این سی پی لیڈر نواب ملک سے بمبئی ہائی کورٹ کا سوال

عدالت نے ملک کے وکیل اتل ڈاملے سے بھی دریافت کیا کہ ان کے موکل نے ان کی جانب سے اُن کے سوشیل میڈیا اکاؤنٹ پر پوسٹ کی جانے والی معلومات کی جانچ کرلی تھی۔

ممبئی: بمبئی ہائی کورٹ نے آج این سی پی لیڈر نواب ملک کو انسداد منشیات بیورو کے زونل ڈائرکٹر سمیر وانکھیڈے اور ان کے خاندان سے متعلق معلومات کی اُسے اپنے ٹوئیٹر پر پیش کرنے سے قبل جانچ کرلینے سے متعلق حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دی۔

اُس نے بتایا کہ وانکھیڈے ایک عہدیدار ہیں اور وہ جو بھی کرتے ہیں اُس عوام کے کسی بھی رکن کی جانب سے جانچ و تحقیق کی جاسکتی ہے۔

جسٹس مادھو جامدار کا سنگل جج ویکیشن بنچ سمیر وانکھیڈے کے والد دھیان دیو وانکھیڈے کی جانب سے دائر کردہ ہتک عزیت کے مقدمہ کی سماعت کررہا ہے۔

جنہوں نے 1.25 کروڑ روپے کا ہرجانہ طلب کیا ہے اور این سی پی لیڈر وانکھیڈے خاندان کے خلاف کوئی بھی جھوٹے و غیر درست بیانات دینے سے بعض رہنے کا حکم دینے کی التجا کی ہے کیونکہ ایسے بیانات سے بدنامی ہوتی ہے یا اُن کی نیک نامی متاثر ہوتی ہے۔

جج نے دھیان دیو کے وکیل ارشد شیخ سے کہا ”آپ ایک پبلک آفیسر ہیں آپ کو بس یہ ثابت کرنے کی ضرورت ہے کہ ملک کی جانب سے پوسٹ کئے جانے والے ٹوئیٹس بادیئ النظر میں غلط ہیں۔

آپ کا بیٹا صرف ایک انفرادی شخصیت نہیں ہے بلکہ ایک پبلک آفیسر ہے اور وہ جو کچھ کرتا ہے اس کے بارے میں عوام کے کسی بھی رکن کی جانب سے جائزہ لیا جاسکتا ہے“۔

تاہم عدالت نے ملک کے وکیل اتل ڈاملے سے بھی دریافت کیا کہ ان کے موکل نے ان کی جانب سے اُن کے سوشیل میڈیا اکاؤنٹ پر پوسٹ کی جانے والی معلومات کی جانچ کرلی تھی۔

”کیا آپ کا فرض یہ نہیں ہے کہ پوسٹ کرنے سے پہلے دستاویزات کی جانچ کرلی گئی۔ کیا آپ نے ایک ذمہ داری شہری اور ایک قومی جماعت کے ترجمان کے طور پر دستاویزات صحیح ہونے کے بارے میں جانچ کرلی ہے“ بنچ نے ڈاملے کو اس خصوص میں زائد حلف نامہ داخل کرنے کے لئے 12 نومبر تک وقت دیا ہے۔

ذریعہ
ایجنسیز

تبصرہ کریں

Back to top button