باحجاب طالبات کو کلاس روم سے باہر بھیج دیا گیا، کرناٹک سرکاری کالج میں تنازعہ جاری

یکم فروری کو ورلڈ حجاب ڈے کے طورپر منایا جاتا ہے۔ احتجاجی طالبات میں ایک عالیہ اسدی نے اپنے سوشیل میڈیا پلیٹ فارم پر کہا کہ احتجاجی لڑکیاں‘ باحجاب کالج آئیں گی جو اُن کا مذہبی اور دستوری حق ہے۔

اُڈپی(کرناٹک): گورنمنٹ گرلس پری یونیورسٹی کالج اُڈپی کی احتجاجی طالباتن کو جو باحجاب اپنی جماعت میں آئیں‘ منگل کے دن کلاس رومس سے باہر بھیج دیا گیا۔ کالج احاطہ میں میڈیا کا داخلہ ممنوع کردیا گیا اور سیکوریٹی بڑھادی گئی تاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔ حکومت کرناٹک نے حال میں احکام جاری کئے تھے کہ یونیفارم کے ساتھ حجاب کی اجازت دینے کے تعلق سے اعلیٰ سطح کی کمیٹی کی رپورٹ آنے تک کالج میں جوں کا توں موقف برقرار رکھا جائے۔

 یکم  فروری کو ورلڈ حجاب ڈے کے طورپر منایا جاتا ہے۔ احتجاجی طالبات میں ایک عالیہ اسدی نے اپنے سوشیل میڈیا پلیٹ فارم پر کہا کہ احتجاجی لڑکیاں‘ باحجاب کالج آئیں گی جو اُن کا مذہبی اور دستوری حق ہے۔ کالج ٹیکس کے پیسوں سے چل رہا ہے جو ہم دیتے ہیں۔ کسی کی مداخلت کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ہماری منصفانہ لڑائی‘ دھمکیوں سے درکنار نہیں ہوگی۔

 بی جے پی رکن اسمبلی رگھوپتی بھات نے قبل ازیں کہا تھا کہ پولیس کو معاملہ کی اطلاع دے دی گئی اور باہر کے کسی بھی آدمی کو بشمول مسلم‘ ہندو تنظیموں کے ارکان کو کیمپس میں آنے نہیں دیا جائے گا کیونکہ حجاب تنازعہ نے کالج میں پڑھنے والے ایک ہزار طلبا کے تعلیمی کیرئیر کو جوکھم میں ڈال دیا ہے۔ طالبات کو امتحان کی تیاری کرنی ہے جو 2 ماہ میں ہونے والا ہے۔

 ایک احتجاجی طالبہ ریشم فاروق‘ راحت کے لئے ریاستی ہائی کورٹ سے رجوع ہوئی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ دستورِ ہند کے آرٹیکل 14  اور 25 کے تحت حجاب بنیادی حق ہے۔ اس نے باحجاب طالبان کو جماعتوں میں شرکت کے لئے عبوری راحت چاہی ہے۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button