آج کچھ درد مرے دل میں سِوا ہوتا ہے۔۔۔

پروفیسر اخترالواسع

ایک ایسے وقت میں جب کہ مرکز میں حکمراںجماعت کا نہ کوئی مسلمان وزیر ہے اور نہ کسی دستوری عہدے پر کسی مسلمان کو حکمراں جماعت نے اپنا امیدوار بھی نہیں بنایا۔ ایسا کیوں ہوا یہ تو حکمراں جماعت کے ذمہ دار ہی بتا سکتے ہیں۔ اگر اس کا مقصد مسلمانوں کو اس کا احساس دلانا تھا کہ تم ہمارے نہ ہوئے تو ہم تمہارے ہی کیوں ہوں؟ ایسا سوچنا ممکن تو ہو سکتا ہے لیکن کسی برسرِ اقتدار سیاسی جماعت کے لیے یہ صحت مند سوچ نہیں ہو سکتی۔ خیر سے بی جے پی کے راجیہ سبھا میں تین مسلم ممبران تھے لیکن اب ایک بھی نہیں ہیں۔ اب صرف کیرالہ میں عارف محمد خاں بحیثیت گورنر ہیں تو لوک سبھا میں این ڈی اے کی طرف سے ایل جے پی کے محبوب علی قیصر اکلوتے مسلمان ہیں۔ یوپی میں ایک جونیئر وزیر دانش آزاد انصاری اور بہار کی حکومت میں شاہ نواز حسین بی جے پی کے مسلمان چہرے ہیں۔ اس میں سب سے عجیب بات یہ ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی مجلس عاملہ کے حیدرآباد اجلاس میں ایک طرف تو وزیر اعظم یہ فرماتے ہیں کہ ہمیں پسماندہ مسلمانوں کی طرف توجہ دینی چاہیے اور دوسری طرف وہ صورتحال ہے جس کا اوپر تذکرہ کیا گیا ہے۔ یہاں ایک بات کا اور اعتراف کرنا چاہیے کہ جس طرح بی جے پی نے نپور شرما کو معطل کیا اور نوین جندل کو برخاست کیا وہ کہیں نہ کہیں پارٹی کے اندر سوچ کی تبدیلی کا مظہر تو ہے۔ یہ دوسری بات ہے کہ ابھی تک نہ تو نپور شرما کو پارٹی سے نکالا گیا ہے اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی تعزیری کارروائی ہو رہی ہے بلکہ اس کے بالکل برعکس ان لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو نپور شرما کی مخالفت میں آواز اٹھا رہے ہیں۔
جیسا کہ ہم نے اوپر کہا ہے کہ پارٹی میں یہ احساس پایا جا سکتا ہے کہ جب مسلمان ہماری طرف متوجہ نہیں ہوتے تو ہم ان کی فکر کیوں کریں؟ کسی بھی برسراقتدار گروہ کے لیے یہ سوچ منفی بھی ہے اور غیر مفید بھی۔ جمہوریت میں الیکشن میں جیت کے بعد آپ سب کے ہوتے ہیں اور اپنے اور بیگانے کا فرق نہیں کرتے ہیں کیوں کہ یہ سوچ نہ ملک کے مفاد میں ہے اور نہ اس طبقے کے جس کی اَن دیکھی کی جا رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں جو ذہنیت پنپتی ہے وہ بھی نہ تو تعمیری ہوتی ہے اور نہ صحت مند۔ اس کے نتیجے میں وہ زخمی نفسیات جنم لیتی ہے جو کسی کرکٹ میچ کے دوران ڈریسنگ روم میں بیٹھے ہوئے بارہویں کھلاڑی کی ہوتی ہے۔ ڈریسنگ روم میں بیٹھا ہوا کھلاڑی ہمیشہ یہی سوچتا رہتا ہے کہ اس کی ٹیم کے جو گیارہ کھلاڑی میدان میں ہیں ان میں سے کوئی ایک زخمی ہوکر ریٹائر ہو جائے تاکہ وہ اس کی جگہ لے سکے اور پھر کھیل کے میدان میں اس کی جگہ لے کر وہ اپنے جوہر دکھائے، اپنی ٹیم کو جیت دلائے۔ بارہویں کھلاڑی والی یہ سوچ یقینی طور پر وزیر اعظم شری نریندر مودی کے سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس اور سب کا پریاس سے اسی طرح بالکل میل نہیں کھاتی جس طرح حکومت سے مسلمانوں کی یکسر بے دخلی نامناسب ہے۔
ابھی مسلمانوں کو سیاسی زندگی میں حاشیے پر ڈالنے کی بات ہو ہی رہی تھی کہ بی جے پی کے ایک ترجمان نے سابق نائب صدر جمہوریہ جناب حامد انصاری کو ایک بلا وجہ کے قضیہ میں ڈالنے کی کوشش کی اور وہ بھی ان کے خلاف گواہ کے طور پر اس پاکستانی صحافی نصرت مرزا کو پیش کیا جس کی ہندوستان سے دشمنی اظہر من الشمس رہی ہے۔ خیر سے نصرت مرزا نے وہ باتیں نہیں کہیں جو کہ بی جے پی ترجمان کو سب سے زیادہ بری لگیں۔ نصرت مرزا کا بعد میں بی بی سی کے ساتھ انٹرویو جن لوگوں نے دیکھا ہے وہ اس بات کی شہادت دیں گے کہ نصرت مرزا نے یہ بالکل نہیں کہا کہ وہ جناب حامد انصاری کے بلاوے پر ہندوستان آئے یا وہ انہیں کسی بھی طرح ذاتی طور پر جانتے ہیں۔ انہوں نے صاف کہا کہ وہ کانفرنس میں آئے تھے اور اس میں انہوں نے ان سے ہاتھ ضرور ملایا تھا لیکن اس کا قطعاً یہ مطلب نہیں کہ وہ مجھے جانتے اور پہچانتے بھی ہوں گے۔ ہندوستان میں صحافیوں کی جو نئی پیڑھی ہے اس میں عبدالباری مسعود، معصوم مرادآبادی اور سہیل انجم سمیت کتنے ہی لوگوں نے جناب حامد انصاری کا مناسب دفاع کیا ہے۔ ویسے بھی جناب حامد انصاری کو اپنی وطن دوستی کے لیے کسی سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے 1961 سے سفارتی میدان میں ملک کی خدمت اور اس کی عظمت کو دو بالا کرنے کا جو کام شروع کیا تھا، بغداد، رباط، جدّہ، برسلیز اس کی گواہی دینے کے لیے آج بھی موجود ہیں۔ انہوں نے گورنمنٹ آف انڈیا کے چیف آف پروٹوکول، متحدہ عرب امارات، آسٹریلیا، افغانستان، ایران اور سعودی عرب میں بحیثیت ہندوستانی سفیر جو قابل قدر خدمات انجام دیں اور جس طرح پاکستان کی ہندوستان مخالف کوششوں کو ان تمام ملکوں میں ناکام بنایا اسی کا نتیجہ ہے کہ آج تک مسلم دنیا کی اکثریت ہمارے ساتھ ہے۔ انہوں نے ایک ایسے وقت میں جب پاکستان نے دنیا بھر میں ہندوستان کے خلاف کشمیر کو لے کر ایک نیا محاذ کھول رکھا تھا، ہندوستان میں دہشت گردوں کے ذریعے تخریبی کارروائیاں کرنے کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی اس وقت یہ حامد انصاری ہی تھے جنہوں نے مجلس اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل مندوب کی حیثیت سے پاکستان کی سازشوں کو ناکام بنایا، اس کے نام نہاد پروپیگنڈہ کو غلط ثابت کرکے دکھایا اور ہندوستان کی عظمت کو دوبالاکیا۔ اگر حامد انصاری صاحب پر اتنا اعتبار نہ ہوتا تو نرسمہا راؤ سرکار انہیں سرد جنگ کے خاتمے کے بعد مجلس اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل مندوب کی حیثیت سے کبھی نہ بھیجتی۔ ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ آج متحدہ عرب امارات میں پہلے ہندوستانی اسکول کے لیے متحدہ امارات کے صدر شیخ خلیفہ بن زائد آلِ نہیان سے زمین انہوں نے ہی حاصل کی تھی۔ سفارتی خدمات سے سبکدوشی کے بعد حامد انصاری صاحب جواہر لال نہرو یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن سے علمی و تحقیقی سرگرمیوں کے لیے جڑے رہے۔ اس بیچ میں وہ اپنی مادرِ علمی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی رہے۔ مختلف کمیٹیوں کے سربراہ اور ممبر کی حیثیت سے انہوں نے قابل ستائش خدمات انجام دیں۔ اس بیچ میں ان کی پانچ کتابیں بھی آئیں۔ وہ شخص جو ہمارے قومی سلامتی مشاورتی بورڈ کاممبر رہا ہو، جس نے کشمیر میں اعتماد و اعتبار کی فضا قائم کرنے کے لیے ورکنگ گروپ کے چیئرمین کی حیثیت سے وہ شاندار رپورٹ تیار کی اور جو کہ اپریل 2007 میں منظور بھی کی گئی اور جس میں کشمیری پنڈتوں کی اپنی حقیقی سرزمین پر واپسی کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔ کیسا طرفہ تماشا ہے کہ ہم کشمیری پنڈتوں کو وہ سب نہیں دلا پائے جس کی اپریل 2007 میں حامد انصاری صاحب نے اپنی رپورٹ میں سفارش کی تھی۔
حامد انصاری صاحب کی ایک خوبی جو کہ ان کے معاندین کو سب سے زیادہ کھٹکتی ہے وہ یہ ہے کہ باوجود ایک ڈپلومیٹ ہونے کے وہ سچ کے اظہار میں کبھی کسی تکلف اور تصرف سے کام نہیں لیتے۔اسی لیے وہ اکثر لوگوں کی نظروں میں کھٹکتے ہیں۔ حامد انصاری صاحب کی ہندوستان سے محبت صرف اس لیے نہیں رہی کہ وہ ہندوستان کے وزارتِ خارجہ سے وابستہ تھے بلکہ اس ملک کی محبت ان کی گھٹّی میں پڑی ہوئی ہے۔ ان کا خاندان جنم جنمانتر سے اس ملک کی مٹی کا عاشق صادق رہا ہے۔ ان کے خاندان کے ایک بزرگ ڈاکٹر مختار احمد انصاری کانگریس کے بڑے لیڈروں میں تھے، اس کے صدر رہے۔ ان کے والد جناب عبدالعزیز انصاری جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بانیوں میں شامل تھے۔ ان کے ایک چچا شوکت اللہ انصاری اڈیسہ کے گورنر رہے۔ یہ تمام لوگ وہ تھے جنہوں نے مسلم لیگ کی فرقہ وارانہ سیاست اور دو قومی نظریے کو پوری طرح مسترد کر دیا اور کہا کہ ہندوستان صدیوں سے ہمارا ملک رہا تھا اور ہم اسی کی خاک سے اٹھے اور اسی کی خاک کاحصہ بن جائیں گے۔ اگر کچھ لوگ اقتدار کے نشے میں ایسے لوگوں کو بھی ملک سے غیروفادار قرار دینے کی کوشش کریں گے تو پھر کون اس ملک کا وفادار کہلائے گا؟ حامد انصاری صاحب نے جس پُروقار صبر و تحمل کے ساتھ ان الزامات کو جھیلا اس کے لیے ہم انہیں سلام کرتے ہیں۔ وہ ہندوستانی مسلمان ہی نہیں بلکہ ہندوستان کی آبرو ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے حفظ و امان میں رکھے اور صحت و عافیت کے ساتھ لمبی عمر عطا فرمائے۔آمین
(مضمون نگار جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر ایمریٹس (اسلامک اسٹڈیز) ہیں۔)

تبصرہ کریں

Back to top button