ایک گدھے کا خطبہ صدارت

محمد اسد اللہ

خواتین و حضرات
میں اس جنگل کے تمام جانوروں کا دل کی گہرائی سے شکریہ ادا کرتا ہوں جنھوں نے مجھے جنگل کابادشاہ بناکر جنگل راج کی جڑیں اکھاڑ پھینکیں ۔ آ ج ان کے تعاون سے اس گدھا راج کے سنہرے دور کا آغاز ہو نے جا رہا ہے ۔ آ ج اس جشنِ تاج پوشی کے موقع پر صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے مجھے جو خوشی ہورہی ہے، اسے زمین پر لوٹیں لگا کر بھی بیان نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ جنھوں نے مجھے ووٹ نہیں دیا، میں ان کا بھی پیشگی شکریہ ادا کرتا ہوں کہ اب وہ میرا ساتھ دے کر اپنی غلطی درست کر لیں گے۔ اس کے سوا اوروہ کر بھی کیا سکتے ہیں ۔
جنگل کے راجہ شیر کا تختہ پلٹ کر آ پ نے صدیوں سے چلی آ رہی ظلم و ستم کی حکمرانی کو ختم کر دیا۔ حکومت کے لیے ظلم و زبر دستی کی نہیں، محبت کی ضرورت ہے ۔محبت وہ طاقت ہے جس کی حکومت دلوں پر پر چلتی ہے ۔صدیوں پہلے نہ جانے کس گدھے نے شیر جیسے خونخوار درندے کو جنگل کا راجہ بنا دیاتھا۔ ملک شیروں سے نہیں گدھوں سے چلتا ہے ۔ قانونِ فطرت بھی یہی ہے۔
جس کی لاٹھی اس کی بھینس والے قانون کو صحیح کہنے وا لے لوگ ممکن ہیں میری باتوں کو گدھے پن کی باتیں قرار دیں ، میں انھیں یہ بتا نا چاہتا ہوں کہ اب زمانہ بدل گیا ہے ۔اب انجکشن دے دے کر بھینسوں کو دودھ دینے پرآ مادہ کیا جا سکتا ہے اور یہ الیکشن بھی نئی ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے یعنی انجکشن دے دے کرہی جیتا ہے ۔
دوستو! حقیقت یہ ہے کہ ملک گدھو ں سے چلتا ہے، شیروں سے نہیں ۔یہی فطرت کا قانون ہے ۔اسی لیے آ پ دیکھ رہے ہیں کہ جنگل میں شیروں کی تعداد دن بہ دن کم ہوتی جا رہی ہے اور گدھے دن دونی رات چوگنی ترقی کر رہے ہیں۔کسی بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت اس کا مین پاور ہے۔گدھا اسی مین پاور کی علامت ہے ۔ جو آدمی بے تحاشا کام کر تا ہے بلکہ بے سوچے سمجھے کام کیے چلاجاتا ہے اسے عرف ِ عام میں گدھا کہا جاتا ہے ۔( اگرچہ کہا نہ جائے تب بھی سمجھا ضرور جاتا ہے ۔ اس شخص کی تعریف بھی کی جاتی ہے مگر اس کا مقصد یہی ہوتا ہے کی مدح سرائی کر نے والا بخوبی جانتا ہے کہ اس سے کام نکالنے کا یہی بہتریں طریقہ ہے ۔)
آپ دیکھ رہے ہیں کہ کہ تاج پوشی کے اس خاص موقع پر میں نے شیر کی پوستین زیب ِ تن کر رکھی ہے ۔میرے ظاہر پر مت جائیے یہ اہتمام صرف رعب و دبدبہ قائم رکھنے کے لیے کیا گیا ہے کیوں کہ برسوں کے اس جنگل راج نے گدھوں کا سماجی مرتبہ اس قدر گرا کر رکھ دیا ہے کہ کوئی ان کو خاطر میں نہیںلاتا۔ہمیںگدھوں کی اس گرتی ہوئی ساکھ کو اٹھانا ہے ۔ آ پ میرے سراپے سے دھوکہ نہ کھائیں ،اندر سے میں بالکل گدھا ہوں آ پ ہی کی طرح۔ اسی لیے تو آ پ نے بڑی محبت سے میرے انتخابی نشان” انگوٹھے“ پر مہر لگا کر مجھے اکثریتی ووٹوں سے منتخب کیا ہے ۔
میں آج آ پ کو یہ بتا نا چاہتا ہوں کہ ملک کی ترقی ہم گدھوں ہی کی مر ہونِ منت ہے ۔اب شیروں کی تعداد میں کمی کر کے قدرت نے یہ اشارہ دے دیا ہے کہ اب اس سفاک درندے کی دنیا کو مزید ضرورت نہیں ہے ۔آ خرہم کس مرض کی دوا ہیں ۔
اس کا کام سنبھالنے کے لیے بے شمار انسان موجود ہیں ۔
دوستو! یہ افسوس کا مقام ہے کہ ہم پر دھوبی صدیوں سے ظلم کرتے آ رہے ہیں ۔یہ کہاں کاانصاف ہے کہ وہ سارے گدھوں کو ایک ہی ڈنڈے سے ہانکتا جائے ۔ہماری حکومت آ گئی ہے اب ہم سب کے لیے الگ الگ ڈنڈوں کاا نتظام کریں گے، انتظام بھی کریں گے اور استعمال بھی کریں گے ۔
ہمارے بارے میں نہ جانے کتنے محاورے اور قصے کہانیاں سماج میں مستعمل ہیں جن سے گدھوں کا سماجی مرتبہ صدیوں سے لگاتار گر تا جا رہاہے ۔ اب ہم اس پر ایک کمیشن بٹھا کر انکوائری کر وائیں گے اور زبان ادب اور سماج سے ایسی تمام حکایتوں کو ہٹائیں گے جن سے ہماری بدنامی ہوتی ہے یا ہمیں بے وقوف ثابت کیا جاتاہے ۔ دوستو! آ پ جانتے ہیں علم بڑی دولت ہے ۔علم کے بغیر کوئی ترقی نہیں کر سکتا چاہے وہ کتنا بھی بڑا گدھا کیوں نہ ہو۔آ پ نے ہمارے بارے میں مشہور ایک لطیفہ ضرور سنا ہوگا کہ ایک شخص اپنے گھوڑے پر سوار کہیں جارہا تھا۔اس کی نظر ایک دکان پر پڑی جہاں سو سو دو دوسو روپئے میں ڈگریاں فروخت ہو رہی تھیں ۔اس شخص نے اپنے لیے ایک ڈگری خرید لی پھر اسے خیال آ یا کہ ایک ڈگری اپنے گھوڑے کے لیے بھی لے لے تو کیا برا ہے۔جب اس نے گھوڑے کے لیے ڈگری کا مطالبہ کیاتو اس بدتمیز دکاندار نے کہا کہ ڈگریاں صرف گدھوں کو ملتی ہیں گھوڑوں کو نہیں۔ ہم اس دکاندار کا شکریہ اد اکرتے ہیں اور جلد ہی ا سے سرکاری اعزاز سے نوازیں گے ۔ اب ہم جگہ جگہ ڈگریوں کی دکانیں کھولیں گے ، اس قسم کی دکانیںتو خیر اب بھی بے شمار پائی جاتی ہیں مگر ہم خاص طور پر ایسے مراکز قائم کریں گے جہاں چن چن کر گدھوں کو زیور ِ علم سے آ راستہ کیا جائے تاکہ مشہور شاعر سعدی کا وہ مشہور خواب پورا ہو سکے جس کے شعر میں یہ خیال ظاہر کیا گیا ہے کہ
طوقِ زریں در گردنِ خر می بینم

تبصرہ کریں

Back to top button