اوٹی ٹی سیریز”قبول ہے“ کے پوسٹرمیں متبرک ناموں کااستعمال

دانستہ یا غیر دانستہ طور پر فلمی میڈیا کی جانب سے مسلمانوں کی دل آزاری کے واقعات آئے دن پیش آتے ہیں اور اس پر جب مسلمان احتجاج کرتا ہے تو اس کو بدنام کیا جاتا ہے کہ وہ وسیع النظری سے کام نہیں لیتا۔

حیدرآباد: دانستہ یا غیر دانستہ طور پر فلمی میڈیا کی جانب سے مسلمانوں کی دل آزاری کے واقعات آئے دن پیش آتے ہیں اور اس پر جب مسلمان احتجاج کرتا ہے تو اس کو بدنام کیا جاتا ہے کہ وہ وسیع النظری سے کام نہیں لیتا۔

ایک سچا مسلمان اپنے رب اور اس کی نازل کردہ کتاب قرآن مجید اور بندوں کی ہدایت کے لئے بھیجے گئے انبیاء و رسل کی شان میں معمولی سی بے ادبی بھی برداشت نہیں کرسکتا۔

ان دنوں مختلف سوشیل میڈیا پلیٹ فارمس پر فلمیں‘ سیریلس و ڈرامے وغیرہ پیش کئے جانے لگے ہیں اور اس پلیٹ فارم کو ’اوور دی ٹاپ میڈیا (او ٹی ٹی)‘ سرویس کہا جاتا ہے۔

تلگو او ٹی ٹی پلیٹ فارم ’آہا‘ نے اپنی 6 ایپی سوڈ پر مبنی سیریز ’قبول ہے‘ کا ٹیزر جاری کیا ہے۔ اس سیریز کا پریمئر 11/مارچ کو ہے‘ یہ ایک ایسی لڑکی کی کہانی پر مبنی ہے جسے اس کا غریب باپ‘ ایک دولت مند عرب کو فروخت کردیتا ہے۔

اس کے لئے جاری کردہ ایک پوسٹر پر سیریز کی کلیدی کردار نبھانے والی امینہ کی تصویر گھونگھٹ میں پیش کی گئی ہے‘ جس میں اس لڑکی کے گھونگھٹ کے اطراف ایک سوالیہ نشان بنایا گیا ہے۔ جب ہم اس تصویر کو نمایاں کرکے دیکھتے ہیں تو اس کے اندر اردو اور عربی میں لکھا کچھ نظر آتا ہے۔

اگرچہ سوالیہ نشان میں جو تحریر ہے وہ مکمل عبارت نہیں ہے مگر سوالیہ نشان کے پس پشت جو صفحہ دیا گیا ہے اس میں چند الفاظ ہیں جس سے یہ لگتا ہے کہ یہ کسی تفسیر یا مذہبی کتاب کی تحریر ہے۔

اس تحریر میں کہیں کہیں قرآنی آیت کے الفاظ دکھائی دیتے ہیں تو کہیں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نام بھی واضح ہوتا ہے۔ اس سیریز کے پروڈیوسر پنگل پرنو ریڈی ہے جسے مائریج میڈیا نے پیش کیا ہے۔

سیریز کے ذمہ داروں کی طرف سے دی گئی اطلاعات کے مطابق اس سیریز کو عمیر حسن اور فیض رائے نے تحریر کیا ہے اور شو کو عمیر حسن‘ فیض رائے اور پرنو ریڈی نے ہدایت دی ہے۔

اس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 6 ایپی سوڈ کی اس سیریز میں کئی پراسرار مافیاؤں اور انسانی اسمگلنگ کے گہرے رازوں کو عیاں کیا گیا ہے۔

تبصرہ کریں

Back to top button