ایس پی اور بی جے پی کے حامیوں میں لگی انوکھی شرط

کسان وجے سنگھ اور شیر علی شاہ نے چوپال پرچھڑی انتخابی بحث کے دوران یہ شرط لگائی تھی کہ اگر ایس پی جیتی تو وجے اپنی چار بیگہہ زمین ایک سال کے لیے شیر علی شاہ کو دے دے گا جبکہ اگر بی جے پی کے جیتنے پر شیر علی چار بیگہہ زمین وجے کو دے گا۔

بدایوں: اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں ہار-جیت کا فیصلہ بھلے ہی ہو گیا ہو مگر یہاں کے ایک گاؤں میں سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے ایک حامی نےشرط کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی)کو اپنی چار بیگہہ زمین ایک سال کیلئے دینا قبول کر لیا ہے۔

ضلع ہیڈکوارٹر سے تقریباً 24 کلومیٹر دو میاؤں علاقے کے گاؤں ویریاڈانڈہ کے باشندے کسان وجے سنگھ اور شیر علی شاہ نے چوپال پرچھڑی انتخابی بحث کے دوران یہ شرط لگائی تھی کہ اگر ایس پی جیتی تو وجے اپنی چار بیگہہ زمین ایک سال کے لیے شیر علی شاہ کو دے دے گا جبکہ اگر بی جے پی کے جیتنے پر شیر علی چار بیگہہ زمین وجے کو دے گا۔

اس کے لیے گاؤں کے 12 افراد کی گواہی پر دونوں نے شرط کا تحریری مسودہ بھی تیار کیا ہے۔ اب یہی اسکرپٹ سوشل میڈیا پر بھی سامنے آیا ہے۔ حالانکہ قانونی طور پر اس تحریر کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ شیر علی نے بتایا کہ جس دن شرط لگ گئی اس دن وجے کا بھائی ان کے گھر آیا اور کہنے لگا کہ وجے شراب پیتا ہے، بات ختم کرو۔

شیر علی نے بھی بات ختم کرنے پر رضامندی ظاہر کی لیکن ساتھ ہی کہا کہ وہ اپنی بات سے پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔ اب بی جے پی کی حکومت آئی ہے، اگر دباؤ پڑے گا تو زمین مجھے دینی پڑے گی۔ وجے سنگھ سے بات کرنے کی کوشش کی گئی لیکن وہ نہیں بولے۔ اب سب کی نظریں اس شرط پر ہیں۔

یہ بھی پڑھیں
ذریعہ
یواین آئی

تبصرہ کریں

Back to top button