ایک اور مسجد کو مندر بنانے کی ناپاک سازش

ڈاکٹر سید اسلام الدین مجاہد

بابری مسجد کی 1992میں دہشت گردوں کے ہاتھوں شہادت کے بعد 2022کے آ تے آ تے ایک اور مسجد کو ڈھانے کے منصوبے کے ساتھ بعض دہشت گرد پھر سے منظر عام پر آ گئے ہیں۔ ہندوستان کے تاریخی شہر وارانسی کی گیان واپی مسجد پر ان شرپسند عناصر نے اپنا نشانہ ایسا لگایا کہ گزشتہ ایک ہفتہ سے سارے ملک کی توجہ اس جانب مرکوز ہو گئی ہے۔ اب معاملہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت تک پہنچ چکا ہے۔بابری مسجد کو ڈھانے کے لیے جو من گھڑت کہانی سنگھ پریوار نے گھڑی تھی وہی کہانی اب گیان واپی مسجد کو ہتھیانے کے لیے دہرائی جا رہی ہے۔ صرف مقام اور وقت بدلا ہے، ڈرامہ کے کردار وہی ہیں۔ بابری مسجد کے تعلق سے بھی ہندوتوا طاقتوں نے رام کے اچانک پرکٹ ہونے کا دعویٰ کیا تھا، گیانی واپی مسجد میں بھی شیو لنگ یکایک نمودار ہو گئے ۔اکیسویں صدی کے اس دور میں جب کہ علوم و فنون اپنی انتہا پر پہنچ چکے ہیں اور انسانی عقل کسی واہمہ کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے وہاں عقل و خرد سے محروم طبقے انسانی سماج میں اضطراب اور بے چینی کو بڑھاوا دینے کے لیے اس قسم کی حرکتیں کر نے لگتے ہیں کہ اس سے معاشرتی زندگی میں نفرت اور عناد کا وہ ماحول بننے لگتا ہے کہ امن و یکجہتی کی باتیں محض ایک خواب بن کررہ جا تی ہیں۔ جس مسجد میں مسلمان گزشتہ چار صدیوں سے زیادہ عرصہ سے نماز پڑھتے آرہے ہیں، اب اچانک شر پسندوں کی جانب سے یہ ادعا سامنے آنا کہ یہ مسجد ،کاشی وشواناتھ مندر کو توڑ کر بنائی گئی ہے ، ایک ایسی شرانگیزی ہے جس سے ملک میں فرقہ وارانہ تصادم کے خدشے بڑھتے جا رہے ہیں۔ یہ ملک دشمن اور سماج دشمن طاقتیں مسلمانوں کی عبادت گاہوں کو نشانہ اسی لیے بنا رہی ہیں کہ ملک میں بھائی چارہ کا ماحول ختم ہو جائے اور اکثریت و اقلیتوں کے درمیان ہمیشہ لڑائی جھگڑے ہوتے رہیں تا کہ اس کے ذریعہ ان کے حقیر مفادات کی تکمیل ہو سکے۔ گیان واپی مسجد کا تنازعہ جس انداز میں اہل ملک کے سامنے آیا اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ فسطائی طاقتوں نے کس منظم طریقہ سے اس قضیہ کو بہت ہی مختصر وقت میں ملک کے ایک اہم مسئلہ کی حیثیت سے منظر عام پر لایا۔ بڑے ہی ڈرامائی انداز میں گیان واپی مسجد کا سروے کیا جاتا ہے، ایڈوکیٹ کمشنرس کی موجودگی میں اس کی ویڈیوگرافی ہوتی ہے اور پھر یہ دعویٰ ٹھونک دیا جاتا ہے کہ مسجد کے وضو خانہ کے حوض میں ” شیو لنگ "پایا گیا۔ طرفہ تماشا یہ کہ اس گمراہ کن دعویٰ کی تحقیق کئے بغیر مقامی عدالت یہ حکم صادر کرتی ہے کہ جہاں نام نہاد شیولنگ پایا گیا اس مقام کو سیل (Seal) کر دیا جا ئے۔ وہاں کسی کو جانے کی اجازت نہ دی جائے۔ یہ یکطرفہ حکم ، انصاف کے سارے تقاضوں کی نفی کر تا ہے۔ عدالت کا کام سارے فریقوں کی بات کو سن کر فیصلہ دینا ہوتا ہے۔ اس مخصوص قضیہ میں مقامی عدالت نے مسلم فریق کی کسی بات کو سنے بغیر یہ فیصلہ دے دیا ۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سب کام ایک منصوبہ کے تحت کیا گیا۔ مسجد کی انتظامی کمیٹی اور مسلم وکلاءکا دعویٰ ہے کہ ہندو فریق جس کو شیو لنگ کہہ رہے ہیں ، وہ شیو لنگ نہیں بلکہ فوارہ ہے۔ اس کی تصدیق گیان واپی مسجد کے قرب و جوار میں رہنے والے ہندوو¿ں نے بھی کی ہے، لیکن مقامی عدالت پر شاید اوپر سے کوئی دباو¿ تھا کہ اس نے بہت زیادہ جلد بازی سے کام لیتے ہوئے انصاف کا قتل کر دیا۔ مسلمانوں کو وضو کے لیے اس مقام پر جانے سے روک دینا ایک لحاظ سے مسلمانوں کے ساتھ کھلی ناانصافی ہے ، سپریم کورٹ نے اس ناانصافی پر مرہم ضرور رکھا ہے لیکن پورے درد کا مداوا نہیں کیا ۔
گیان واپی مسجد کا تنازعہ اب سپریم کورٹ پہنچ چکا ہے۔ جسٹس ڈی وائی چندرا چوڑ اور جسٹس ٹی ایس نرسمہا پر مشتمل بنچ نے منگل کے روز (17مئی 2022) گیان واپی مسجد کمیٹی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے اپنی رولنگ دی کہ مسلمان کسی رکاوٹ کے بغیر اس مسجد میں نماز ادا کرسکتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ سپریم کورٹ کی بنچ نے گیان واپی مسجد میں شیو لنگ کے مقام کے تحفظ کا بھی حکم دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے وارانسی کے سیول جج کی عدالت کی کارروائی پر بھی کوئی حکم التواءجا ری کر نے سے انکار کردیا۔ اس سے اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ اب بابری مسجد کی طرح بر سوں تک یہ مقدمہ عدالتوں میں چلتا رہے گا اور حالات کو اس حد تک دھماکو کر دیا جائے گا کہ مسلمان خدانخواستہ ایک اور مسجد کو شہید ہوتے ہوئے دیکھنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ سپریم کورٹ نے جو احکام جاری کئے ہیں وہ عبوری نوعیت کے ہیں ۔ سپریم کورٹ میں اگلی سماعت 20 مئی کوہو نے والی ہے، لیکن اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ سپریم کورٹ یا سیول جج کی عدالت فوری کوئی قطعی فیصلہ دے سکے گی۔ یوں بھی ہندوستان کا عدالتی نظام بڑا پیچیدہ ہے۔ عا م مقدمات کے فیصلے آنے میں بر سوں لگ جاتے ہیں۔
گز شتہ دنوں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس این ، وی، رمنا نے سری نگر میں ہائی کورٹ کی نئی عمارت کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے زور دے کر یہ کہاکہ تنازعات کی جلد یکسوئی صحتمند جمہوریت کی نشانی ہے۔ انہوں نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ امن اسی وقت بر قرار رہتا ہے جب عوام کا وقار اور ان کے حقوق کو تسلیم کیا جائے اور ان کا تحفظ کیا جائے۔ ہماری عدالتیں ملک کی سب سے بڑی عدالت کے سربراہ کی ان حکیمانہ باتوں پر کتنا دھیان دیتی ہیں، اس کا اندازہ گیان واپی مسجد کے معاملے میں سیول جج کی جانب سے دیے جانے والے فیصلہ سے ظاہر ہوتا ہے۔ سپریم کورٹ سے اس بات کی توقع تھی کہ وہ مقامی عدالت کے فیصلہ پر روک لگادیتی، کیوں کہ یہ فیصلہ مسلم فریق کے دعویٰ کی سماعت کیے بغیر دیا گیا۔ ہندو فریق نے مسجد کے وضو خانہ کے حوض میں شیو لنگ کے ہونے کا دعوی بغیر کسی ثبوت کے کر دیا اور اسے عدالت نے تسلیم بھی کرلیا اور نافذ بھی کردیا۔ یہ فطری انصاف کے منافی بات ہے کہ جس نے دعویٰ کیا اس کی بات سن لی جائے اور جو اس دعویٰ کے خلاف اپنے پاس دلائل و شواہد رکھتا ہے، اسے اس بات کا موقع تک نہ دیاجائے کہ وہ عدالت میں اپنا مدعا پیش کر سکے۔ یہ بھی بڑی عجیب بات ہے کہ مسجد کے وضو خانہ میں اچانک نمودار ہونے والے شیولنگ کی اطلاع ملک کے سارے میڈیا کو فوری مل جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی گودی میڈیا جنگل کی آگ کی طرح اس خبر کو پھیلادیتا ہے۔ اس سے سارے ملک میں تناو¿ اور بڑھ جاتا ہے۔ چنانچہ اس بات کے اندیشے پیدا ہو گئے ہیں کہ اب ملک میں فرقہ وارانہ فسادات کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوجائے گا۔ قارئین کو یاد ہو گا کہ 1990کے دہے میں بابری مسجد۔ رام جنم بھومی تنازعہ کے آغاز کے ساتھ ہی ملک میں قتل و خون کا بازار گرم ہو گیا۔ مودی جی کے سرپرست اڈوانی جی نے اپنی رتھ یاترا کے ذریعہ پور ے ملک کو فرقہ پرستی کی جس آگ میں جھونک دیا تھا، وہ منظر آج بھی ایک بھیانک خواب کی طرح عوام کو یاد ہے۔ اسی طرح کا خوفناک ماحول پھر سے ملک میں پیدا کرنے کی سوچی سمجھی اسکیم کے تحت وارانسی کی گیان واپی مسجد کے مسئلہ کو ہندو جنونیوں نے چھیڑا ہے۔اگر کوئی یہ سمجھ رہا ہے کہ یہ وقتی مسئلہ ہے جسے ہندو اور مسلمان مل کر حل کرلیں گے تو یہ خیال محض دن میں خواب دیکھنے کے مترادف ہے۔ اب دہلی کی جامع مسجد کے تعلق سے بھی یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ اس کے نیچے بھی ہندو دیوی دیوتاو¿ں کی مورتیاں ہیں۔ کیا یہاں بھی عدالت سروے اور ویڈیو گرافی کا حکم دے گی؟
اب صرف وارانسی کی گیان واپی مسجد یا دہلی کی جامع مسجد پر ہی فرقہ پرستوں کی نظریں نہیں ہیں بلکہ اب تاج محل اور قطب مینار کے ساتھ اور کئی مسجدوں ، عید گاہوں اور خانقاہوں پر ان کی نظریں ٹکی ہوئی ہیں۔ سری رنگا پٹنم کی ٹیپو سلطان کی مسجد بھی اب ان کو مندر نظر آنے لگی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس فہرست میں اور اضافہ ہی ہوتا جائے گا۔ جب کہ بہت پہلے ملک کی پارلیمنٹ میں یہ قانون منظور کرلیا گیا کہ ملک کی آزادی کے وقت بابری مسجد کو چھوڑ کر باقی تمام مذہبی مقامات کی وہی حیثیت رہے گی جو ہندوستان کی آزادی کے وقت تھی۔ پارلیمنٹ میں 1991 میں یہ قانون منظور ہوا تھا۔ پارلیمنٹ کے منظور کردہ اس قانون کی اب دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ بابری مسجد کا فیصلہ سناتے وقت بھی فاضل جج صا حبان نے اس قانون کا حوالہ دیتے ہوئے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ اب کسی عبادت گاہ کی ہیت کو بدلنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ انصاف کا تقاضا تھا کہ جب گیان واپی مسجد کا مسئلہ عدالت کے سامنے آیا ، اسی وقت مقامی عدالت سروے کرنے کے مطالبہ کو مسترد کردیتی تو آج ملک میں یہ بھونچال پیدا نہ ہوتا۔ پانچ ہندو خواتین اس دعوی کے ساتھ مقامی عدالت سے رجوع ہوتی ہیں کہ انہیں گیان واپی مسجد کے احاطہ میں موجود مبینہ شرنگاری گوری کی پوجا کی اجازت دی جائے۔ عدالت کا کام تھا کہ پہلے مرحلہ پر ہی ان کی درخواست کو 1991کے قانون کی روشنی میں خارج کر دیا جا تا۔ بجائے اس کے عدالت آثار قدیمہ کے محکمہ کو گیان واپی مسجد کے سروے کا حکم دیتی ہے ۔ اس کے لیے ایڈوکیٹ کمشنرس کا تقرر ہوتا ہے۔ اور پھر سروے کی ویڈیو گرافی کرکے یہ باور کرادیا جاتا ہے کہ مسجد کے وضو خانہ کے حوض پر شیولنگ پایا گیا۔ یہ ایسا جھوٹ ہے کہ کوئی صاحب سمجھ انسان یقین نہیں کر سکتا۔ لیکن ماحول کو گرمانا تھا، اس لیے یہ ساری ڈرامہ بازی کی گئی۔ جب کسی بھی عبادت گاہ کو ہندو فاشسٹ طاقتیں مندر میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کر چکی ہیں تو پھر پارلیمنٹ میں یہ قانون کیوں منظور کیا گیا کہ 15 اگست 1947 کو جس عبادت گاہ کی جو شکل تھی، اسے اس نئے قانون کی رو سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عدالت کی نیت بھی ٹھیک نہیں ہے۔ مقامی عدالت کا مشکوک کردار بہت واضح ہو کر سامنے آ گیا ہے۔ سپریم کورٹ سے وقتی طور پر مسلمانوں کو کچھ راحت ملی ہے، لیکن یہ بات یقین سے نہیں کہی جا سکتی ہے کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت پوری غیر جابنداری کے ساتھ انصاف کے سارے تقاضوں کی تکمیل کرتے ہوئے اپنا آخری فیصلہ دے گی۔ بابری مسجد ۔ رام جنم بھومی تنازعہ میں سپریم کورٹ نے مسلمانوں کی جانب سے پیش کئے گئے سارے دلائل و شواہد کو قبول کرتے ہوئے ان کے حق میں فیصلہ نہیں دیا۔ آ ستھا کو بنیاد بناکر ان کے حق کو چھین لیا گیا۔ اسی طرح کا معاملہ گیان واپی مسجد کے تعلق سے بھی اپنایا جا سکتا ہے۔ جن گوشوں سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ بابری مسجد کا معاملہ جداگانہ حیثیت کا تھا، لیکن اب ایک قانون کے ہوتے ہوئے عدالت مسلمانوں کو ان کے حق سے محروم نہیں کر سکتی۔ لیکن کیا یہ بی جے پی حکومت کے لیے ممکن نہیں کہ کانگریس کے دور میں منظور ہوئے قانون کو رد کرتے ہوئے کوئی دوسرا قانون لادے۔ اس وقت بی جے پی کو پارلیمنٹ میں بھر پور اکثریت حاصل ہے ۔ وہ اپنی عددی طاقت کا مظاہرہ کر تے ہوئے یہ کام کر سکتی ہے۔ اس لیے کہ جب ظالم کی نیت بدل جا تی ہے تو اس سے کسی خیر کی امید رکھنا اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے برابر ہے۔ قانون میں ترمیم کرنا ان کے لیے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ اس لیے 1991کے قانون پر تکیہ کرنے سے ہم نہ گیان واپی مسجد کو شرپسندوں سے بچاسکیں گے اور نہ دیگر مساجد اور اسلامی شعائر کی حفاظت ممکن ہو سکے گی۔ اس کے لئے ٹھوس اور منظم جدو جہد کی ضرورت ہے ۔ اس کے بغیر دشمن کے عزائم کو ناکام کرنا بہت ہی دشوار ہے۔
٭٭٭

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button