آخر کار گمراہی سے نجات مل ہی گئی

سیف المری میں گوٹھ سرجانی ٹاؤن کے ایک اور رہائشی محمد طارق نے بھی چند ماہ قبل اپنی بیوی فاطمہ اور سات بچوں محمدعبداللہ، محمد عبدالوارث، محمد شہزاد، ماریہ ، ثمینہ، ریاض اور فرہاد سمیت اسلام قبول کیا ہے۔

’’قبول اسلام سے پہلے عجیب سی بے چینی گھیرے رکھتی تھی، کچھ سمجھ میں نہیں آتا تھا، اللہ کے گھر کے باہر ہوتے ہوئے روزانہ حمدوثناء میرے کانوں میں گونجتی تھی۔ اللہ نے ہم پر احسان کیا اورہدایت دی تو ہم نے اسلام قبول کر لیا۔‘‘ یہ جملے نومسلم گھرانے کے سربراہ شوکت کے ہیں جنہوں نے اپنے خاندان کے ہمراہ عیسائیت ترک کر کے اسلام قبول کیا ہے۔

شوکت نے بتایا کہ سابقہ مذہب کے پیروکار انہیں ذہنی اور جسمانی اذیتیں پہنچا رہے ہیں لیکن اب ہم بھی حق وصداقت کے راستہ پر آنکلے ہیں۔ صعوبتوں سے گھبرانے والے نہیں۔ اللہ کی مدد ونصرت ہمارے ساتھ ہے۔ شوکت نے بتایا کہ اسلام قبول کرنے کے بعد جو روحانی خوشی مجھے ملی ہے اسے میں الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا ۔ میرادل اب مطمئن ہے اور نماز پڑھ کر اللہ سے یہ دعا کرتا ہوں کہ وہ مجھے اس راستہ پر ثابت قدم رکھے۔

محمد شوکت نے بتایا کہ اسلام قبول کرنے کے بعد ان کے سابقہ مذہب کے لوگوں نے ان پر کئی بار تشدد کیا اور ان کی والدہ کو مارا پیٹا تاکہ ہم اسلام قبول کرنے کے فیصلے سے دستبردار ہوجائیں لیکن اللہ نے ہمیں حوصلہ دیا اور آج میں ، میری بیوی اور بچے پر سکون زندگی گزار رہے ہیں۔ 35سالہ محمد شوکت نے بتایا کہ وہ واٹر بورڈ میں خاکروب تھے اور پاکستان کے سیف المری گوٹھ میں سرجانی ٹاؤن میں اپنی برادری کے ساتھ رہ رہے تھے۔ شوکت نے بتایا کہ وہ شام کے وقت جامع مسجد قبا سیکٹر D-7 سرجانی ٹاؤن میں باتھ رومز وغیرہ کی صفائی کرتے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ اکثر مولوی صاحب کا درس سنا کرتے اور ان کا دل بھی چاہتا تھا کہ وہ مسجد کے اندر جا کر درس سنیں لیکن ایسا ممکن نہیں تھا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ نماز کے لئے آنے والے افراد کو نماز پڑھتے ہوئے غورسے دیکھتے ۔ نماز کے دوران جب تمام لوگ ایک ساتھ رکوع اور سجدہ کرتے تو انہیں بہت اچھا لگتا۔ شوکت نے بتایا کہ میں نے اپنی بیوی رخسانہ سے اسلام قبول کرنے کے حوالے سے بات کی، اس نے بھی کہا جیسا تمہارا دل کہتا ہے ویسا کرو۔

شوکت نے بتایا کہ گھر کی طرف سے مطمئن ہونے کے بعد میں نے قبامسجد کی کمیٹی کے ایک رکن شہزاد صاحب سے بات کی اور پھر اپنی بیوی ، والدہ اور چار بچوں سمیت شیخ عبد الجبار کو جو کہ جامع ابوبکر گلشن اقبال میں استاذ ہیں، کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد میں نے اپنی والدہ کانام کلثوم اور بچوں کے نام عائشہ، محمد عبداللہ ، عبدالرحمن اور عبدالرحیم رکھے ہیں۔ جب ہماری برادری کو معلوم ہوا کہ ہم نے اسلام قبول کر لیا ہے تو انہوں نے ہمیں دھمکیاں دیں اور میری والدہ کو مارا پیٹا۔ شوکت نے بتایاکہ ارشد مسیح ، شہزاد مسیح، ہمیں مسلسل دھمکیاں دیتے رہے اور علاقے کا ایک کونسلر ڈاکٹر ڈیوڈ ان کی پشت پناہی کر رہا تھا۔

شوکت نے بتایا کہ انہوں نے مجھ پر سرجانی ٹاؤن تھانے میں قتل کی جھوٹی ایف آئی آر بھی کٹوائی اور ہمارے پلاٹ پر بھی قبضہ کر لیا۔ مجبور ہوکر ہم نے وہ علاقہ چھوڑ دیا او راب سرجانی میں ہی مسجد کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ شوکت نے بتایا کہ میں اور میرے بچے روزانہ مسجد جاتے ہیں اور باجماعت نماز پڑھتے ہیں جب کہ نماز کے بعد مولوی صاحب سے قرآن مجید بھی پڑھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ میری بیوی اور والدہ بھی گھر میں نماز پڑھتی ہیں اور قباء مسجد کی زیر نگرانی مدرسہ حفصہؓ میں نماز اور قرآن کی تعلیم حاصل کرتی ہیں۔

شوکت نے بتایا کہ محلہ کے لوگ بھی ہم سے بہت تعاون کر رہے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ میں ان لوگوں کے درمیان آگیا ہوں جو میرے خیر خواہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نماز پڑھ کر جو روحانی سکون دل کو ملتا ہے اسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا ۔ ان کا دل مطمئن ہے اور ان کی دعا ہے کہ ان کے بچے اسلام کی حقیقی تعلیم حاصل کریں تاکہ آنے زندگی میں وہ اور ہم سب سرخرو ہو سکیں۔ محمد شوکت کے بڑے بھائی محمد ذوالفقار جنہوں نے تین سال پہلے اپنی دو بیویوں اور پانچ بچوں سمیت اسلام قبول کیا تھا، اپنے چھوٹے بھائی شوکت کے اس فیصلے سے بہت خوش ہیں۔

محمد ذوالفقار کا کہنا تھا کہ تین سال پہلے جب میں نے اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کیا تو میری برادری اور گھر کے لوگوں نے مجھے روکنے کی بہت کوشش کی لیکن روشنی کو دیکھ کر میں دوبارہ اندھیرے میں کیسے جا سکتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے اپنا گھر تبدیل کر دیا اور گھر والوں سے بھی رابطہ منقطع ہو گیا، لیکن اب مجھے خوشی ہے کہ نہ صرف شوکت اور اس کی فیملی نے بلکہ میری والدہ نے بھی اسلام قبول کر لیا ہے جس کے بعد میرے ذہن سے ایک بڑا بوجھ ہٹ گیا ہے۔ محمد ذوالفقار نے بتایا کہ اسلام قبول کرنے کے بعد علاقے کے ایک کونسلر اور اس کے ساتھیوں ارشد مسیح، شہزاد اور لازا مسیح نے شوکت اور میری والدہ کو مارا پیٹا اور ہمیں جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دیں۔ اس کے بعد میں اپنے بچوں کو لے کر سیف المری گوٹھ چلا گیا اور مختلف مقامات پر رہتا رہا۔

اب بھی میری ایک بیوی پنجاب میں ہے اور دوسری میرے ساتھ ہے ۔ میں کسی بھی مکان میں 2ماہ سے زیادہ نہیں رہا، اس وجہ سے ہر جگہ پر کونسلر اور اس کے کارندے مجھے مارنے کی کوشش کرتے رہے جس کی وجہ سے نہ تو میں خود اسلامی تعلیم حاصل کر سکا اور نہ ہی اپنے بچوں کو قرآن کی تعلیم دلوا سکا۔ تقریباً9ماہ میں اپنی نوکری پر نہیں جا سکا، اس کے بعد جب طارق نے اسلام قبول کیا تو اس نے میری ملاقات شہزاد بھائی سے کروائی تو انہوں نے مجھے حوصلہ دیا اور کہا کہ تمہارے دکھ اور سکھ میں ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ پھر انہوں نے مسجد کے پاس ہمیں مکان کرائے پر لے کر دیا جس کا کرایہ مسجد والے ادا کرتے ہیں ۔ مہینے کا راشن بھی ڈلواکر دیتے ہیں۔ اب میرابڑا بیٹا مدرسہ میں قرآن حفظ کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے پولیس کو بھی ان دھمکیوں کے متعلق بتایا لیکن ان لوگوں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوئی۔

سیف المری میں گوٹھ سرجانی ٹاؤن کے ایک اور رہائشی محمد طارق نے بھی چند ماہ قبل اپنی بیوی فاطمہ اور سات بچوں محمدعبداللہ، محمد عبدالوارث، محمد شہزاد، ماریہ ، ثمینہ، ریاض اور فرہاد سمیت اسلام قبول کیا ہے۔ 40سالہ محمد طارق نے بتایا کہ وہ بھی واٹر بورڈ میں خاکروب تھے اورشام کے اوقات میں جامع مسجد قبا سیکٹر 7-D سرجانی ٹاؤن میں بھی کام کرتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارے پادری ہمیں جس کام سے روکتے خود ہی کام کر رہے ہوتے اور جو پادری ہمیں تبلیغ کرتا تھا وہ خود بھی نشہ کرتا تھا۔ محمد طارق نے بتایا کہ ایک دن میں نے مسجد کے باہر کھڑے ہو کر جمعہ کا خطبہ سنا جس میں مولوی صاحب توحید کے حوالے سے گفتگو کر رہے تھے اور مولوی صاحب کی یہ بات کہ ’’اللہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے‘‘ میرے دل میں گھر کر گئی۔ا س کے بعد میں اکثر مسجد کے باہر کھڑے ہو کر درس اور جمعہ کا خطاب سننے لگا۔

طارق نے بتایا کہ اکثرلوگوں نے مجھے کہا کہ تمہارا نام کتنا اچھا ہے اور تم یہ کیا کام کر رہے ہو۔طارق نے بتایا کہ اسلام کے متعلق مجھے جاننے کا شوق بڑھتا چلاگیا اور پھر میںنے اپنی بیوی اور سات بچوں سمیت شہزاد صاحب جو کہ مسجد کمیٹی کے رکن ہیں کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا۔ محمد طارق نے بتایا کہ میرے اس فیصلہ سے میری سابقہ برادری میں اشتعال پھیل گیا، انہوں نے مجھے برادری سے نکالنے کی دھمکی دی تو میں نے کہا اب ویسے بھی میں تمہارے ساتھ نہیں رہ سکتا۔ محمد طارق نے بتایا کہ یہ سن کر برادری کے لوگ آپے سے باہر ہو گئے اور مجھ پر بے پناہ تشدد کیا۔ میں نے وہ علاقہ چھوڑ دیا اور اب سرجانی میں ہی ایک کرایہ کے گھر میں رہ رہا ہوں۔ اس کا کرایہ مسجد کی کمیٹی ادا کرتی ہے اور اب میرے تینوں لڑکے مدرسہ میں قرآن حفظ کر رہے ہیں۔ یہ سال ہماراتھاہم نے الحمدللہ اس سال رمضان المبارک میں خوب نیکیاں کمائی ہیں۔ میں میری بیوی او رمیرے تینوں بیٹوں نے الحمدللہ پورے روزے رکھے اورمکمل تراویح اد اکی۔

طارق نے بتایا کہ پچھلے ہفتہ ان لوگوں نے مجھے گھرواپس آتے ہوئے راستے میں روک لیا اور مجھے مارا پیٹا لیکن میرا دل مطمئن ہے او رمیں اپنے فیصلہ پر خوش ہوں۔طارق نے بتایا کہ پہلے میں مسجد کے اندر داخل نہیں ہو سکتا تھالیکن اب سب کے ساتھ مل کر نماز پڑھتا ہوں۔ انہوں نے بتایاکہ مجھے یہ بات سب سے زیادہ اچھی لگی کہ نماز میں امیراور غریب کا کوئی فرق نہیں رہتااور تمام لوگ اپنی حیثیت کو بھلا کر اپنے رب کے آگے کھڑے ہوتے ہیں۔محمد طارق کی بیوی جن کا اسلامی نام فاطمہ ہے، نے بتایا کہ انہیں جس چیز نے سب سے زیادہ متاثر کیا، وہ ’’پردہ ‘‘ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب میں پردہ کرتی ہوں تو مجھے ایک تحفظ کا احساس ہوتا ہے۔ فاطمہ نے بتایا کہ وہ نماز باقاعدگی سے پڑھ رہی ہیںاو رمحلے کی خواتین سے قرآن پاک پڑھنا سیکھ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ اسلام امن کا مذہب ہے اور ہمیں خوشی ہے کہ ہمیں گمراہی سے نجات مل گئی۔

٭٭٭

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button