این ڈی اے کو اپنا نام  ‘نو ڈیٹا ایولیبل’ رکھ لینا چاہئے: چدمبرم

کانگریس کو اپنا نام تبدیل کرنے کے مشورے پر جوابی حملہ کرتے ہوئے کانگریس قائد چدمبرم نے کہا کہ حکمراں اتحاد کو بھی اپنا نام بدل کر 'نو ڈیٹا ایولیبل' (این ڈی اے) کرلینا چاہئے کیونکہ اس کے پاس کوئی ڈیٹا دستیاب نہیں ہے۔

نئی دہلی: سابق وزیر خزانہ اور کانگریس کے سینئر لیڈر پی چدمبرم نے منگل کو راجیہ سبھا میں وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے کانگریس کو اپنا نام تبدیل کرنے کے مشورے پر جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ حکمراں اتحاد کو بھی اپنا نام بدل کر ‘نو ڈیٹا ایولیبل’ (این ڈی اے) کرلینا چاہئے کیونکہ اس کے پاس کوئی ڈیٹا دستیاب نہیں ہے۔

 ایوان میں مالی سال23-2022 کے عام بجٹ پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے چدمبرم نے حکومت پر غریبوں کو بھولنے کا الزام لگایا اور خبردار کیا کہ اگر صرف امیروں پر توجہ دی جائے گی تو غریب اسے کبھی نہیں بھول سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ پوری بجٹ تقریر میں غریب اور روزگار کے الفاظ بمشکل دو تین بار استعمال ہوئے ہیں۔

 ملک میں بے روزگاری کے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ روزگار پیدا نہیں ہو رہا اور حکومت نے عوامی فلاح وبہبود کے تصور کو ہوا میں اڑا دیا ہے تو پھر یہ پیسہ کس کے لیے اکٹھا کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے، کورونا کی دوسری لہر کے دوران آکسیجن سے ہونے والی اموات، گھروں کو لوٹنے والے مزدوروں اور پانی میں تیرنے والی لاشوں کے بارے میں کوئی ڈیٹا نہیں ہے۔

اس لیے این ڈی اے کو اپنا نام بدل کر ‘نو ڈیٹا ایولیبل’ کرلینا چاہیے انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ٹکڑے ٹکڑے گینگ کا رکن کہا جاتا ہے لیکن انہیں اس کی کوئی فکر نہیں ہے لیکن جب حکومت کے وزیر سے پارلیمنٹ میں پوچھا گیا کہ اس گینگ کے اراکین کون ہیں اور کتنے ہیں تو حکومت جواب دیتی ہے۔اس کا ڈیٹا بھی نہیں ہے۔

واضح رہے کہ راجیہ سبھا میں صدر کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر بحث کا جواب دیتے ہوئے مودی نے وفاقیت پر کانگریس کی طرف سے بار بار اٹھائے گئے سوالات پر کہا کہ اگر کانگریس کو لفظ نیشن کے تصور پر اعتراض ہے تو اسے اپنا نام بدل کر ‘انڈین نیشنل کانگریس’ سے بدل کر ‘فیڈریشن آف کانگریس’ کرلینا چاہئے۔

ذریعہ
یواین آئی

تبصرہ کریں

Back to top button