ایئرلائنس میں رخصت پدری پر غور کرنے کی ضرورت : سندھیا

انہوں نے ملک میں خاتون پائلٹس کی حصہ داری کو 15 فیصد سے بڑھاکر 50 فیصد کرنے کی بھی وکالت کی ۔

نئی دہلی ۔ وزیر شہری ہوا بازی جیوتر آدتیہ سندھیا نے آج کہا کہ ایئرلائنس کو چاہیے کہ وہ مرد ملازمین کو رخصت پدری دینے پر غور کرے تاکہ وہ بھی بچوں کی پرورش میں اپنی ذمہ داری نبھا سکے ۔ انہوں نے ملک میں خاتون پائلٹس کی حصہ داری کو 15 فیصد سے بڑھاکر 50 فیصد کرنے کی بھی وکالت کی ۔

ہندوستان نے 2017ء میں زچگی (ترمیمی) بل منظور کیا تھا ، جس کے ذریعہ برسرخدمت خواتین کے لیے رخصتِ زچگی معہ تنخواہ کی مدت کو 12 ہفتے سے بڑھاکر 26 ہفتے کردیا گیا تھا ۔ ہندوستانی ایئرلائنس فی الحال 2017ء کے قانون کے مطابق زچکی رخصت معہ تنخواہ دیتی ہیں ، لیکن بیشتر ایئرلائنس میں مردوں کے لیے ا یسی کوئی پالیسی نہیں ہے ۔

سندھیا نے ایک غیرمنفعت بخش تنظم کے ایک جلسہ بعنوان ’’شہری ہوا بازی میں خواتین‘‘ پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میرا یہ ماننا ہے کہ ہماری ایئرلائنس خواتین کے لیے بہتر کام کا ماحول تخلیق کرنے کے معاملہ میں بہترین خدمت انجام دے رہی ہیں ، چاہے خواتین بیساکھیاں استعمال کرتی ہوں یا زچگی رخصت کا معاملہ ہو یا پھر کوئی اور مسئلہ ہو ۔

لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں اس سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے ۔ ہمیں ایک ایسا ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہے جو نہ صرف جنسی غیرجانبدار ہو بلکہ خاندانی ماحول کے معاملہ میں مرد و خواتین کے لیے مساوی ذمہ داری فراہم کرتا ہو ۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button