اچھا ہوا یوگی نے ایودھیا سے اسمبلی الیکشن نہیں لڑا

آچاریہ ستیندر داس نے کہا کہ انہوں نے قبل ازیں تجویز کیاتھا کہ آدتیہ ناتھ کو گورکھپور سے الیکشن لڑناچاہئے کیونکہ رام مندر کی تعمیر کے مدنظر انفراسٹرکچر پراجکٹس کی وجہ سے جن لوگوں کے مکان اور دکانیں منہدم ہوئی ہیں وہ یوگی کی مخالفت کررہے ہیں۔

ایودھیا (یو پی): رام مندر کے صدر پجاری نے پیر کے دن کہا کہ اچھا ہوا کہ اترپردیش کے چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ اس نشست سے یوپی اسمبلی الیکشن نہیں لڑرہے ہیں ورنہ انہیں شدید مخالفت کا سامنا کرناپڑتا۔

آچاریہ ستیندر داس نے کہا کہ انہوں نے قبل ازیں تجویز کیاتھا کہ آدتیہ ناتھ کو گورکھپور سے الیکشن لڑناچاہئے کیونکہ رام مندر کی تعمیر کے مدنظر انفراسٹرکچر پراجکٹس کی وجہ سے جن لوگوں کے مکان اور دکانیں منہدم ہوئی ہیں وہ یوگی کی مخالفت کررہے ہیں۔

آچاریہ ستیندرداس نے جو اراضی رام مندر کے صدر پجاری ہیں جس کی جگہ شاندار مندر بن رہاہے کہاکہ اچھا ہوا کہ چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ یہاں سے الیکشن نہیں لڑرہے ہیں۔ میں نے سابق میں مشورہ دیاتھا کہ وہ گورکھپور کی کسی بھی نشست سے الیکشن لڑیں۔

یہ پوچھنے پر کہ انہوں نے یوگی آدتیہ ناتھ کو ایودھیا سے الیکشن نہ لڑنے کا مشورہ کب دیاتھا تو ستیندر داس نے جواب دیا کہ انہوں نے بھگوان رام سے پوچھ کر انہیں یہ مشورہ دیاتھا۔ یہاں کے سادھو سنتوں کی رائے بٹی ہوئی ہے۔

جن لوگوں کے مکان اور دکانیں منہدم ہوئی ہیں وہ یوگی کے خلاف ہیں۔ 84 سالہ اچاریہ ستیندر داس نے کہاکہ مخالفت کی وجہ سے میں نے یوگی سے کہا تھا کہ بہتر ہوگا کہ وہ گورکھپور سے الیکشن لڑیں۔ وہ یہاں سے جیت سکتے تھے لیکن انہیں مسائل کاسامنا کرناپڑتا۔

سیاسی حلقوں میں کہا جارہاتھا کہ آدتیہ ناتھ ایودھیا سے اسمبلی الیکشن لڑیں گے لیکن بی جے پی قیادت نے انہیں گورکھپور (اربن) کی نشست سے میدان میں اتارنے کافیصلہ کیا۔ ایودھیا میں الیکشن موڈ کے بارے میں پوچھنے پر اچاریہ نے کہاکہ ابھی یہ واضح نہیں ہے کیونکہ تمام جماعتوں نے اپنے امیدواروں کا اعلان نہیں کیاہے۔

صدر پجاری نے تاہم کہا کہ برسر اقتدار بی جے پی رام مندر کا مسئلہ نہیں چھوڑے گی اور اس کے ایجنڈہ میں برقرار رہے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان کی زندگی میں رام مندر بن جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ دیکھناہے کہ اس کی تعمیر مکمل ہونے میں کتنے دن لگیں گے۔

میرے ساتھ جتنے لوگ تھے ان میں زیادہ تر اس دنیا میں جاچکے ہیں۔ آچاریہ ستیندر داس نے 1992 میں بابری مسجد کی شہادت کے بعد عارضی رام مندر کے پجاری بنے تھے۔ یہ پوچھنے پر کہ آیا وہ مسجد کی شہادت کے وقت موجود تھے تو انہوں نے جواب دیا کہ ہاں میں وہاں تھا اور میرے سامنے ہی مسجد شہید ہوئی۔

میں اس کا گواہ ہوں۔ تین گنبدوں میں شمالی اور جنوبی گنبدوں کو کارسیوکوں نے ڈھایاتھا۔ میں اپنے ہاتھوں میں رام کی مورتی لے کر وہاں پہنچا تھا۔ شام 5بجے تک مسجد شہید ہوگئی‘بعد میں کارسیوکوں نے خیمہ لگادیا اور شام 7بجے تک زمین مسطح کردی۔

میں نے وہاں مورتی رکھ دی۔ 2012کے اسمبلی الیکشن میں پون پانڈے ایودھیا سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے تھے اور پچھلی اکھلیش حکومت میں وزیر بنائے گئے تھے۔ 2017میں بی جے پی کے وید پرکاش گپتا نے ایودھیا کی نشست جیتی تھی۔

ضلع کی تمام پانچ اسمبلی نشستیں ایودھیا‘ بیکا پور‘ روڈلی‘ گوسائی گنج اور ملکی پور فی الحال بی جے پی کے پاس ہیں۔ ایودھیا میں پولنگ 5 ویں مرحلہ کے تحت 27فروری کو ہوگی۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button