اومیکرون لہر جولائی میں عروج پر رہے گی

آئی آئی ٹی حیدرآباد اور کانپور کے ریاضی دانوں اور ریسرچرس جنہوں نے سوترا میتھمیٹکل ماڈل کو فروغ دیا ہے اور سابق میں کووڈ کی تین لہروں سے متعلق ان کی پیش قیاسیاں درست ثابت ہوئی ہیں۔

حیدرآباد: آئی آئی ٹی حیدرآباد اور کانپور کے ریاضی دانوں اور ریسرچرس جنہوں نے سوترا میتھمیٹکل ماڈل کو فروغ دیا ہے اور سابق میں کووڈ کی تین لہروں سے متعلق ان کی پیش قیاسیاں درست ثابت ہوئی ہیں، کہا کہ تلنگانہ کے بشمول ملک کی دیگر ریاستوں میں اومیکرون کے ذیلی اقسامBA4 اورBA5 کے انفیکشن کی جاری لہر، جولائی کے وسط میں عروج پر رہے گی اور اگست کے اوا خر تک انفیکشن کیسس بتدریج کم ہوجائیں گے۔

سوترا نے پیش قیاسی کی ہے کہ کووڈ کے موجودہ بڑھتے واقعات، جولائی کے وسط میں عروج پر رہیں گے اس دوران ملک بھر میں یومیہ 20 ہزار سے 25ہزار کے درمیان کیسس سامنے آئیں گے۔

سوترا ماڈل کو فروغ دینے والوں میں شامل ڈاکٹر منندر اگروال نے یہ بات بتائی۔ اس دوران محکمہ صحت کے ماہرین اور ڈاکٹروں نے عوام پر زور دیا کہ اومیکرون کے بڑھتے کیسس سے انہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

ماضی میں کووڈ کی تین لہروں کے تجربہ کو بروئے کار لاتے ہوئے اومیکرون کی لہر کابھی بہادری کے ساتھ سامنا کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کووڈ کی تین لہروں کے دوران عوام نے بہت کچھ سیکھا ہے اس تجربہ کے ساتھ چوتھی لہر کا پامردی کے ساتھ مقابلہ کرنا چاہئے۔

ماہرین صحت نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ ماسک کے استعمال کو ایک بار پھر اپنے اوپر لازمی کرلیں۔ سماجی فاصلہ کی دوری، سنیٹائزرس کا استعمال کرتے ہوئے کووڈ کے انفیکشن سے بچا جاسکتا ہے۔

تبصرہ کریں

Back to top button