اگنی پتھ اسکیم کے خلاف ریاست میں کانگریس کی ستیہ گرہ

اے آئی سی سی کی ہدایت پر تلنگانہ کانگریس قائدین اورکارکنوں نے اگنی پتھ اسکیم سے دستبرداری کا مطالبہ کرتے ہوئے ریاست کے تمام اسمبلی حلقہ جات میں آج ستیہ گرہ منظم کیا۔

حیدرآباد: اے آئی سی سی کی ہدایت پر تلنگانہ کانگریس قائدین اورکارکنوں نے اگنی پتھ اسکیم سے دستبرداری کا مطالبہ کرتے ہوئے ریاست کے تمام اسمبلی حلقہ جات میں آج ستیہ گرہ منظم کیا۔

صدرٹی پی سی سی ریونت ریڈی نے حلقہ اسمبلی ملکاجگری میں‘کارگزارصدرانجن کمار یادو کی قیادت میں حلقہ اسمبلی گوشہ محل کے علاقہ عابڈز چوراہا پر‘خیریت آباد میں کارپوریٹر وجیہ ریڈی‘روہن ریڈی ودیگر‘ سابق وزیر محمدعلی شبیر نے حلقہ اسمبلی کاماریڈی میں‘مدھویاشکی گوڑ حلقہ اسمبلی نظام آباد میں سی ایل پی قائد بھٹی وکرامارکہ حلقہ اسمبلی مدھیرا‘ مہیش کمار گوڑ ودیگرنے حلقہ اسمبلی مشیرآباد میں‘ نرملاجگاریڈی صدر ڈسڑکٹ کانگریس کمیٹی حلقہ اسمبلی سنگاریڈی‘نائب صدر ملوروی حلقہ جڑچرلہ‘پونم پربھاکر نائب صدر حلقہ اسمبلی کریم نگر میں منعقدہ ستیہ گرہ میں حصہ لیا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدرٹی پی سی سی ریونت ریڈی نے کہاکہ کانگریس پارٹی نے جئے جوان جئے کسان کانعرہ بلند کیاتھا۔وزیر اعظم نریندرمودی کی قیادت میں بی جے پی حکومت آدانی اورامبانی کوفائدہ پہنچانے کے لئے اگنی پتھ اسکیم کومتعارف کرایا۔

اس اسکیم کی ملک بھر کے نوجوانوں نے شدید مخالفت کرتے ہوئے اپنے غم وغصہ کااظہار کیاہے۔ اگنی پتھ اسکیم سے نوجوانوں کے مستقبل کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔ 4سال کی ملازمت سے سبکدوشی کے بعد نوجوانوں کوکون نوکری دے گا اس کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔

انہوں نے کہاکہ جب پولیس میں بھرتی کے بعد جوانوں کو9ماہ کی ٹریننگ دی جاتی ہے فوج میں 6ماہ کی ٹریننگ سے کاکیافائدہ ہوگا۔ریونت ریڈی نے کہاکہ مرکزی حکومت ایک چھوٹے سے ملک اسرائیل کی طرز پر فوج میں بھرتی کے لئے اگنی پتھ اسکیم کورائج کرنے کا فیصلہ شرمناک ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہندوستان کی 140 کروڑ کی آبادی والے ملک میں 4 سال کی فوجی ملازمت غیرتعلیم یافتہ نریندر مودی کی ناقص پالیسی کا نتیجہ ہے۔

4سال کی ملازمت کے بعدسبکدوش فوجی نوجوانوں سے کوئی شادی نہیں کرئے گا۔انہوں نے کہاکہ لاکھوں نوجوان آرمی ٹسٹ پاس کرکے گزشتہ دوسال سے انتظار کررہے ہیں۔اب جبکہ نئی اسکیم کی عمل آوری کے لئے سابق ٹسٹ کومنسوخ کرکے دوبارہ ٹسٹ منعقد کرنا نوجوانوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔

انہوں نے کہاکہ پرامن احتجاج کرنے والے کئی نوجوانوں پر ریلوے پولیس نے سنگین دفعات کے تحت مقدمات درج کرکے جیل میں محروس کردیاہے۔ان نوجوانوں کاتعلق ایسے دیہاتوں سے ہے جن کے والدین نے کبھی حیدرآباد کی صورت نہیں دیکھی ہے ان محروس نوجوانوں کوجیل سے رہا کرنے کے لئے ان والدین میں کوئی شعور یا معلومات نہیں ہیں اور نہ ہی وکیل کی خدمات حاصل کرنے کے لئے ان کے پاس کوئی رقم ہے۔

چنانچہ کانگریس پارٹی نے تمام محروسین کی قانونی مدد کرنے کا فیصلہ کیاہے۔ ریڈی نے جیل میں محروس نوجوانوں کے مقدمات کی سماعت کے لئے اسپیشل کورٹ قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کے سی آر کومشورہ دیا کہ وہ نریندرمودی کی حیدرآباد آمدپراگنی پتھ اسکیم سے دستبرادری اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ سے ملاقات کرکے نوجوانوں پرعائد مقدمات کوواپس لینے کا مطالبہ کریں۔

تبصرہ کریں

Back to top button