ایس پی کے مضبوط قلعہ اعظم گڑھ اور رامپور میں بی جے پی کی جیت

اعظم گڑھ میں کل 13امیدوار انتخابی میدان میں تھے ۔ لیکن اصل مقابلہ بی جے پی، ایس پی امیدوارکے درمیان تھا۔ بی ایس پی نے سابق ایم ایل اے شاہ عالم عرف گڈو جمالی کو میدان میں اتار کر مقابلے کو سہ رخی بنا دیا تھا۔

لکھنؤ: اترپردیش میں دو پارلیمانی حلقوں اعظم گڑھ و رامپور پر ہوئے ضمنی الیکشن کے آج آئے نتائج میں بی جے پی نے دونوں سیٹوں پر جیت کا پرچم لہرایا ہے۔اس کے ساتھ ہی جہاں رام پور میں اعظم خان کو ذاتی طور پر مایوسی ہاتھ لگی وہیں ایس پی کا قلعہ کہے جارہے اعظم گڑھ میں بی جے پی سیندھ ماری میں کامیاب رہی۔

الیکشن کمیشن سے موصول اطلاعات کے مطابق رامپور میں بی جے پی امیدوار گھنشیام سنگھ لودی نے اپنے قریبی حریف و ایس پی امیدوار عاصم راجا کو شکست سے دوچار کیا جبکہ اعظم گڑھ میں بی جے پی امیدوار دنیش لال یادو نرہوا نے ایس پی امیدوار دھرمیندر یادو کو شکست دینے میں کامیابی حاصل کی۔رامپور میں بی جے پی کی جیت کا مارجن 42192ووٹوں کا رہا تو اعظم گڑھ میں نرہوا نے دھرمیندر یاد و پر 8679ووٹوں سے سبقت حاصل کی۔

اعظم گڑھ اور رامپور سماج وادی پارٹی کا قلعہ سمجھے جاتے ہیں اور دونوں ہی سیٹیں سماج وادی کے قبضے میں تھیں لیکن اکھلیش یادو اور اعظم خان کے استعفی دینے کے بعد یہ ان سیٹوں پر ضمنی انتخابات ہوئے تھے ۔اور آج آئے نتائج میں بی جے پی نے دونوں سیٹوں پر قبضہ کرلیا۔رامپور جہاں اعظم خان کا وقار داؤ پر تھا تو وہیں اعظم گڑھ کو یادو کنبے کا گڑھ مانا جارہا تھا اور یہاں پرجیت کے لئے سماج وادی پارٹی پر اعتماد تھی۔

اعظم گڑھ میں کل 13امیدوار انتخابی میدان میں تھے ۔ لیکن اصل مقابلہ بی جے پی، ایس پی امیدوارکے درمیان تھا۔ بی ایس پی نے سابق ایم ایل اے شاہ عالم عرف گڈو جمالی کو میدان میں اتار کر مقابلے کو سہ رخی بنا دیا تھا۔ جمالی کے میدان میں آنے سے بی جے پی اندر خانے مسلم ووٹوں میں تقسیم پر کافی خوش تھی۔ آج آئے نتائج میں بی جےپی امیدوار دنیش لال یادو عرف نرہوا کو 312432 ووٹ ملے تو وہیں ایس پی امیدوار دھرمیندر یادو 303837 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے جبکہ بی ایس پی کے گڈوجمالی کو 266106ووٹ ملے او ر انہیں تیسرے نمبر پر ہی اکتفا کرنا پڑا۔

وہیں رامپور سے کل 6امیدوار انتخابی میدان میں تھے اور اصل مقابلہ بی جے پی کے گھنشیام سنگھ لودھی اور ایس پی کے عاصم راجا کے درمیان تھا۔ اس الیکشن میں گھنشیام سنگھ لودھی کو 367104ووٹ ملے وہیں ایس پی کے عاصم راجا نے 325056ووٹ حاصل کئے۔دونوں امیدواروں کے درمیان جیت کا مارجن 42192ووٹوں کا رہا۔اس کے علاوہ کوئی بھی امیدوار اپنی ضمانت نہیں بچا سکا۔

قابل ذکر ہے کہ 23جون کو ڈالے گئے ووٹ میں اعظم گڑھ میں 46.84فیصدی امیدواروں نے اپنی حق رائے دہی کا استعمال کیا تھا جبکہ رامپور میں ووٹنگ کا فیصد41.01فیصدی تھا۔ووٹنگ کے دن ایس پی کے سینئر رہنما اعظم خان نے حکمراں جماعت پر انتظامیہ کا غلط استعمال کرتے ہوئے ایس پی کارکنوں و اس کے حامی ووٹروں کو ووٹ نہ ڈالنے دینے اور ان کے ساتھ مار پیٹ کر انہیں ڈرانے دھمکانے کا الزام لگایا تھا۔

سال 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں اعظم گڑھ سیٹ سے بی جے پی امیدوار دنیش لال نرہوا کو اکھلیش کے ہاتھوں شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا تھا۔اس بار ان کا مقابلہ اکھلیش کے چچا زاد بھائی دھرمیندر یادو سے تھا۔وہیں رامپور میں سال 2019میں بی جے پی کی امیدوار جیہ پردہ تھیں لیکن اس بار بی جے پی نے گھنشیام لودھی کو اپنا امیدوار بنایا تھا۔ رامپور ایس پی کے ساتھ سینئر رہنما اعظم خان کے بھی وقار کا مسئلہ تھا۔

ان دونوں سیٹوں پر بی جے پی کی جیت کے بعد پارٹی کو رامپور میں 8سالوں بعد جیت ملی ہے۔ اس سے پہلے سال 2014 کے انتخابات میں بی جے پی امیدوار نیپال سنگھ نے جیت درج کی تھی ۔ اسی طرح سے اعظم گڑھ میں پارٹی نے 13سال بعد جیت کا پرچم لہرایا ہے اس سے پہلے سال 2009 میں پارٹی امیدوار رما کانت یادو نے جیت درج کیا تھا۔

تبصرہ کریں

Back to top button