آندھراپردیش میں تنخواہوں پرنظرثانی مسئلہ ٹیچرس کے احتجاج میں شدت

احتجاجیوں نے دعویٰ کیا کہ تنخواہوں پر نظرثانی‘عبوری راحت سے بھی کم ہے۔ سرکاری ملازمین اور اساتذہ نے اس جی اوکومستردکردیا اورسابق پے ڈھانچہ کے مطابق ہی انہیں تنخواہیں ایصال کرنے کا مطالبہ کیاہے۔

امراوتی: تنخواہوں پرنظرثانی (پے ریویژن) سے متعلق حکومت اے پی کے اعلان پرعدم اطمینان کااظہارکرتے ہوئے آندھراپردیش کے سرکاری مدارس کے اساتذہ نے اپنے احتجاج میں شدت پیداکرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔ان اساتذہ نے تنخواہوں میں 23فیصداضافہ سے متعلق حکومت کی جانب سے جاری کردہ جی اوسے دستبرداری کا مطالبہ کرتے ہوئے ریالیاں نکالیں اوردھرنے منظم کئے۔

احتجاجیوں نے دعویٰ کیا کہ تنخواہوں پر نظرثانی‘عبوری راحت سے بھی کم ہے۔سرکاری ملازمین اور اساتذہ نے اس جی اوکومستردکردیا اورسابق پے ڈھانچہ کے مطابق ہی انہیں تنخواہیں ایصال کرنے کا مطالبہ کیاہے۔احتجاجی منصوبہ کے حصہ کے مطابق فیڈریشن آف آندھراپردیش ٹیچرس آرگنائزیشنس نے ضلع مستقروں پر کلکٹریٹس کے سامنے دھرنے منظم کرنے کی اپیل کی تھی ۔

تاہم پولیس نے چہارشنبہ کی شب فیڈریشن کے قائدین کونوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں احتجاج سے دوررہنے کی ہدایت دی اورکہاکہ ان مقامات پر احتجاج کی اجازت نہیں ہے۔ احتجاج کوناکام بنانے کے لئے پولیس نے آج صبح مختلف مقامات پر اساتذہ کو گھروں پر نظربندکردیاجبکہ کلکٹریٹس کی طرف احتجاج کے لئے جانے والے اساتذہ کوپولیس نے حراست میں لے لیا۔

ریاست کے تمام  13 اضلاع میں کلکٹریٹس کے اطراف پولیس کا بڑے پیمانے پر بندوبست کیاگیا ہے۔ احتجاج کوروکنے کے لئے کلکٹریٹس کے اطراف رکاوٹیں کھڑی کردی گئیں۔اساتذہ نے گنٹور‘ نیلور‘چتور‘کڑپہ‘کرنول‘وشاکھاپٹنم اوردیگر اضلاع میں کلکٹریٹس کامحاصرہ کرنے کی کوشش کی۔

 چندمقامات پراحتجاج سے کشیدگی پھیل گئی۔پدوتور سے کڑپہ کلکٹریٹ کی طرف بڑھنے والے اساتذہ کوپولیس نے کتہ پلی چیک پوسٹ پرروک دیاجس کے خلاف اساتذہ سڑک پربیٹھ گئے اور احتجاج شروع کیا۔پرچم تھامے احتجاجی حکومت کے خلاف نعرے لگارہے تھے اورجی اوکی منسوخی کا مطالبہ کررہے تھے۔چتورمیں بھی پولیس نے کلکٹریٹ کی سمت مارچ کرنے والے اساتذہ کوحراست میں لے لیا۔

تروپتی میں اساتذہ کو گھروں پرنظربندکردیاگیا۔دریں اثناء سرکاری ملازمین جی اوکے خلاف اپنااحتجاج جاری رکھے  ہوئے ہیں۔چیف سکریٹری نے کل واضح کردیاکہ نظرثانی تنخواہوں کوواپس لینے کاسوال ہی  نہیں ہوتا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2019 سے ڈی  اے بقایہ جات کی ادائیگی سے تنخواہوں میں اضافہ ہوگا۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button