آخری ایام میں وارانسی سے اچھی جگہ کوئی اور نہیں؛ مودی کے دورہ کاشی پر اکھلیش یادو کا طنز

انہوں نے کہا کہ’ بی جے پی نے اپنے ایک نائب وزیراعلی کو پیدل کردیا اور ایک کو اسٹول پربٹھا دیا۔ بی جے پی کی اندرونی لڑائی کی وجہ سے ان سب کی زبان بدل رہی ہے جو جانتے ہیں کہ عوام انہیں ہٹانے کا کام کرنے جارہےہیں۔

اٹاوہ: وزیراعظم نریندر مودی کے وارانسی دورے پر طنز کستے ہوئے سماج وادی پارٹی (ایس پی) سربراہ اکھلیش یادو نے کہا کہ آخری ایام میں کاشی سے اچھی جگہ کوئی اور نہیں ہے۔ اس لئے وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک مہینے کے بجائے تین مہینے تک وارانسی میں ہی رہنا چاہئے۔

اپنے آبائی گاؤں سیفئی میں پیر کو پارٹی کارکنوں سے ملاقات کے بعد میڈیا نمائندوں سے بات چیت میں اکھلیش نے وزیراعظم نریندر مودی کے وارانسی و یوپی میں متعدد پروگراموں کے سلسلے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا’ بہت اچھی بات ہے۔ وہ جگہ رہنے والی ہے۔ آخری وقت میں وہیں کاشی میں ہی مقیم ہوجایا جاتا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ’ بی جے پی نے اپنے ایک نائب وزیراعلی کو پیدل کردیا اور ایک کو اسٹول پربٹھا دیا۔ بی جے پی کی اندرونی لڑائی کی وجہ سے ان سب کی زبان بدل رہی ہے جو جانتے ہیں کہ عوام انہیں ہٹانے کا کام کرنے جارہےہیں۔

سابق وزیراعلی نےکہا کہ بی جے پی نے کسانوں اور سکھوں سے گھبرا کر اور یوپی، پنجاب کے انتخابات کے سلسلے میں زرعی قوانین کو واپس لیا ہے۔اگر پہلے لیتے تو 700کسانوں کی جان نہیں جاتی۔ ایس پی حکومت آنے پر تحریک میں جان گنوانے والے کسانوں کو 25لاکھ کی امدادی رقم دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی جو پانچ ٹریلین اکانومی کا خواب دکھا رہی ہے وہ چاہئے تو ہر ایک کسان کو کروڑوں روپے دے سکتی ہے مگر بی جے پی کے لئے کسان نہیں بلکہ ان کا ووٹ اہمیت کا حامل ہے۔

غریبوں کو مفت راشن دیا جارہا ہے اچھی بات ہے لیکن کیا حکومت بتائے گی کہ اناج تقسیم میں جو اناج تقسیم کیا جارہا ہے اس کھانے کے ساتھ لوگوں کو ضروری غذا مل رہی ہے یا نہیں؟

راشن تقسیم نظام پر سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تغذیہ بخش کھانا غریبوں کو نہیں مل پارہا ہے۔ ایک طرف کسانوں کو سرسوں کی قیمت نہیں مل رہی ہے اور دوسری طرف جب سرسوں کا تیل بن رہا ہے تو مہنگا خریدنا پڑرہا ہے۔ دوہری مار سے بی جے پی کسانوں کو مار رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس بار عوام بی جے پی کو اترپردیش کی اقتدار سے بے دخل کرنے جارہے ہیں۔ اترپردیش میں بدلاؤ ہونے جارہا ہے کیونکہ اس حکومت میں کسان، نوجوان، ٹیچر، اور کاروباری سمیت ہر طبقہ تکلیف میں ہے۔

ذریعہ
یو این آئی

تبصرہ کریں

Back to top button