اُدھو ٹھاکرے کو باغیوں کے خلاف کارروائی کا مکمل اختیار

شیوسینا قومی عاملہ نے ہفتہ کے دن قرارداد منظور کرتے ہوئے چیف منسٹر مہاراشٹرا اور پارٹی صدر اُدھو ٹھاکرے کو اختیار دے دیا کہ وہ ”پارٹی سے دغا کرنے والوں“ کے خلاف کارروائی کریں۔

ممبئی: شیوسینا قومی عاملہ نے ہفتہ کے دن قرارداد منظور کرتے ہوئے چیف منسٹر مہاراشٹرا اور پارٹی صدر اُدھو ٹھاکرے کو اختیار دے دیا کہ وہ ”پارٹی سے دغا کرنے والوں“ کے خلاف کارروائی کریں۔

ممبئی میں قومی عاملہ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں یہ بھی قرارداد منظور ہوئی کہ کوئی بھی دوسری سیاسی تنظیم یا دھڑا‘ شیوسینا اور اس کے بانی بال ٹھاکرے کا نام استعمال نہ کرے۔

قومی عاملہ نے طئے کیا کہ شیوسینا بال ٹھاکرے کی ہے اور وہ ان کی ہندوتوا آئیڈیالوجی اور مراٹھی تفاخر کو آگے لے جانے کی پابند ہے۔ شیوسینا اپنی راہ سے کبھی بھی انحراف نہیں کرے گی۔ پارٹی رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے ممبئی میں میڈیا کو یہ بات بتائی۔

انہوں نے کہا کہ آج منظورہ قرارداد میں شیوسینا صدر اُدھو ٹھاکرے کو پورا اختیار دے دیا گیا کہ وہ پارٹی سے دغا کرنے والوں کے خلاف کارروائی کریں۔ میٹنگ میں جملہ 6 قراردادیں منظو رکی گئیں۔ سنجے راوت نے کہا کہ بالاصاحب (ٹھاکرے) اور شیوسینا ایک ہی سکہ کے دو رخ ہیں۔

شیوسینا کو چھوڑکر کوئی بھی اس کا نام استعمال نہیں کرسکتا۔ قومی عاملہ میں یہ بھی طئے پایا کہ پارٹی آنے والے سارے مجالس مقامی الیکشن لڑے گی اور جیتے گی۔ غور طلب ہے کہ شیوسینا کے سینئر قائدین اننت رام گیتے اور رام داس کدم جو ارکان عاملہ ہیں‘ آج کی میٹنگ میں دکھائی نہیں دیئے۔

ایکناتھ شنڈے نے بھی جنہوں نے بغاوت کی ہے‘ میٹنگ میں شرکت نہیں کی۔ آئی اے این ایس کے بموجب سینا صدر اور چیف منسٹر اُدھو ٹھاکرے نے ہفتہ کے دن باغی گروپ کی ان کوششوں پر سخت تنقید کی کہ وہ اپنے دھڑے کو بال ٹھاکرے کا نام دینے والا ہے۔

ادھو نے کہا کہ میرے باپ کا نام مت لینا‘ اپنے باپ کا نام لو اور الیکشن جیت کر دکھاؤ۔ غیرمصدقہ اطلاعا ت میں کہا گیا تھا کہ ایکناتھ شنڈے گروپ نے اپنے دھڑے کو شیوسینا بالاصاحب ٹھاکرے گروپ کا نام دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس خبر سے مہاراشٹرا میں شیوسینکوں میں برہمی پھیل گئی جس پر باغیوں نے فوری اپنے موقف سے پیچھے ہٹ کر دعویٰ کردیا کہ ہم حقیقی شیوسینا ہیں۔

ادھو ٹھاکرے نے یہ بھی کہا کہ ان کی پارٹی الیکشن کمیشن کو لکھے گی کہ شیوسینا یا بالاصاحب ٹھاکرے کا نام غیرمجاز افراد یا سیاسی مفادات کے لئے وفاداریاں بدلنے والے گروپس استعمال نہ کریں۔ ادھو ٹھاکرے نے ایک دن قبل باغیوں کو چیلنج کیا تھا کہ وہ شیوسینا یا بالا صاحب ٹھاکرے کا نام لئے بغیر الیکشن جیت کر بتائیں۔

ایکناتھ شنڈے کو غدارقراردیتے ہوئے ادھو ٹھاکرے نے کہا تھا کہ میں نے اس شخص کے لئے کیا کیا نہیں کیا اس کے باوجود وہ مجھ پر‘ شیوسینا پر اور بالاصاحب ٹھاکرے پر الزامات عائد کررہا ہے۔ میں نے اس شخص کو شہری ترقیات کا قلمدان دیا جو میرے پاس تھا۔ اس شخص کا بیٹا(ڈاکٹر سری کانت شنڈے) دومرتبہ رکن پارلیمنٹ رہا اور اب یہ شخص سوال کررہا ہے کہ میں نے اپنے بیٹے (آدتیہ ٹھاکرے) کو وزیر کیوں بنایا۔

تبصرہ کریں

Back to top button