بات ’’ناک‘‘ کی …

حمید عادل

شیر خوار بچے کے رونے کی رنگ ٹون بجی تو ہم نے اپناسل فون ہاتھوں ہاتھ لیا اور’’ ہیلو‘‘ کہا اور پھر جو کچھ دوسری جانب سے ہم نے سنا ،اسے سن کر ہماری ناک چکرانے …معاف کیجیے ہمارا سر چکرانے لگا۔ کال کاہم پرکچھ ایسا اثر ہوا کہ ہم لرزنے اور تھرتھرانے لگے تھے۔ ہماری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کریں اور کیا نہ کریں…
اب آپ یقینا سوچ رہے ہوں گے کہ آخر وہ فون کس کا تھا ؟جسے سن کر ہم جیسے مرد مجاہد پر لرزا طاری ہوگیا تھا …تو سن لیجیے ہماری وہ ناک جس پر ہمیں فخر تھا ،ہماری جان کی دشمن بن چکی تھی! اب آپ سے کیا چھپانا ،جو فون ہم نے ریسیو کیا ، وہ مشکوک حیدرآبادی کا تھا اور انہوں نے ہمیں نہایت چونکا دینے والی اطلاع دی تھی ۔ دراصل چند دن قبل ہمارے محلے میں چوری ہوئی تھی، اس چوری کے سلسلے میں تازہ خبر یہ تھی کہ پولیس نے مشتبہ شخص کے حلیہ کا ایک اسکیچ تیار کرلیا تھا۔ اسکیچ تیار کرلینا کوئی خاص بات نہ تھی،خاص بات تو یہ تھی کہ بقول مشکوک حیدرآبادی مشتبہ شخص کی ناک ہماری ناک سے مشابہ تھی ۔ہم یہ بات خواب و خیال میں بھی نہیں سوچ سکتے تھے کہ ہم اپنی پیدائش سے لے کر آج تک جو ناک اپنے چہرے پر سجائے پھر رہے ہیں وہ کبھی کسی مشتبہ شخص کی ناک بھی ہوسکتی ہے۔ہمیں تواپنی ناک ’’ ناگ ‘‘ لگنے لگی تھی،جو وقتاً فوقتاً ہمیںڈس رہی تھی اور اس کا زہر ہم اپنے سارے جسم میں پھیلتا ہوامحسوس کررہے تھے۔
جی کیا فرمایا؟ہم خواہ مخواہ پریشان ہوگئے… جی نہیں جناب!آپ ہماری فرض شناس پولیس کو نہیں جانتے، وہ شک کی بنیاد پر کسی کو بھی گھر سے اٹھا لیتی ہے ، اور جسے وہ اٹھاتی ہے وہ دنیا سے ہی ’’ اٹھ‘‘ جاتا ہے۔ وہ ناک جو ہمیں بے حد عزیز تھی اور جس پر ہم کبھی مکھی کاتک بیٹھنا گوارانہیں کرتے تھے، آج اسی کی بدولت ہماری زندگی ’’ بیٹھتی ‘‘ہوئی محسوس ہورہی تھی۔ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ ہم اپنی ناک کا کیاکریں ؟اس ضمن میں ہم نے اپنے یار دوستوں سے مشورہ چاہا تو سبھی نے ایک آواز ہوکر کہا کہ پولیس کو پتا چلنے سے قبل ہم اپنی ناک فوراً کٹوالیں ، نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری۔ بانس اور بانسری کی حد تک تو بات ٹھیک تھی لیکن اس کا کیا کریں کہ ناک کے ’’ کٹنے‘‘ کو ہر دور میں انتہائی معیوب سمجھا جاتا رہا ہے ۔یہ الگ بات ہے کہ آج کل ایسے سیاست دانوں کی کمی نہیں جو اپنی اوچھی حرکتوں سے اپنی اونچی ناک کٹوا کر بھی سمجھتے ہیں کہ وہ ’’ ناک والے ‘‘ ہیں…
کچھ دوست جو ہم سے بلکہ ہماری ناک سے ہمدردی کا جذبہ رکھتے تھے، ہمیں پلاسٹک سرجری کے ذریعہ ناک کی ہیئت بدل لینے کا مشورہ دیا، لیکن ہم جیسے اردو کے قلمکار اپنے گھر میں پلاسٹک سے بنی اشیاتو رکھ سکتے ہیں لیکن اپنی ناک کی پلاسٹک سرجری کا سوچ بھی نہیں سکتے ہیں… ہمیں یہ خوف اندر ہی اندر کھائے جارہا تھا کہ اگر پولیس نے ہمیں مشتبہ شخص کی ناک کے ساتھ دیکھ لیا توپھر وہ کچھ ایسے حالات پیدا کرے گی کہ ہماری ’’ ناک‘‘ کے ساتھ ساتھ ہماری ساری زندگی جیل میں کٹ جائے گی ۔ پولیس کے ہاتھوں ناک کٹوالینے سے تو بہتر یہی نظر آیا کہ ہم خود خوشی خوشی اپنی ناک کٹوا لیں۔
ہم ناک کٹوانے کے جذبے سے سرشار،اپنے فیملی ڈاکٹر، ڈاکٹر انجکشن والا سے رجوع ہوئے تو وہ ہمیں دیکھتے ہی بولے: ’’ پہلے انجکشن لے لو، اس کے بعد کیفیت پوچھوں گا!‘‘
’’ ہمیں کچھ نہیں ہوا ہے ، آپ زحمت نہ کریں۔‘‘
’’ اس میں زحمت کی کیا بات ہے؟انجکشن لگانا تو میرا پیشہ ہے ۔‘‘یہ کہتے ہوئے انہوں نے اپنے دو مستنڈے قسم کے کمپاونڈرس کو اشارہ کردیا ،اشارہ پاتے ہی دیوہیکل کمپاونڈرس نے ہمیں کچھ اس طرح دبوچا کہ ہم چاہتے ہوئے بھی ان کے چنگل سے آزاد نہ ہوسکے اور ڈاکٹر انجکشن والا نے بڑے آرام سے ہمارے بازو میں انجکشن کی سوئی ٹھونس کر نکالتے ہوئے مسکرا کردریافت کیا ’’ اب بولو کیا بات ہے ؟‘‘
’’ ڈاکٹر صاحب! ہم اپنی ناک کٹوانی ہے ! ‘‘
’’تو میرے پاس کیوں چلے آئے؟‘‘
’’ پھرکہاں جائیں ؟‘‘
’’اپنی ناک تم خودبآسانی کٹوا سکتے ہو!‘‘
’’ وہ کس طرح؟‘‘
’’آج کل کی اولاد بڑی نافرمان واقع ہوئی ہے، اپنے کسی لڑکے سے کہو کہ وہ کسی راہ چلتی لڑکی کو چھیڑ دے، یاکہیں ڈاکہ ڈالے،تمہاری ناک خود بخود کٹ جائے گی۔ نہ کسی سرجری کی ضرورت اور نہ کوئی فیس ، بڑا ہی سستا سودا ہے۔‘‘ اور پھر قدرے توقف سے ڈاکٹر انجکشن والا بولے ’’ یہ تو کہو کہ ناک کٹوانے کی نوبت کیوں آئی؟‘‘
’’دراصل ڈاکٹر صاحب!ہماری ناک ہماری بستی میں ہوئی چوری کے مشتبہ شخص کے اسکیچ سے ملتی جلتی ہے ۔‘‘ ہم نے سرگوشی کی۔
’’ تو اس میں پریشانی کی کیا بات ہے؟‘‘
’’ ارے یہی توپریشانی ہے ، ہماری پولیس کس قدر فرض شناس ہے ،یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے ۔ وہ بنا کسی ثبوت کے کسی کی بھی ناک کاٹ سکتی ہے تو پھر ہماری ناک تو کسی مشتبہ شخص کی ناک سے مشابہ ہے، وہ ہمیںہرگز نہیں بخشے گی۔‘‘
’’ ناک کٹوانے سے بہتر ہے کہ تم ’’ نکلو نہ بے نقاب‘‘
’’ یعنی ہم باقاعدہ برقعے کا استعمال شروع کر دیں ؟‘‘
’’جی نہیں!تم صرف اسکارف استعمال کرو جسے حرف عام میں ’’ماسک‘‘ بھی کہاجاتا ہے۔ ‘‘
’’ ٹھیک ہے ،آپ کا مشورہ ہمیں پسند آیا۔‘‘
ہم نے ڈاکٹر انجکشن والا کا شکریہ ادا کیا اور کلینک سے نکل پڑے۔
گھر کی راہ لیتے ہوئے ہم نے احتیاطاً اپنی ناک پر دستی رکھ دی اور سوچنے لگے کہ کاش ہم اپنی ناک کو دستی میں لپیٹ کر جیب میں رکھ سکتے!
بس میں سوار ہوئے تو اسے شومئی قسمت کہیے یا شامت اعمال کے ہم جس نشست پرجاکر بیٹھے تھے ، اس کی بغل والی نشست پر خوفناک چہرے والا پولیس کانسٹبل براجمان تھا۔ہم نے گھبرا کراٹھنا چاہا تو اس نے ہمارا ہاتھ پکڑ کر بٹھا لیا اور کہا ’’ کہاں جاؤگے، صرف یہی ایک نشست خالی ہے۔‘‘
ہم نے ہونقوں کی طرح اِدھر اُدھر نظریں دوڑائیں تو کوئی نشست خالی نظرنہ آئی، چنانچہ مجبوراً ہمیں پولیس کانسٹبل کے قریب بیٹھنا ہی پڑا۔
’’ پتا نہیں لوگ پولیس سے ڈرتے کیوں ہیں؟‘‘
پولیس کانسٹبل نے مسکرا کر ہماری جانب دیکھتے ہوئے استفسار کیا۔
’’ کچھ لوگوں سے ڈرنا پڑتا ہے؟‘‘
’’کیامطلب ؟‘‘
’’ کچھ بھی نہیں !‘‘ ہم نے پولیس کانسٹبل کے مختصرسے سوال کا مختصر سا جواب دیا اور قدرے توقف سے ہی ہی کرتے ہوئے ہم نے کہا ’’ہمیں بے مطلب باتیں کرنے کی عادت ہے ۔‘‘
پولیس کانسٹبل نے ہمیں گھورکر سوال کیا:’’ تم نے اپنی ناک کو دستی سے کیوں چھپا رکھا ہے؟‘‘
’’ ہمیں اپنی ناک سے نفرت ہے ۔‘‘
’’ اچھا!‘‘ پولیس کانسٹبل ہمارے انکشاف پر زور سے ہنسا۔
’’ ناک سے کیوں نفرت ہے؟وہ بیچاری تو چپ چاپ پڑی رہتی ہے۔ اگر تم اپنے ضمیر سے نفرت کرتے تو بات سمجھ میں آ سکتی تھی۔‘‘
’’ ضمیر سے کیوں نفرت کریں؟‘‘ہم نے سوال دے مارا۔
’’ وہ انسان کو چین سے بیٹھنے نہیں دیتا، بار بار جھنجھوڑتا رہتا ہے ،لیکن میں نے بھی سالے کا اس بیدردی سے گلا گھونٹ دیا ہے کہ اب مجھے اس کی کوئی آواز سنائی نہیں دیتی۔‘‘پولیس کانسٹبل نے فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا ۔
دریں اثنا کسی مسافر کے موبائل پر ’’ نہ منہ چھپا کے جیو اور نہ سر جھکا کے جیو،غموں کا دور بھی آئے تو مسکرا کے جیو ‘‘ کاجادوئی نغمہ بج اٹھا …اس نغمے نے ہمیں ایسا حوصلہ بخشا کہ ہم نے فوری اپنے چہرے سے دستی ہٹا ئی اور سوچنے لگے کہ ہمارے ملک کے نیتا ملک کے سادہ لوح عوام کو دھوکے پر دھوکا دے کر بھی منہ نہیں چھپاتے ہیں تو ہم بنا کچھ کیے اپنا منہ کیوں چھپا رہے ہیں ؟
وزیراعظم مودی نے 2014ء کے انتخابات جیتنے سے پہلے وعدوں کی جھڑی لگا دی تھی …ان کے دل خوش کن وعدوں میں سے ایک وعدہ گجرات میں اسمارٹ سٹی بنانے کا بھی ہے…ایک موقع پروزیراعظم نے جھوم جھوم کر کہا تھا :
’’ ہم احمد آباد سے 80کلو میٹر دور سمندری ساحلی کے قریب ایک نیا شہر بنارہے ہیں، جہاں ساری سہولتیں حاصل ہوں گی ۔(اور پھرمودی جی نے خود اپنے منہ میاںمٹھو بنتے ہوئے کہا تھا )میرے اسکیل اور اسپیڈ کا معاملہ تو سب جانتے ہیں …تومترو ! ہزاروں سال کے بعد جو دلی آج ہے اس کی جو سائز ہے ، ہمارا جو نیا شہر ڈھولیرا بنے گا، اس کی سائز دلی سے ڈبل ہے جب کہ شنگھائی سے چھ گناہ زیادہ ہمارا ڈھولیرا بننے والا ہے ۔ ‘‘
مودی جی نے نئے شہر سے متعلق ایسے جادوئی جملے کہے کہ جنہیں سن کر سننے والوں کے کان ہی نہیں دل بھی خوش ہوجائیں لیکن جولوگ ڈھولیرا کی حقیقت سے واقف تھے وہ ہنس ہنس کر بے ہوش ہوگئے اور سنا ہے کہ بیچارے آج تک ہوش میں نہیں آئے…
مودی جی کے نئے شہر ڈھولیرا کی حقیقت یہ ہے کہ وہ محض 900اسکوائر کلو میٹر سے زیادہ نہیں ،جب کہ دلی 1400اسکوائر کلو میٹر پر محیط ہے اور شنگھائی 6,340اسکوائر کلو میٹر پر مشتمل ہے ۔ جس ڈھولیرا سے متعلق مودی جی نے کہا کہ وہ دلی سے دگنا ہوگا ، خود دلی شہر ڈھولیرا سے دگنا ہے اورجس ڈھولیرا کو مودی جی شنگھائی سے چھ گنا زیادہ بڑا کہہ گئے ، شنگھائی خود ڈھولیرا سے سات گنا بڑا ہے ، 2.7بلین ڈالر خرچ کرتے ہوئے 22گاوؤں کو ضم کرکے ڈھولیرا بنانے کا منصوبہ تھا…لیکن جس ڈھولیرا کا ڈھول پیٹ پیٹ کر بتایا گیا تھا کہ یہ اسمارٹ سٹی ہوگا،اس کا ڈھول اب پھٹ چکا ہے …یعنی معاملہ ٹائیں ٹائیں فش ہوگیا ہے۔
کتنی عجیب بات ہے کہ فی زمانہ سیاست داں اپنے ساتھ دیش کی ناک بھی مسلسل کاٹ رہے ہیں لیکن کہتے ہیں کہ ہم نے دیش کی ناک کو اونچا کیا ہے …
۰۰۰٭٭٭۰۰۰

تبصرہ کریں

Back to top button