ایک سے زیادہ شادی-ایک جائزہ

تعددازدواج کی حیثیت مسلم معاشرہ میں ایک سخت ضرورت سے زیادہ کچھ نہیں ہے، یعنی ایک مسلمان دوسری شادی اسی وقت کرتاہےجب پہلی بیوی سےاس کی صنفی ضرورت پوری نہ ہوپاتی ہو،کیوں کہ اس کی بیوی یاتوایسے مرض میں مبتلاہے جس کاعلاج ناممکن ہے،یاوہ اس عمرکوپارچکی ہے جس میں عورت اپنے شوہر کو مکمل طورپر مطمئن نہیں کرپاتی ہے۔

قاضی محمد فیاض عالم قاسمی
دارالقضاء ناگپاڑہ ممبئی۔فون 8080697348

تعددازدواج یعنی ایک سے زیادہ بیوی رکھنابھی ان مسائل میں سے ایک ہے جن کو ہمارامیڈیا،حکومت اور برادران وطن مسلمانوں کی شبیہ کوبگاڑنے کے لئے پیش کرتے ہیں، اوریوں تاثردیاجاتاہے کہ ہرمسلمان چار چارشادیاں کرتاہےاورصبح اپنے بسترسے اٹھ کرپہلی فرصت میں اپنی کسی بیوی کوتین طلاق دے دیتا ہے، اور شام میں حلالہ کرواکرپھراس سے شادی کرلیتاہے۔

اس لیے پہلے طلاق ثلاثہ کے مسئلہ کوکورٹ کے ذریعہ حل کرانے کی کوشش کی گئی اوراب تعددازدواج اورحلالہ کے مسئلہ کو حل کرنے کےلئےکورٹ میں درخواست داخل گئی ہے۔تاکہ زر خرید میڈیا،نام نہاد دانشوران قوم،اورحکومت کوایک عرصہ تک اس موضوع پربیان بازی ،الزام تراشی، ڈیبیٹ اور مگرمچھ کے آنسوبہانے کاموقعہ مل جائے۔اوراس دوران ملک کے حقیقی مسائل سے لوگوں کی توجہ دوسری غیرضروری چیزوں کی طرف مرکوزرہے۔اس لیے اس مسئلہ پر تحقیق کرنے کی ضرورت ہے کہ تعددازدواج کی حیثیت مسلم معاشرہ میں کیاہے؟

تعددازدواج کی حیثیت مسلم معاشرہ میں ایک سخت ضرورت سے زیادہ کچھ نہیں ہے، یعنی ایک مسلمان دوسری شادی اسی وقت کرتاہےجب پہلی بیوی سےاس کی صنفی ضرورت پوری نہ ہوپاتی ہو،کیوں کہ اس کی بیوی یاتوایسے مرض میں مبتلاہے جس کاعلاج ناممکن ہے،یاوہ اس عمرکوپارچکی ہے جس میں عورت اپنے شوہر کو مکمل طورپر مطمئن نہیں کرپاتی ہے۔

یاپھراس کی بیوی نافرمان بن کراپنے میکہ میں بیٹھ گئی ہو،یاکہیں بے وفائی کرکےبھاگ گئی ہویاپھر ہٹ دھرمی کرکےاپنے شوہرکی ضرورت پوری نہیں کرتی ہو۔اس کے علاوہ شاید وباید ہی کوئی مرد دوسری شادی کرنےکے لیےسوچتاہوگا۔مسلم معاشرہ میں ایسے مرد کاخاندان بھی اس کو اچھی نظرسے نہیں دیکھتاہے۔

پہلی بیوی اوران کے گھروالوں کی طرف سے طعن وتشنیع، قدم قدم پربے جامطالبات،بے بنیاد الزامات لگاکرکورٹ کچہری کے چکرلگوانے کی دھمکی وغیرہ نیزشریعت کی طرف سےبھی ایسے قیود اور شرائط متعین ہیں جن کی وجہ سے ایک مسلمان ضرورت کے وقت بھی دوسری شادی کرنے کے لیے ایک بار نہیں ہزاربار سوچتا ہے۔ یہی وجہ سے کہ ہندوستان میں ایک سے زیادہ شادی کرنے کا تناسب سب سے کم مسلمانوں کے اندرہے۔ چنانچہ اس سلسلے میں جوسروے منظرعام پرآئی ہےاس کو یہاں درج کیاجاتاہے:

۱۹۶۱-۱۹۵۱ء کی سروے رپورٹ کے مطابق مسلمانوں میں۳۱.۴فیصد اورہندوؤں میں ۶٠.۵ فیصد، جب کہ قبائلیوں میں جن کاشمارایک طرح سے ہندوؤں میں ہوتاہے، تعددازدواج کی شرح۹۸.۱۷فیصد رہے۔ سمنتابنرجی کی ۱۹۶۱ءکی سروے رپورٹ کے مطابق مسلمانوں میں تعددازدواج کی شرح۳۱.۴، ہندوؤں میں ۶۰.۵اورقبائلیوں میں ۲۵.۱۵فیصد ہے۔ (ہندوستانی معاشرہ میں تعددازدواج :۲۲۸،ازڈاکٹر شائسہ پروین صاحبہ )

۱۹۶۹ء میںThe Indian Statistical Institute کے ایک محقق نےسروے کیااوررپورٹ دی جوہندوستان ٹائمس میں شائع ہوئی تھی،اس کااقتباس ملاحظہ ہو:

ایک غیرمسلم اسکالرکے ذریعہ کئے گئے سروے کے مطابق غیرمسلموں میں کثرت ازواج کی شرح۲.۷ فیصد ہے حالاں کہ غیرمسلموں میں قانونی اعتبارسے دوسری شادی کی اجازت نہیں ہے،مسلمانوں میں یہ شرح صرف دوفیصد ہے،جب کہ مسلمانوں کو قانونی اعتبارسے دوسری شادی کرنے کی اجازت ہے۔رپورٹ سے یہ بھی ظاہر ہے کہ عامۃ مسلمان دوسری شادی کے لیے عمردرازبیواؤں کاانتخاب کرتے ہیں ، جب کہ ہندو اکثرو بیشترجہیز کے حصول کے لیے نوجوان عورتوں سےدوسری شادی کرتے ہیں۔

۱۹۷٠میں ایک دوسرے مشہورومعروف روزنامہ The South نے یہ رپورٹ کی شائع کی تھی:

بلاشک وشبہ یہ امر حق ہے کہ کثرت ازواج کے واقعات ہندوستانی مسلمانوں میں دوسروں سے کم ہیں۔

پاک راسی کاخیال ہے کہ مسلمان دوسری شادی میں عام طورپرسن رسیدہ عورتوں کوترجیح دیتے ہیں،جب کہ ہندوزیادہ ترجوان عورتوں کو(ہندوستانی معاشرہ میں تعددازدواج :۲۳۱،ازڈاکٹرشائسہ پروین صاحبہ )

یاد رہے کہ ہندوستان ہندومیرج ایکٹ۱۹۵۵ء کےمطابق شادی شدہ ہندومرد کو دوسری شادی کرنے کی اجازت نہیں۔یعنی اگر کوئی ہندودوسری شادی کرتاہے تو یہ غیرقانونی ہے،اس کے خلاف مقدمہ درج ہوسکتاہے، اورآئی، پی، سی،کی دفعہ ۴۹۴اور۴۹۵ کے تحت کارروائی ہوگی۔اورسات یادس سال تک کی سزا اورہوسکتی ہےاور جرمانہ بھی لگ سکتاہے۔اس کے باوجود ہندؤں میں دوسری یاتیسری شادی رواج بھی ہے اوراس کاتناسب بھی زیادہ ہے،جب کہ مسلمانوں کوقانونی اعتبارسے ایک سے زیادہ بیوی چارتک رکھنے کی اجازت ہے اس کے باجود مسلمانوں میں اس کاتناسب بہت کم ہے۔

پھر بھی مسلمانوں کے ساتھ لعن طعن کرناان پر بھی پابندی لگانے کی کوشش کرناکہاں تک رواہے؟اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ غیرمسلموں میں جوتعددازدواج کاغیرقانونی رواج ہے اس کو ختم کیاجائے،کیوں کہ یہ ان کے معاشرہ اورخود قانون کے خلاف ہے۔جہاں تک رہی بات مسلمانوں میں تعددازدواج کے ختم کرنے کی، تویہ مشکل ہی نہیں ،ناممکن ہے۔

کیوں کہ اس کاتعلق سے فطرت انسان سے ہے۔انسان کی فطری خواہش کو روکنے کی کوشش کی گئی تو یقینی طورپرغیرفطری راہیں ہموارہوں گی، قانونی جواز کو بندکیاجائے تویقینی طورپرغیرقانونی راستے کھلیں گے۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ مسلمانوں کاتعلق ان کے مذہب سے جس قدرمضبوط ہے شایدہی دنیامیں کوئی ایسی قوم ہو،مسلمان اپنے جان مال کی بازی لگادے گا،مگرشریعت کے کسی حکم سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹ سکتاہے، اورنہ ہی اسے کوئی ہٹاسکتاہے۔تعددازدواج کی گنجائش خود قرآن کریم میں ہے۔(سورۃ نساء:۳)

پس جب قرآن کریم میں یہ مذکورہے اورقرآن کریم مسلمانوں کے لئے نہایت عظیم اورمقدس کتاب ہے، جو خالق کائنات کی طرف سے اتاری گئی ہے،جس کاہرحکم فطرت انسانی سے ہم آہنگ ہے۔اس لیے مسلمان اس معاملہ میں کسی بھی طرح کاسمجھوتہ نہیں کرسکتے ہیں، یعنی وہ دوسری یاتیسری شادی کرے یانہیں یہ الگ بات ہے، مگراس پر روک لگائی جائے، اس کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیاجاسکتاہے۔

٭٭٭

تبصرہ کریں

Back to top button