ایڈیٹر اِنچیف سدرشن ٹی وی پر اشتعال انگیز تقریر کا الزام

ویلفیر پارٹی آف انڈیا کے صدر ڈاکٹر ایس کیو آر الیاس نے یہ درخواست داخل کی ہے۔ ان کے لڑکے اور جے این یو کے سابق طالب علم عمر خالد فی الحال دہلی فسادات سے متعلق یو اے پی اے کے ایک کیس میں عدالتی تحویل میں ہیں۔

نئی دہلی: دہلی کی ایک عدالت نے آج گووند پوری علاقہ میں منعقدہ ایک پروگروام میں فرقہ وارانہ پھوٹ ڈالنے والی تقاریر پر سدرشن ٹی وی کے ایڈیٹر اِنچیف سریش چوہنکے کے خلاف داخل کی گئی ایک درخواست پر پولیس سے عمل درآمد رپورٹ طلب کی ہے۔

ویلفیر پارٹی آف انڈیا کے صدر ڈاکٹر ایس کیو آر الیاس نے یہ درخواست داخل کی ہے۔ ان کے لڑکے اور جے این یو کے سابق طالب علم عمر خالد فی الحال دہلی فسادات سے متعلق یو اے پی اے کے ایک کیس میں عدالتی تحویل میں ہیں۔

سیشن عدالت میں عمر خالد کی درخواست ِ ضمانت کی سماعت ہورہی ہے۔ ساکیت عدالت کے میٹروپولیٹن مجسٹریٹ جتیندر پرتاپ سنگھ نے اس معاملہ کی مزید سماعت 15 مارچ تک ملتوی کردی ہے۔

اس درخواست میں گووند پوری میٹرو اسٹیشن علاقہ میں ہندو یووا واہنی کی جانب سے 19 دسمبر 2021کو منعقدہ تقریب کا ذکر کیا گیا ہے جس میں ملزم کو لوگوں کے ایک گروپ کو یہ حلف دلاتے ہوئے دیکھا گیا ہے کہ وہ ہندوستان کو ہندو راشٹر بنانے کے لئے مارنے اور مرنے تیار رہیں گے۔

اس درخواست میں فرقہ وارانہ‘ انتشارپسند اور نفرت انگیز تقاریر کے سلسلہ میں چوہنکے کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے جبکہ ملزم کو اس بات کا علم تھا کہ ایسے اشتعال انگیز تبصروں سے مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان کشیدگی میں شدت پیدا ہوگی اور تشدد بھڑکے گا۔ درخواست میں کہا گیا کہ چوہنکے کا بیان اقلیتوں کے خلاف طاقت اور تشدد کے استعمال کی واضح دھمکی ہے تاکہ ہندوستان کو ہندو راشٹر بنایا جاسکے۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ اس تقریب کے فوری بعد چوہنکے کو ایک ہندی ہیاش ٹیاگ ”ایک ہی سپنا ہندو راشٹر‘ اپنے ٹویٹر ہینڈل سے مقبول بناتے ہوئے دیکھا گیا۔

درخواست میں کہا گیا کہ ملزم کے ایسے ٹویٹس اِس ملک کے دستورکے بنیادی اقدار جیسے سیکولرازم‘ مساوات اور بھائی چارہ پر راست حملہ ہیں اور ان کا مقصد مذہب کے نام پر دشمنی پیدا کرنا ہے۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ موجودہ کیس میں کوئی ابتدائی تحقیقات کی ضرورت نہیں کیونکہ اشتعال انگیز‘ فرقہ وارانہ اور نفرت بھڑکانے والی تقاریر ملزمین نے جلسہ عام میں کی ہیں جس کے ویڈیوزعوام کے لئے دستیاب ہیں۔

درخواست میں مزید کہا گیا کہ چوہنکے کو اشتعال انگیز بیانات کے لئے ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے اس کے خلاف کارروائی ضروری ہے تاکہ تشدد کے کسی بھی واقعہ کو روکا جاسکے۔

ذریعہ
منصف ویب ڈیسک

تبصرہ کریں

Back to top button