اکثر والدین کی جانب سے یہ شکایت کی جاتی ہے کہ ان کی لڑکی کا اغواء کرلیا گیا ہے یا پھر ان کی لڑکی کو ورغلایا گیا ہے ۔

ایسے میں شادی کی قانونی حد عمر میں اضافہ کردیا جاتا ہے تو اس طرح کے واقعات میں مزید اضافہ ہی ہوگا ۔ فی زمانہ لڑکے اور لڑکیو ںکے اختلاط میں اس قدر اضافہ ہوگیا ہے کہ ہمیں پتہ ہی نہیں چلتا کہ وہ کب ایک دوسرے کے قریب آگئے ہیں اور ان میں ناجائزتعلقات قائم ہوگئے ہیں ۔ فطرت یہ ہے کہ بلوغیت کے ساتھ ہی شہوت جاگ اٹھتی ہے اور اس آزادانہ مخلوط ماحول میں شہوت پر قابو پانے کے لئے بڑے ہی تقویٰ کی ضرورت ہے ۔ تصور کریں کہ ایسے میں جب لڑکے اور لڑکیاں اپنی پسند کی شادی بھی کرنہیں پائیں تو لازم ہے کہ وہ اپنی شہوت کو بجھانے کے لئے شادی سے قبل ہی جسمانی تعلقات استوار کرلیں گے اور اس کے نتیجہ میں ملک میں بن بیاہی ماؤں کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔

اس صورت حال میںکس طرح تجارتی گھرانوں کا فائدہ ہوگا اس کا مختصر سا خاکہ بھی پیش کرنا مناسب ہوگا۔ شہوت کی پیاس بجھانے کے لئے لڑکے اور لڑکیاں ، ہوٹلس او ریسارٹس کا ہی انتخاب کریں گے اور اس سے مہمان نوازی کی صنعت خوب چمکے گی ۔ علاوہ ازیں ناپسندیدہ حمل سے بچنے کے لئے مانع حمل گولیوں کا استعمال خوب ہوگا جس کے نتیجہ میں لڑکیوں میں بہت سے طبی مسائل پیدا ہوں گے اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ان میں بانجھ پن بھی بڑھے گا اور شادی کے بعدجوڑے ، بچے نہ ہونے کی صورت میں مجبوراً فرٹیلیٹی سنٹرس کے چکر کاٹنے اور اپنی دولت برباد کرنے پر مجبور ہوں گے ۔

سماجی پہلو یہ بھی ہے کہ ایسے جوڑوں میں نااتفاقیاں بڑھیں گی اور ایک دوسرے پر اعتمادباقی نہیں رہے گا اور بالآخر طلاق کی شرح میں بھی زبردست اضافہ ہوگا۔ ہمارے غیرت مند والدین جب یہ دیکھیں گے کہ ان کی اولادیں غلط راہ نکل پڑیں اور اپنے سے کمتر کے ساتھ گھومنے پھرنے لگی ہیں تو عزت کی خاطر قتل کے واقعات میں بھی اضافہ ہوگا۔

شادی کی حد عمر میں اضافہ کے لئے یہ بھی دہائی دی جارہی ہے کہ کم عمر میں شادی سے لڑکیاں بچپن کی مسرتوں سے محروم ہوجارہی ہیں جبکہ بلوغیت کے ساتھ ہی بچپن تو کجا لڑکپن بھی ختم ہوجانا شروع ہوجاتا ہے۔ آج بھی بھارت کے غریب طبقہ کی 40 فیصد لڑلیاں 14-16 برس کی عمر کے بعد تعلیم ترک کردیتی ہیں اور وہ مجبوراً اپنے گھروں پر اپنے خوابوں کے شہزادہ کی ڈولی کے آنے کی منتظر ہوتی ہیں۔

جب یہ لڑکیاں گھروں پر تنہا ہوں گی تو اس بات کا اغلب امکان ہے کہ رشتوں کی حرمت بھی پامال ہوگی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شادی کی حد عمر کو 18 برس تک بڑھانے کے لئے کی گئی قانون سازی کے کئی دہوں بعد بھی ہم بچپن کی شادیوں پر قابو پانے میں ناکام رہے ہیں ۔ اس لئے اس قانون سازی کے وہ نتائج برآمد نہیں ہوں گے جن کویہ حاصل کرنا چاہتے ہیں مگر وہ غیر مرئی طاقتیں ضرور فائدہ اٹھائیں گی۔

athermoin1@gmail.com

۰۰۰٭٭٭۰۰۰

تبصرہ کریں

Back to top button