ایودھیا اراضی اسکام کی تحقیقات محض ڈھکوسلہ: پرینکا گاندھی

پرینکا گاندھی نے مندر ٹرسٹ کے ارکان‘ بی جے پی قائدین کی جانب سے مندر کے لئے اراضی کی خریدی میں مبینہ کرپشن پر وزیراعظم نریندر مودی اور چیف منسٹر اترپردیش یوگی آدتیہ ناتھ کی خاموشی پر بھی سوال اٹھایا۔

نئی دہلی: کانگریس قائد پرینکا گاندھی وڈرا نے آج ایودھیا اراضی اسکام کی حکومت اترپردیش کی جانب سے تحقیقات کو ڈھکوسلہ قراردیتے ہوئے مسترد کردیا اور سپریم کورٹ سے مداخلت کرنے کی خواہش کی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی قائدین اور عہدیدار کرپشن میں ملوث ہوئے ہیں اور انہوں نے رام مندر کی تعمیر کے لئے اراضی کا عطیہ دینے والوں کے بھروسہ کو ٹھیس پہنچائی ہے۔

 انہوں نے یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کو اس معاملہ کا ازخود نوٹ لینا چاہئے کیونکہ ایودھیا میں رام مندر اسی کے حکم پر تعمیر کیا جارہا ہے۔ پرینکا گاندھی نے مندر ٹرسٹ کے ارکان‘ بی جے پی قائدین کی جانب سے مندر کے لئے اراضی کی خریدی میں مبینہ کرپشن پر وزیراعظم نریندر مودی اور چیف منسٹر اترپردیش یوگی آدتیہ ناتھ کی خاموشی پر بھی سوال اٹھایا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی قائدین نے رام مندر کے لئے ملنے والے عطیات کی لوٹ مار اور ان کے بے جا استعمال میں ملوث ہوتے ہوئے جذبات‘ بھروسہ اور مذہب کا سودا کیا ہے۔ رام مندر ٹرسٹ کی رقم کا بی جے پی‘ آر ایس ایس اور ٹرسٹ کے ارکان کو فائدہ پہنچانے بے جا استعمال کیا جارہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ دلتوں کی اراضی کو عہدیداروں اور ان کے رشتہ داروں نے ہڑپ لیا ہے اور غیرقانونی طورپر خریدا ہے۔

انہوں نے غریبوں اور عام شہریوں کی جانب سے عطیہ دی گئی ٹرسٹ کی رقم کے 30کروڑ روپے کے بے جا استعمال کا الزام بھی عائد کیا۔ انہوں نے ایودھیا میں رام مندر سے متعلق اراضی کی رجسٹرڈ معاہدہ فروخت کی تفصیلات بھی پیش کیں۔ پرینکا گاندھی نے الزام عائد کیا کہ وزیراعظم اور چیف منسٹر ان لوگوں کو بچانے کی کوشش کررہے ہیں جو رام مندرکے لئے دیئے گئے عطیات کے سرقہ میں ملوث ہوئے ہیں۔

رجسٹرڈ معاہدہ فروخت کے مطابق اراضی کی قیمت میں صرف 5منٹ میں 1300 فیصد کا اضافہ کیا گیا۔ ٹرسٹ کی رقم میں بھاری کرپشن بے حد واضح ہے۔ یہاں ہول سیل میں کرپشن ہورہا ہے۔ واضح رہے کہ ایک اخباری اطلاع میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ رام جنم بھومی۔ بابری مسجد تنازعہ پر سپریم کورٹ کا فیصلہ صادر کئے جانے کے بعد ارکان اسمبلی‘ میئرس اور کمشنر کے رشتہ دار‘ ایس ڈی ایم اور ڈی آئی جی نے اراضی خریدی تھی۔

 ریاستی حکومت نے اس معاملہ کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ پرینکا گاندھی نے کہا کہ حقیقت میں کوئی تحقیقات نہیں ہورہی ہیں کیونکہ ضلعی سطح کے عہدیدار تحقیقات کررہے ہیں جبکہ اس معاملہ میں میئر اور بی جے پی ارکان اسمبلی جیسے بڑے لوگ ملوث ہیں۔ سپریم کورٹ کی جانب سے تحقیقات کی جانی چاہئیں۔ اس سوال پر کہ آیا ضلعی عہدیداروں کی جانب سے کی جارہی تحقیقات ڈھکوسلہ ہیں‘ انہوں نے کہا کہ یقینا۔ میرا یہی خیال ہے۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button