ایشور اپا کا استعفیٰ ناکافی ، انہیں گرفتار کیاجائے : کانگریس

کانگریس نے اپنے سرکاری ٹویٹ ہینڈل پر کہا ’’کرناٹک میں بی جےپی کی 40 فیصد کمیشن والی حکومت چل رہی ہے اور وہاں بدعنوانی عروج پر ہے۔ کمیشن خور بی جےپی کے وزیر کے ایس ایشورپا کا استعفی کافی نہیں،وزیر کو گرفتار کیا جائے۔

نئی دہلی: کانگریس نے جمعہ کو کہا کہ کرناٹک میں بھارتیہ جنتاپارٹی (بی جےپی)کے پیشہ سے ٹھیکے دار ایک کارکن کی موت کےلئے ذمہ دار کمیشن خور پنچایت راج وزیر کے ایس ایوشورپا کا استعفی ہی کافی نہیں ہے اس لئے انہیں فوری طورپر گرفتار کیا جانا چاہئے۔

کانگریس نے اپنے سرکاری ٹویٹ ہینڈل پر کہا ’’کرناٹک میں بی جےپی کی 40 فیصد کمیشن والی حکومت چل رہی ہے اور وہاں بدعنوانی عروج پر ہے۔ کمیشن خور بی جےپی کے وزیر کے ایس ایشورپا کا استعفی کافی نہیں،وزیر کو گرفتار کیا جائے۔

پارٹی نے کہا،’’بی جےپی حکومت تاناشاہی پر بضد ہے ،بی جےپی کی کمیشن خوری کے خلاف مظاہرہ کرنے والے کانگریس رہنماؤں کو گرفتار کرلیتی ہے۔ لیکن بی جےپی کارکنان کی موت کے لئے ذمہ دار وزیر کو گرفتار نہیں کیا گیا۔یہ کیسا کمیشن خور راج ہے۔ بی جےپی کے وزیر کے ایس ایوشورپا کے بدعنوانی میں ملوث ہونے کو بے نقاب کرنے والے بی جےپی کارکنان کی موت کے باوجود بھی وزیر کو گرفتار نہیں کیا گیا۔کیا یہی ہے- بی جےپی کی بدعنوانی کے تئیں زیروٹالرنس ۔‘‘

واضح رہے کہ ریاست کے دیہی ترقی اور پنچایتی راج کے وزیر ایشورپا پر مبینہ طورپر کام کے بدلے میں 40 فیصد کمیشن مانگنے کا الزام بی جےپی کارکن ٹھیکے دار سنتوش پاٹل نے لگایا ہے ۔سنتوس منگل کی صبح اوڈپی کے ایک لاج میں مردہ ملا تھا اور اس نے موت سے پہلے لکھے اپنے نوٹ میں کہا تھا کہ اس کی کے ذمہ دار ایشورپا ہیں۔

ایشورپا پر اس واقعہ کے بعد استعفی دینے کا دباؤ بڑھا تو انہوں نے جمعرات کو نامہ نگاروں سے کہا،’’میں نے استعفی دینے کا فیصلہ کیا کیونکہ میں ان لوگوں کو عدم اطمینا کی حالت میں نہیں ڈالنا چاہتا،جنہوں نے مجھے اس عہدے تک پہنچانے میں مدد کی ہے۔‘‘

ذریعہ
یواین آئی

تبصرہ کریں

Back to top button